سبط حسن سے اختلاف، احترام کے ساتھ

Muhammad Asif
سبطِ حسن لکھتے ہیں
تھیوکریسی ریاست کی وہ قسم ہے جس میں حکومت کےقوانین احکامِ خداوندی سے منسوب کئے جاتےہیں،دوسرے لفظوں میں جس میں اقتدارِاعلی کےمالک ملک کے باشندے نہ ہوں اور عنانِ اقتدار اُنکے چُنے ہوئے نمائندوں کے ہاتھ میں ہو بلکہ سربراہِ مملکت کسی دوسرے ذریعے سے اقتدار حاصل کرکے احکامِ خداوندی کی ترجمانیکا داعی ہو۔
عرض ہے کہ یہاں تک تو مان لیا کہ جب ہم خدا کے ہونے کا اقرار کرتےہیں تو اس کے قوانین پر عمل پیرا ہونے سے ہمیں ایک منافقت ہی روک سکتی ہے ورنہ تو اور کوئی ایسی توجیح نہیں کہ احکامِ خداوندی کا انکار کیا جائے۔
اس کی ایک اور صورت یہ ممکن ہے کہ احکامِ خداوندی پر ہمارا نکتہِ نظر مختلف ہو کہ فلاں احکام اس زمرے میں آتے ہیں کہ نہیں۔
دوسری بات کہ عنانِ اقتدار اُنکے چُنے ہوئے نمائندوں کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ کسی دوسرے زریعے سے حاصل کیا گیا ہو تو گزارش ہے کہ جب کوئی عوام اقتدارِ اعلی کا تصور رکھتے ہوئے کسی کو یہ فرض منتقل کرے گی تو کوئی اور زریعہ کہاں سے پیدا ہوسکتا ہے؟ اگر کوئی اور زریعہ پیدا ہوتا ہے جیسے غاصب حکمرانی تو یہ اپنی اصل میں بذاتِ خود ایک منفی اور تخریبی عمل ہوگا چاہے اقتدار حاصل کرنے والا احکامِ خداوندی کی ترجمانی کا ہی داعی کیوں نہ ہو۔
یہ تصور کہ اقتدار میں آنےوالا کسی بھی ذریعے سے آجائے اور احکامِ خداوندی کا داعی کہلائے میری ناقص رائے میں اس کو مذہب سے منسلک کرنا اور اس طرح سے پروموٹ کرنا کہ یہ مذہب کا حصہ کہلایا جائے اور دوست احباب اس پر اسی نکتہِ نظرسے طنز کریں، غیرمناسب ہے۔
آگے فرماتےہیں کہ ریاست کسی خودمختار علاقے کی سب سے بڑی مقتدرسیاسی تنظیم ہےجو علاقے کی آبادی کو مختلف قاہرانہ اور نظریاتی زرائع سے اپنے احکام کا پابند بناتی ہے اس کی ضرورت تب پیش آئی جب معاشرہ طبقوں میں بٹ گیا اور یہ کہ ریاست کا وجود ہمیشہ سے طبقاتی رہا ہے۔
یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ اگر ریاست کی ضرورت تب پیش آئی جب معاشرہ طبقوں میں بٹ گیا اور دولت آفرینی  کیذرائع چند افراد کی ذاتی حیثیب بن گئے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ریاست اپنے معنوی اعتبار سے وجود میں آنے سے پہلے بھی قائم تھی۔
فرماتے ہیں  کہ ریاست ازل سے نہیں اتری۔
 درست ہے اور ان الفاظ میں جس طرف چوٹ کی جارہی ہے وہ بھی صاف ظاہر ہے مگر جب دو سے تین افراد ہوئے اور ذمہ داریاں تقسیم ہوئیں، جب خاندان آبادیوں اور شہروں میں تقسیم ہوئے تو ہر سطح پر ایک بالکل فطرے طریقے سے کچھ افراد آگے آتے رہےجو کسی نہ کسی شکل میں ریاست کی طرح پرفارم کرتے رہے۔ ایک گھر بھی تب تک نہیں چل سکتا جب تک ہم اقتدار ایک شخص کو نہیں سونپ دیتے اور یہ ریاست کی ہی ایک چھوٹے لیول کی سطح ہے۔ اس کے بعد ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست کی ضرورت تب پیش آئی جب معاشرہ طبقوں میں بٹ گیا تو پہلا خیال یہی زہن میں آتا ہے کہ معاشرہ طبقوں میں بٹا ہی کیوں؟ اگر بٹ ہی گیا تھا تو پھر ایک اور طبقہ اپنے اوپر برداشت کیوں کیا؟
جبکہ میری نظرمیں درست نقطہ نظریہ ہے کہ یہ سب ایک فطری طریقے سے وقوع پذیر ہوا ہے۔ معاشرے اختلاف اور مباحث سے آگے بڑھتے ہیں قومیں قبیلے جب ایک ساتھ رہتے ہوئے باہمی معاملات میں آگے بڑھتے ہیں تو ایک طبقے کا وجود لازمی ضرورت بن جاتی ہے جو راہنمائی کرے اقوام اور قبائل کو ایک نظم میں رکھے اور قومی وسائل کو تمام شہریوں پر مساوی تقسیم کرنے کی کوشش کرے۔
اسی ضمن میں آپ آگے لکھتے ہیں کہ
آنحضرت ؐ کے زمانے میں مکہ اور مدینہ میں بھی قبیلہ داری نظام تھا، ریاست نہ تھی۔ مدینے میں قبیلے الگ الگ چہاردیواریوں میں رہتے تھے اور ہر قیبلہ اندرونی نظم و نسق کا خود زمہ دارتھا،اور شہر کا دفاع ہر بالغ اور تندرست شخص پر فرص تھا۔  پورے شہر کی کوئی بااختیار مرکزی تنظیم نہیں تھی۔
میرے ناقص علم کے مطابق ایسا نہیں تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مدینے میں ایک مکمل ریاست قائم تھی اور یہ وفاقی طرز کی ریاست تھی۔جس میں قبائل کو اپنی اپنی حدود میں اپنے شرعی اور قبائلی قوانین کے مطابق عمل کرنے کی مکمل آزادی تھی۔ مگر یہ کہنا کہ شہر کی کوئی بااخیتار مرکزی تنظیم نہیں تھی میرا خیال ہے کہ محترم سبطِ حسن نے شائد معاہدہ حدیبیہ نہیں پڑھا تھا یا ممکن ہے کہ مدینے کی معاشرتی طرزِزندگی کے مطالعے کے دوران یہ اہم تحریری دستور انکی نگاہ سے نہ گذرا ہو۔ جس کے مطابق تمام قبائل ایک مرکزی تنظیم کے تحت شہر کے دفاع کے لیے ہروقت تیار تھے۔ کسی دوسرے قبیلے پر کسی بیررونی حملے کی صورت میں اسی تحریری دستور نے ان کو ایک لڑی میں پرویا تھااور یہ سب تبھی ممکن  تھا جب شہر کی ایک مرکزی تنظیم موجود ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *