اقبال اورجناح کے درمیان اختلافات

yasir-latif-hamdani

علامہ اقبال کو ایک نہایت کمپلیکس انسان قرار دینا آدھا سچ بولنے کے مترادف ہے۔جس طرح کے  شاعر، فلسفی، اور سیاسی مفکر وہ تھے، اس لحاظ سے وہ اپنے نظریات اور سیاسی خیالات میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی لاتے تھے۔

بعض اوقات علامہ اقبال ایک  مسلمان ماڈرنسٹ  کی حیثیت سے جانے جاتے۔ مثال کے طور پر سیکولر ترکی جمہوریہ کے قیام تنقیدکرتےہوئے انہوں نے اسے اسلامی تاریخ کا ناپسندیدہ واقعہ قرار دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک مسلمان ریفارمر اور ناقابل تسخیر اسلامسٹ تھے   جو تھیولاجیکل اتحاد اور مسلمان کمیونٹی  کی پاکیزگی پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی زندگی کے اختتامی سالوں میں احمدی مذہب کے بارے میں خیالات اس نظریہ کی عکاسی کرتے ہیں۔ اقبال کی شاعری میں ان کی اسلامی  تعلیمات سے مکمل واقفیت کی عدم موجودگی واضح نظر آتی ہے۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ہم اقبال کو سوشل اور میٹیریل حالات کے مطابق جانچنے کی کوشش کریں۔ مرزا غالب مسلمانوں کی سیاسی زوال کے شاعر تھے  اور دہلی میں مسلمانوں کی گرتی ہوئی سیاسی طاقت کے ترجمان  تھے۔

 اقبال مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی سیاسی قوم کے ترجمان تھے  اور مسلمان مڈل کلاس کی رہنمائی کرتے تھے۔ ان کی اہم نظمیں جن میں شکوہ، اور جواب شکوہ شامل ہیں  علامہ اقبال کی ابتدائی عمر کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی سیاسی قوت کا زوال بہت سے ماڈرنسٹ مسلمانوں  کا بنیادی نظریہ تھا جن میں خاص طور پر سر سید احمد خان بھی شامل تھے۔ اس اہم دور میں ایک اہم تھیم چوری کے بارے میں تھا جس کے مطابق یہ خیال زور پکڑ رہا تھا کہ مغرب نے مسلمانوں سے ان کی عظمت اور ترقی کے اثاثے چوری کر لیے ہیں۔ اس شکایت کا جواب دیتے ہوئے اقبال نے اس تھیم پر تفصیلی روشنی دالی۔ ان کا جواب سر سید احمد خان کے خیال سے بلکل مختلف تھا۔

سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو مغربی تعلیمات سے اپنے آپ کو آراستہ کرنے کی نصیحت کی جب کہ اقبال مسلمانوں کی ناکامی قرانی تعلیمات سے دوری کو قرار دیتے تھے۔ ان کے مطابق مغربی اقوام نے پہلے سے ہی قرانی تعلیمات پر عمل شروع کر دیا ہے۔ وہ مسلمانوں کی مغربی معاشرے کی اقدار کی تقلید کو بھی نشانہ بناتے اور بتاتے کہ مسلمان عیسائیوں اور یہودیوں جیسے لباس پہننے لگے ہیں جب کہ  یہودی اور عیسائی  قرآنی تعلیمات کے ساتھ جڑنے کی کوشش میں ہیں۔ مسلمانوں کی شناخت کے بارے میں اقبال کر ابتدائی نقطہ نظر عمومی تھا نہ کہ خصوصی۔

ا س سے اقبال کی احمدی کمیونٹی کے ساتھ قریبی تعلقات اور مرزا غلام احمد کی تعریف کی وجہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ مرزا غلام قادیانی ہی احمدی فرقے کے بانی تھے۔ وہ احمدیت سے اس قدر متاثر تھے کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اقبال نے احمدیت مذہب قبول کر لیا ہے۔ 1930 کی دہائی میں علامہ اقبال کی سوچ میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی۔ اقبال نے احمدیوں کی علیحدہ شناخت کا مطالبہ کیا۔ اپنے ایک مضمون 'اسلام اور احمدیت' میں اقبال نے اپنی بے چینی کا واضح اظہار کیا  اور احمدیت کی طرف سے اسلام کو درپیش خطرات پر روشنی ڈالی۔

اسی دور میں 'چوری' کا مسئلہ موضوع گفتگو بنا۔ اقبال نے کہا کہ ختم نبوت پر یقین ہی مسلمانوں کو اتحاد میں پرو سکتا ہے  اور احمدی ختم نبوت پر یقین نہ رکھنے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے ایک نیا فتنہ کھڑا کر سکتے ہیں۔

 اس کے ساتھ ساتھ  اقبال مذہبی برداشت کا درس دیتے ہوئے عدم برداشت کو مختلف مذہبی کمیونٹیز کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اقبال مکمل طور پر مذہبی آزادی کے مخالف نظر آتے ہیں۔ اس لیے ماڈرن مورخین کو اقبال کے نظریات اور جناح کے ویژن کے درمیان مسلمانوں کے اتحاد اور مذہبی آزادی کے معاملے میں فرق کو سمجھنا چاہیے۔آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنما کی حیثیت سے کبھی بھی جناح نے احمدیوں کو تحریک سے دور رہنے کی تجویز نہیں دی۔ اقبال کے مسلم اتحاد کے نظریہ کے برعکس جناح کا خیال تھا کہ جو شخص بھی مسلمان ہے اسے مسلم لیگ میں شمولیت کی مکمل آزادی ہے۔

یہ معاملہ پنجاب کے کچھ علاقوں میں اختلاف کا باعث بنا جب پنجاب مسلم لیگ کے لوگوں نےمطالبہ کیا کہ احمدیوں کو پارٹی سے نکال دیا جائے کیونکہ احمدی کسی صورت مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ اسی دوران پرو کانگریس اسلامی پارٹیوں نے جن میں مجلس احرار اور جمعیت علمائے ہند نے جناح پر تنقید شروع کی کہ وہ مسلم لیگ میں احمدیوں کو شامل کیوں کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود جناح نے اپنی پوزیشن نہیں بدلی  اور اس طرح کے نظریات کو مسلم کمیونٹی کے لیے خطرناک قرار دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جناح ریاست کو مذہبی معاملات سے دور رکھنا چاہتے تھے جو کہ اقبال کے مطابق ایک بڑا اہم مسئلہ تھا۔

تحریک پاکستان کے مکمل دور میں قائد اعظم محمد علی جناح مذہبی آزادی کا پرچار کرتے رہے اور 14 اگست 1947 کو انہوں نےاپنی پالیسی ایک بار پھر واضح طریقے سے بیان کی۔ جناح کو سیاسی ڈسکورس میں تھیولوجیکل مسائل کی مداخلت کی پریشانی ہر وقت رہتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ کون مسلمان ہے کون نہیں کا مسئلہ ایک نیا پنڈورا باکس کھلنے کا باعث بنے گا ۔ اس لیے جناح اقبال سے اختلاف کے معاملوں میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے بھی علامہ اقبال کو بہت سلیکٹو طریقے سے استعمال کیا۔ انہوں نے الہ آباد کے 1930 کے خطبے کو پاکستان کی بنیاد قرار دیا۔

علامہ اقبال نے جناح کو 1936 اور 1937 میں خطوط لکھ کر نارتھ ویسٹ انڈیا کے  مسلمانوں کی رہنمائی کی ترغیب دی  اور ہندوستان کے بقیہ علاقوں کی اقلیتوں کو نظر انداز کرنے کا مشورہ دیا۔ کسی بھی موقع پر جناح مسلمانوں کے لیڈر کے طور پر اقبال کے پسندیدہ چائس نہیں رہے۔ انگلینڈ میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں دونوں رہنماوں نے نظریں نہیں ملائیں۔ ظاہری طور پر اقبال کی زندگی کے آخری لمحات تک قائد اور اقبال کے تعلقات اتنے مضبوط نہیں تھے۔ اپنے آخری دنوں میں اقبال نے نہرو کو کہا: تمہارے اور جناح میں کوئی چیز مشترکہ نہیں ہے۔ وہ ایک سیاستدان ہیں اور تم ایک محب وطن ہو۔ نہرو نے اقبال کا یہ بیان اپنی کتاب 'ڈسکوری آف انڈیا ' میں نقل کیا ہے۔

 اقبال اور جناح کے بیچ کے اختلافات ان لوگوں نے دبا دیے جو یہ نظریہ پیش کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان اقبال اور جناح نے مل کر بنایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقبال نے جناح کو پاکستان میں تحریک میں بہت پہلے شکست دے دی تھی۔ آج کا پاکستان اقبال کے نظریہ کا پاکستان ہے جو ایک مذہبی ریاست ہے۔ جناح اس طرح کی ریاست کے قیام کے خلاف تھے اور ہر طرح کی مذہبی آزادی یقینی بنانا چاہتے تھے۔ اس کا الزام جناح پر ہی آتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے علامہ اقبال سے اپنے اختلافات کا کھل کر اظہار نہیں کیا ۔ 

source:http://blogs.tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *