یکم جنوری کو پڑھنے والی کتاب

بندہ جتنا موٹیویٹڈ یکم جنوری کو ہوتا ہے اتنا سال کے کسی دن نہیں ہوتا، اِس دن ہم خود سے ایسے ایسے وعدے کرتے ہیں کہ جن پر عمل کرنے کی صورت میں بندہ سِکس ملین ڈالر مین بن جائے مگر افسوس کہ یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوتا۔

لہذا اِس مرتبہ میں نے سوچا ہے کہ کیوں نہ ایک مختلف تجربہ کیا جائے اور نئے برس کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ ہم نے گزرے ہوئے سال میں کیا حاصل کیا؟

جب ہم یہ لفظ کہتے ہیں کہ ہم نے کیا حاصل کیا تو لا محالہ ہمارا مطلب ہوتا ہے کہ ملازمت میں کتنی ترقی کی، کاروبار کتنا پھیلا، بینک اکاؤنٹ میں کتنا اضافہ ہوا، نیا گھر، نئی گاڑی خریدی یا نہیں، وغیرہ۔

یہ تمام باتیں اپنی جگہ اہم ہیں مگر زندگی کا اصل سوال یہ نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کو اُن کی زندگی بہتر بنانے میں مدد کی، یہ ہے وہ پیمانہ جس پر ہم نے زندگی کو پرکھنا ہے پھر معلوم ہوگا کہ آیا ہم ایک بامعنی زندگی گزار رہے ہیں یا کسی روبوٹ کی طرح میکانکی!

زندگی کو اِس انداز میں ماپنے کی بات کوئی نئی نہیں، یونانی فلسفیوں کا یہ محبوب موضوع تھا اور انہوں نے اِس پر بےحد دلچسپ مضامین لکھے ہیں، لیکن جدید لکھاریوں میں سے جس شخص نے یہ کام نہایت مربوط انداز میں پیش کیا ہے اُس کا نام Clayton Christensenہے،

2012میں اِس نے ایک کتاب لکھی How will you Measure your Lifeجس میں کرسٹنسن نے کچھ اصول بیان کیے جن کی بنیاد پر ہمیں اپنی زندگی کو پرکھنا چاہئے۔

کرسٹنسن کہتا ہے کہ ہم سب ہی اپنی زندگیوں میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن حقیقی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی کچھ اقدار ہوں جن سے جڑے رہنے کا آپ عزم کریں اور کسی نظریے کے ساتھ کھڑے ہوں۔

’’میں اِس بات کو کیسے یقینی بنا سکتا ہوں کہ میں اپنے کیرئیر میں کامیاب اور مطمئن بھی رہوں، میرے کنبے اور دوستوں سے تعلقات ہمیشہ خوشی کا باعث ہی بنیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہ میں ایک ایماندارانہ زندگی گزاروں؟‘‘

کرسٹنسن کہتا ہے کہ بظاہر یہ سوالات بہت سادہ نوعیت کے ہیں مگر شاذو نادر ہی ہم اپنے آپ سے اِس قسم کے سوالات پوچھتے ہیں اور اگر پوچھتے بھی ہیں تو بہت جلد فراموش کر بیٹھتے ہیں،

مثلاً بہت سے لوگ ایسی جاب کرتے ہیں جو انہیں پسند نہیں ہوتی مگر وہ خود کو یہ کہہ کر تسلیٰ دیتے ہیں کہ یہ کام انہوں نے فقط چند برس کرنا ہے اور پھر چھوڑ دینا ہے، ہر سال وہ یہ عہد کرتے ہیں مگر وہ وقت کبھی نہیں آتا!

کرسٹنسن کی خوبی یہ ہے کہ اُس نے صرف مسئلے کی نشاندہی نہیں کی بلکہ اس کا نہایت آسان اور دلچسپ حل بھی بتایا ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرو اور وہ سوال ہے What would have to prove true for this to work? (میں نے ترجمہ کرنا اِس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں مقصد فوت نہ ہو جائے)۔

مثلاً اگر آپ کوئی کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو کوئی مفروضہ خود سے طے کرنے کے بجائے اِس سوال کا جواب تلاش کریں، اگر آپ کوئی کام کرنا چاہتے ہیں جس سے آپ کو محبت ہو تو اُس کام کا انتخاب کرنے سے پہلے خود سے یہ سوال پوچھیں اور اگر آپ کے ذاتی تعلقات میں بگاڑ ہے تو اس کی وجہ جاننے کے لیے بھی یہی سوال دہرائیں اور دیکھیں کہ کیا جواب آتا ہے، شرط فقط دیانت داری سے اپنا محاسبہ کرنا ہے۔

مثلاً کوئی بھی نیا کاروبار شروع کرتے ہوئے عموماً لوگ کچھ باتوں کو فرض کر لیتے ہیں جبکہ انہیں سوچنا صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر میں اِس پراڈکٹ کا خریدار ہوں تو کیا چاہوں گا، اِس ایک سوال کے جواب میں کاروبار کی کامیابی یا ناکامی پوشیدہ ہوتی ہے۔

من پسند ملازمت کے سلسلے میں کرسٹنسن اپنی ایک شاگرد کی مثال دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اُس نے یہ سوچ کر ایک کمپنی میں ملازمت اختیار کی کہ اسے پسماندہ ممالک میں کام کرنے کا موقع ملے گا مگر ایسا نہ ہوا کیونکہ اُس نے یہ دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی تھی کہ کمپنی کا کوئی پراجیکٹ کسی غریب ملک میں چل بھی رہا تھا یا نہیں، اگر وہ محض اسی سوال کا تعاقب کرتی تو کبھی اُس کمپنی میں درخواست ہی نہ ڈالتی۔ یہی کلیہ تعلقات بہتر بنانے کے لیے بھی تیر بہدف ہے،

میاں بیوی، رشتہ داروں اور دوستوں کے تعلقات میں بگاڑ اُس وقت آتا ہے جب ہم مفروضوں کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں، مثلاً کرسٹنسن کہتا ہے کہ ایک شوہر جب شام کو گھر واپس آتا ہے تو یہ فرض کر لیتا ہے کہ بیوی کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹانے سے ممکن ہے وہ خوش ہو جائے مگر یہ فرض کرنے کے بجائے اُس سے پوچھنا بہتر ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے، وہی سوال یہاں بھی کام آئے گا، What would have to prove true for this to work?۔

یکم جنوری کو اگر آپ کوئی کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ یہ کتاب ہے، کرسٹنسن کہتا ہے کہ ہم ملازمت میں ترقی کے پیچھے بھاگتے ہیں ہمیں ترقی مل جاتی ہے، پیسا بنانا چاہتے ہوں تو کما لیتے ہیں مگر غلطی اِس میں یہ کرتے ہیں کہ بعض دوسرے اہم کاموں پر توانائی صرف نہیں کرتے کیونکہ وہ کام فوری طور پر نتیجہ خیز نہیں ہوتے،

مثلاً بچوں کی پرورش پر ہم اتنا وقت نہیں لگاتے جتنا اپنے کاروبار یا ملازمت کو دیتے ہیں اور یہ ایک بڑی غلطی ہے جو ہم سب کرتے ہیں۔ اسی طرح کبھی کبھی ہم جانتے بوجھتے ہوئے کوئی ایسا کام کر جاتے ہیں جو بظاہر بہت معمولی ہوتا ہے مگر ہماری دیانت داری سے میل نہیں کھاتا،

اُس وقت ہمیں احساس نہیں ہوتا اور ہم خود کو یہ تسلیٰ دیتے ہیں کہ ایک آدھ مرتبہ کی خیر ہے، مگر ایسا نہیں ہوتا اور ہم اُس گھن چکر میں پھنس جاتے ہیں، جیسے کسی اتھلیٹ کا دوڑ کے مقابلے میں ’’ایک مرتبہ‘‘ ممنوعہ ادویات کا استعمال،

اِس قسم کے ’’چھوٹے موٹے‘‘ فیصلے بظاہر نقصان دہ نہیں لگتے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کا حجم اور قیمت بڑھتی جاتی ہے اور پھر عین ممکن ہے آپ اس قسم کے آدمی بن جائیں جو آپ نے کبھی نہیں چاہا تھا۔

کرسٹنسن کی کتاب کو اگر ایک جملے میں سمونے کی کوشش کی جائے تو کچھ ایسا ہوگا کہ زندگی کا حتمی مقصد ہمیشہ غیر مادی ہی رہے گا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *