کشمیر کا کھلا دروازہ

سجاد میرsajjad mir

ہم امن کے نعرے گاتے جا رہے ہیں، دوسری طرف طبل جنگ بجتا سنائی دیتا ہے۔
یہ میں کوئی مبالغہ نہیں کررہا، اگر سرتاج عزیز جیسا ٹھنڈا ٹھار شخص بھی ذرا بھڑکتا دکھائی دے تو سمجھ لو خرابی کتنی زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم نے کشمیر کے مسئلے کو اپنے کرتوتوں سے خراب کیا ہے۔ کئی مواقع آئے جب پالیسی نہ بدلی جاتی تو کشمیر کا مسئلہ فطری انداز میں حل ہو چکا ہوتا۔ مثال کے طور پر ایک وقت ایسا آیا کہ پاکستان کے کم از کم دو وزرائے اعظم نے اپنے حلیفوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ بھارت کے وزرائے اعظم کشمیر کا تنازع طے کرنے کے لئے تیار ہیں۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ وہ لداخ اور جموں پر بات نہیں کریں گے۔ مطلب یہ کہ وہ وادی کشمیر کے بارے میں کوئی سمجھوتہ چاہتے تھے۔ کیوں چاہتے تھے اس لئے کہ کشمیر ان کے کنٹرول میں نہیں تھا اور ساتھ ہی پنجاب میں خالصتان کی تحریک زور پکڑ گئی تھی۔ ہم نے کشمیر کے ساتھ جو کیا سو کیا، خالصتان کے معاملے پر بھی حد کر دی۔ بعد میں بے نظیر آن ریکارڈ ہے کہ انہوں نے بھارت کو خالصتان کا مسئلہ حل کرنے میں مدد دی تھی۔ دراصل کشمیر کی آزادی کی کنجی ان دنوں خالصتان ہی سے ہو کر جاتی تھی۔
پتا نہیں ہم کیا لوگ ہیں، افغانستان میں ہم نے جو کچھ کیا، وہ الگ قصہ ہے۔ بہت سی قربانیاں بھی دیں، بعد میں ساری نیک نامی غارت کر کے بدنامی کو گلے لگایا، کشمیرتو ہمارا اپنا مسئلہ تھا۔ وہاں بھی ہم نے کم نہیں کی، کشمیریوں نے کتنے مشکل حالات میں پاکستان کی طرف نظریں لگائے رکھیں، ہم انہیں وقفے وقفے سے مایوس کرتے رہے۔ ایک زمانہ آیا جب نوابزادہ نصراللہ ہماری کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے۔ وہ اس حیثیت سے غیر ملکی دورے پر نکلے۔ اپنے دوست ملک ترکی پہنچے، وہاں کے وزیر خارجہ نے دوستانہ بے تکلفی سے بتایا کہ آپ اتنے دنوں بعد آئے ہیں کہ ہم بھی بھول بھال چکے ہیں کہ یہ مسئلہ تھا کیا۔ اپنی فائلیں نکالتے ہیں اور دیکھتے ہیں، ہم آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ مشرف کا اس ملک پر سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس نے نہ صرف پاکستان کو افغان سرحد پر ایسی غیر ملکی لڑائی میں جھونک دیا جس نے ہمارے کڑاکے نکال دیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے کشمیر کے مسئلے پر روایتی موقف سے اس طرح کھلے عام دستبرداری اختیار کی کہ ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔ کشمیری بھی حیران تھے کہ یہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ گزشتہ 25برس سے جب کشمیر میں آزادی کی ایک نئی تحریک چلی ہے، کئی بار ایسے موڑ آئے کہ بھارت کی ہمت بھی جواب دے گئی ،تاہم وہ کھلے عام اپنے مو¿قف سے ایک انچ نہ ہٹا۔ وہ نئی طاقت سے پاکستان پر حملہ آور ہوتا رہا۔ اب اس کے ہاتھ میں دو نئے ہتھیار آ گئے تھے۔ ایک تو ممبئی سانحے کے بعد دہشت گردی کا عَلم اور دوسرا دریائی پانی پر کنٹرول کی جنگ۔ بھارت دونوں کو پاکستان کے خلاف بڑی پامردی سے استعمال کر رہا ہے۔ لگتا یوں ہے کہ حکومت پاکستان خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے، موجودہ ہی نہیں اس سے پہلی بھی اور اس سے پہلی تو اس پالیسی کی بانی تھی۔ ہم ایک لفظ بھی منہ سے نکالتے کانپتے ہیں کہ بھارت ہی نہیں عالمی طاقتیں بھی ہم سے ناراض نہ ہو جائیں۔
اس پوری چکربازی میں ہم نے کیا حاصل کیا؟ کھویا ہی کھویا ہے۔ یہ جو ہمارے سرتاج عزیز ہیں، یہ تو ہر معاملے میں سراپا احتیاط ہیں۔ بنگلہ دیش میں ملا عبدالقادر کی پھانسی پر بھی انہوں نے اسے بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔ ذرا تحقیق کر لیجئے، ان کا پورا زور بھارت اور امریکہ کے حوالے سے حددرجہ احتیاط برتنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ دنیا کہہ رہی ہے کہ آپ کشمیر کیا لیں گے، بھارت آپ کے پانیوں پر قبضہ کر کے آپ کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔ آپ اس پر بھی ازراہِ احتیاط حماقت پر حماقت کئے جا رہے ہیں۔
ایک ایسے مشیر خارجہ اور قومی امور کے سربراہ کا بالآخر یہ کہہ دینا کہ بھارت کشمیر کے مسئلے کو اپنے انداز میں طے کرنا چاہتا ہے اور ہم اسے ایسا نہیں کرنے دیں گے، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پانی سر سے گزر چکا ہے۔ مودی کے بارے میں تاثر تھا کہ وہ کارپوریٹ سیکٹر کا نمائندہ ہے، پاکستان سے دوستی اس کی مجبوری ہو گی۔ یہ پاکستان دشمنی اور ہندواتا اس کے سیاسی نعرے ہیں، حالات نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں ہے۔ ایسی خبریں آئی تھیں کہ مودی نے اول روز ہی سے کشمیرکے مسئلے کو اپنے انداز میں حل کرنے کے لئے متعلقہ محکموں کوحکمت عملی بنانے کی ہدایت کر دی تھی۔
جب لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو اس وقت بھی سرتاج عزیز نے اتنا تو کہا تھا کہ یہ سب ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے۔ جانے پاکستان کے بارے میں کیا کیا سکرپٹ ہیں اور کہاں کہاں تیار ہوتے ہیں۔ بھارت نے اگر کشمیر میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم کر کے کارروائیاں شروع کی ہیں تو اس کا ضرور مطلب ہو گا۔ اب اس نے وادی میں انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔ وہاں کانگرس کی حکومت ہے، اسے ختم کرنا مقصود ہے۔ یہ انتخابات مودی کی بے وقوفی بھی ہو سکتے ہیں، اگر ہم نے اس صورتحال کا عقل سے مقابلہ کیا۔ ہم ماضی میں بہت کچھ کرتے رہے ہیں، ان میں بہادری کا مظاہرہ بھی تھا اور ہو سکتا ہے ہماری بے وقوفیاں بھی اس میں شامل رہی ہیں اور اس میں کوئی شک نہ کرے۔ ہم کشمیر کی خاطر جان پر بھی کھیلے ہیں اور ہم نے کشمیریوں کو ان کے حال پر بھی چھوڑ دیا ہے وہ بھارت کا یوم جمہوریہ، یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں۔ اپنی گھڑیوں کا وقت پاکستانی وقت کے مطابق کر لیتے ہیں۔ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی پرچم لہراتے ہیں۔ انہوں نے مسلح جنگ بھی لڑی ہے اور انتفادہ قسم کی پرامن جدوجہد بھی کی۔ نصف ملین سے زیادہ فوج سنگین تانے ان کے سر پر مسلط ہے وہ ایک غیر معمولی حالات میں جینے والے لوگ ہیں۔
آہ، یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ سبحان اللہ۔ وہ جنتی لوگ ہیں، مگر ہم کیوں دوزخ کما رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مودی نے اگر انتہا پسندانہ طریقہ کار اختیار کیا اور بجبر کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچلنا چاہا تو اس کی بھارت کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اس کا مگر ہمیں بھی علم ہونا چاہئے کہ کشمیر کی قسمت کشمیریوں کے ہاتھ میں ہے، ہمارے ہاتھ میں نہیں جب تک ہم اس بنیادی نکتے کا ادراک نہیں کر لیتے، ہمیں کشمیر کے مسئلے کا بھی ادراک نہیں ہو سکتا۔ مودی کی حماقتوں سے کشمیر میں تحریک آزادی کے ایک نئے دور کا آغا زہو سکتا ہے۔ ایسی صورت پیدا ہو سکتی ہے کہ کشمیر کبھی کسی صورت بھارت کے قابو میں نہ رکھا جا سکے۔ ایسے میں تاریخ ہم سے اپنے کردار کی وضاحت طلب کر رہی ہے۔ بھارت سے دوستی کی نغمے گا کر اور امن کی مالا جپ جپ کر نہ بھارت سے دوستی ہو سکتی ہے نہ کشمیر کا مسئلہ حل ہ وسکتا ہے، زیادہ درست لفظوں میں نہ برصغیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ان دنوں امریکہ کی طرف سے بھی بیان آیا ہے کہ بھارت نے عالمی طاقت بننا ہے تو ہمسایوں سے اپنے مسائل حل کرے۔ مودی کی حکمت عملی جو بھی ہو یہ دنیا میں اپنے مخالف پیدا کر سکتی ہے اور یہی ہمارے لئے کئی راستے کھول سکتے ہیں۔
ایک داستان سنتے جایئے جو میں نے ابھی ابھی پڑھی ہے۔ حضرت حسن بصری نے بلند آواز میں فرمایا: لوگو! اس کے دروازہ کو کھٹکھٹاتے رہو، دروازہ ضرور کھلتا ہے۔ ایک بڑھیا نے جب سنا تو بولی، اے حسن! کیا اللہ کا دروازہ بند بھی ہوتا ہے۔ حضرت حسن بصری بڑھیا کی بات سن کر حسن بصری غش کھا گئے اور بولے: اے اللہ یہ بڑھیا تجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہے۔
سو، یاد رکھیئے کہ دروازہ کھلا ہے، کبھی بند نہیں ہوا، مگر آپ کھٹکھٹائیں تو سہی۔ وہاں جائیں تو سہی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *