دوشاندار انسانوں کے تعلقات ۔ریاست کہاں کھڑی ہے؟

babar-sattar

 وزیر اعظم پاکستان کے دفتر کی طرف سے نواز شریف اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی پہلی گفتگو کے بارے میں جاری کردہ بیان حقیقت سے دور دکھائی دیتا ہے ۔ کیا صدر ٹرمپ وزیر اعظم پاکستان کیلئے ایسے الفاظ ’’آپ بہت اچھی شہرت رکھتے ہیں۔۔۔ آپ زبردست انسان ہیں۔۔۔ آپ کے حیران کن کام واضح دکھائی دیتے ہیں۔۔۔‘‘استعمال کرسکتے تھے ؟ ہم جانتے ہیں کہ ٹرمپ الفاظ کے چنائو میں احتیاط برتنے کی شہرت نہیں رکھتے ، جومنہ میںآئے کہہ ڈالتے ہیں، اور بعض اوقات ایسی باتیں بھی کرجاتے ہیں جن کی وضاحت کرنے کیلئے اُن کی ٹیم کو سرکھپانا پڑتا ہے ۔ لیکن بطور پاکستانی، ہمیں امریکی صدر کی صفات پر زیادہ تردد کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن ہم اپنے وزیر ِاعظم کا جائزہ تو لے سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو سفارتی آداب اور رہنمائوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے طریق ِ کار سے واقف ہیں وہ ٹرمپ سے نواز شریف کیلئے ایسے توصیفی کلمات کے بارے میں سن کر حیران ہیں۔اس کی دووجوہ ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اس گفتگو کو فارن آفس کی بجائے پی آئی ڈی نے جاری کیوں کیا؟ دوسرا یہ کہ جاری کردہ الفاظ کا چنائو کرتے ہوئے وزیر ِ اعظم اور اُن کی ٹیم کیا پیغام دینا چاہتے تھے ؟وزیر اعظم نواز شریف نے ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو سہار ا دینے کی کوشش کی کیونکہ اس وقت وہ ایک بدعنوانی کے اسکینڈل کی زد میں ہیں۔ کیا اداروں کی فعالیت اور سفارتی روابط پر ہمارے وزیر ِاعظم کے ذاتی مفادات ہمیشہ غالب رہیں گے؟اور کیا غیر ملکی رہنمائوں کے ساتھ اُن کے ذاتی روابط ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خدوخال تشکیل دیں گے ؟چنانچہ حالیہ گفتگو سے بھی یہی تاثر دیا گیا ہے کہ پاکستان کے مفادات کو ترجیح دینے کی بجائے وزیر اعظم ذاتی مفادات کو آگے بڑھائیں گے ۔
نواز شریف ہمیشہ سے عرب حکمرانوںسے گہرے روابط رکھتے ہیں۔ اُنھوںنے مشرف کے شب خون کے بعد نواز شریف کو جیل سے نکلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب حالیہ دنوں لندن اپارٹمنٹس کے حوالے سے ایک قطری شہزادے کا دیومالائی خط سامنے آگیا ۔ لوگ انگشت بدندان ہیں کہ کیا نواز شریف کی سرکاری ذمہ داریوں اور فیملی بزنس کے مفادات کے درمیان کوئی فرق ہے ؟ کیا یہ سوال بنتا ہے یا نہیں کہ وہ عربوں کی ان مہربانیوں کے جواب میں اُنہیں کیا دیں گے ؟یقینا ایک لیڈر میں صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ دیگر لیڈران کے ساتھ دوستانہ روابط قائم کرکے اپنے ملک کے لئے، نہ کہ اپنے لئے ، مفاد حاصل کرے ۔ لیکن ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کسی لیڈر کے دیگر رہنمائوں کے ساتھ تعلقات کے بوجھ تلے اُ س کے ملک کے مفادات دب کررہ جائیں۔ اس کی ایک جھلک ہم نے اُ س وقت دیکھی جب تلور کے شکار پر پابندی ختم کرتے ہوئے عرب شہزادوں کو اس خوشنما پرندے کے خون سے ہولی کھیلنے کی اجازت دی گئی ۔ حالیہ دنوں ا س کا مظاہر ہ ترک صدر، طیب اردوان کی پاکستان آمد کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب مسٹر اردوان نے اپنے ملک میں جاری سیاسی بحران کے رد ِعمل میں پاکستان پر زور دیا کہ وہ پاک ترک اسکولوں کے ترک اساتذہ کو ملک سے نکال دے ۔ پاکستان اور ترکی قریبی تعلقات کی تاریخ رکھتے ہیں۔ان کی بنیاد ریاستوں کے درمیان روابط پر تھی، اس سے قطع نظر کہ ریاست پر کس کی حکومت ہے ۔ تاہم موجودہ حکمران جماعت نے ان طے شدہ معروضات کو تبدیل کردیا ہے۔ اب ریاستوں کے درمیان تعلقات کو رہنمائوں کے درمیان تعلقات کنٹرول کرتے ہیں۔
ترک اساتذہ کو تعلیمی سیشن کے درمیان چشم زدن میں ملک چھوڑ نے کا حکم دینا کسی طور مناسب دکھائی نہیں دیتا۔ رہنمائوں کے درمیان ایسے ذاتی تعلقات کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ امریکی صدر کو بلاشبہ دنیا کا طاقت ور ترین سربراہ کہا جاتا ہے ۔ اُن سے دوستانہ تعلقات رکھنا یقینا کسی بھی رہنما کیلئے بہترین پالیسی ہوگی۔ ہمارے وزیر ِاعظم کو بھی ایسا کرنا چاہئے لیکن کیا اس فون کال کے ذریعے عام پاکستانی کو یہ باور کرانا مناسب اقدام تھا کہ امریکی صدر کی نظر میں ہمارے وزیر ِاعظم کی ساکھ بہت بلند ہے اور وہ ان کاموں کو سراہتے ہیں؟پاکستان میں عمومی تاثر یہی ہے کہ امریکہ ہمارے داخلی معاملات پر گہرا اثر رکھتا ہے ۔ تو کیا گفتگو کے منتخب شدہ حصے سامنے لانے کا مقصد یہی تھا کہ ہمارے وزیر اعظم کو نومنتخب شدہ امریکی صدر کی اشیر باد حاصل ہے ۔ بچپن میں جب ایک بچے کے رخسار پر اُس کی ٹیچر تین ستارے پینٹ کردیتی ہے تو وہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ وہ گھر آکر بہت فخر سے سب کوتین ستارے دکھاتا ہے ۔ بچپن میں یہ رویہ اچھا لگتا ہے ، لیکن کیا تیسری مد ت کیلئے وزارت ِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز ایک تجربہ کار رہنما کو یہ رویہ زیب دیتا ہے ؟قوم کو یہ کیوں نہیں بتایا کہ جب نوازشریف نے ٹرمپ کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی تو ادھر سے کیا جواب ملا؟اور پھر ایسی گفتگو میں وزیر اعظم کی ساکھ کیا ذکرچہ معانی دارد؟کیا ٹرمپ جانتے تھے کہ آج کل پاکستانی وزیر ِاعظم کے خلاف سپریم کورٹ میں بدعنوانی کے ایک مقدمے کی سماعت ہورہی ہے اور ان کے الفاظ ایک طرح کی ’’اشیرباد ‘‘ کا تاثر دیںگے؟کیا نواز شریف اور ان کی ٹیم یہ نہیں سوچتے کہ ایک امریکی رہنما، جو فی الحال پاکستانی وزیر ِاعظم کو زیادہ نہیں جانتا، کے ایسے الفاظ کو منظر عام پر لاکر وہ یہ تاثر ضرور گہرا کردیں گے کہ وہ صورت ِحال سے پریشان ہیں اور اپنے تئیں اس پریشانی کا تدارک کرنے کی کوشش میں ہیں؟
کیا اداروں اور سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھنے کی اس سےبڑی کوئی اور وضاحت ہوسکتی ہے ؟ اس طرح کا ایک واقعہ واشنگٹن میں بھی پیش آیاتھا۔ چندماہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ اس اثنا میں امریکہ کی خاتون ِاوّل ہمارے سفارت کاری کے گھر آئیں۔ یہ قطعی طور پر ایک ذاتی دورہ تھا کیونکہ سفارت کاراور امریکی صدر کے بچے ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے ۔ ہمارے سفارت کار نے فرسٹ لیڈی کے ساتھ تصاویر کوٹوئٹ کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جیسے پاک امریکہ تعلقات میں بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہو۔ کیا اہم عہدوں پر فائز افراد کیلئے ضروری نہیں کہ وہ اپنے الفاظ اور افعال کے بارے میں محتاط رہیں؟کیا ٹرمپ اور نواز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو کو اس طرح افشا کرنے سے حماقت نہیں ٹپکتی؟ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں کسی مرحلے پر ٹرمپ اور نواز شریف کے درمیان گہری دوستی ہوجائے ، وہ ایک دوسرے کے ذوق، کاروبار اور دیگر دلچسپی کے امور سے آشنا ہوجائیں لیکن کیا اس کا مطلب پاک امریکہ تعلقات ہوگا ؟کیا امریکہ پاکستان کے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے مطمئن ہو جائے گا؟ کیااُن خوشگوار ملاقاتوں کے بعد ٹرمپ پاکستانی تارکین ِوطن کو امریکہ میں خوش آمدید کہتے دکھائی دیں گے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *