جگ راج کو تاج تورے سرسو ہے

mehmood-asghar-chaudhry

دنیا بھر کے تھنک ٹینک اور شماریاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق آج کی دنیا کو اس وقت جن چیلنجز یا خطرات کا سامنا ہے ان کی لسٹ کم و بیش دس مسائل کے گرد گھومتی ہے اس وقت دنیا کا سب سے بڑ ے مسائل میں سے ماحولیاتی آلودگی ، قدرتی وسائل وتوانائی کے ذرائع کی کمی ، دنیا بھر میں مختلف ممالک میں دولت کی غیرمساوی تقسیم ، مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سپر پاورز حکومتوں پر ضرورت سے زیادہ اثراندازی ، نیوکلیائی ہتھیاروں کی دوڑ اور بین الاقوامی جنگیں ، آبادی کی مسائل ، نسل پرستی و امتیاز ی سلوک، مختلف تنازعات کے مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے کی بجائے جنگوں کی خواہش و دہشت گردی ، مذہبی بنیاد پرستی وتنگ نظری ، اورمختلف قوم پرستوں یا مذاہب کا پوری دنیاکے نظام پر قبضہ کرنے کی خواہش شامل ہیں
اس ربیع الاول یہ سوال سب سے اہم ہے کہ جس ذات بابرکات ﷺ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاتم النبین ﷺ کا تاج پہنا کر اس دنیا میں بھیجا اور جنہیں دنیا بھر کے لیے بہترین نمونہ کہاکیا ان کی تعلیمات میں دنیا بھر کے مسائل کا حل پوشیدہ ہے یا نہیں ؟ تو جواب ہے یقیناموجود ہے کیونکہ تاریخ عالم میں ایسی ایک ہی ہستی ہے جس کے اندر سارے کمالات بدرجہ اتم موجود ہیں کہ وہ ہر شعبہ زندگی کے لیے نمونہ ثابت ہو اور وہ بلاشبہ ہمارے پیارے نبی مکرم ﷺ کی ذات بابرکات ہے
حضورنبی کریم ﷺ کی ذات وہ ہے جس نے اپنی سیرت وکردار سے دنیا بھر کو ایک اچھے انسان کی تعریف وضع کر دی اور دنیاچاہے جتنی بھی کر لے ایک اچھے انسان کی ان خصوصیات کا انکار نہیں کر سکتی مثلا ً آپ ﷺ نے اصول وضع کیا کہ اچھا انسان سچا ہوتا ہے ، امین ہوتا ہے، وعدوں کی پاسداری کرنے والا،نرم مزاج، انتقام لینے کی بجائے درگزر اورمعاف کرنے والا ہوتا ہے، دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے والا ، اچھے اخلاق والا ، اچھی گفتاروالا ، یتیموں غریبوں اور کمزوروں کا سہارا بننے والا ہوتا ہے دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا فلسفی ان خصوصیات کو ایک اچھے انسان کی خوبیوں میں سے نہیں نکال سکتا
آپ ﷺ نے اچھے انسانوں کی اطوارکا بھی تعین کر دیا اور دنیا بھر کو مینرز سمجھائے مثلاً آپ نے اپنے کردارسے دنیا کو بتایا کہ اچھی انسان کی خصوصیات میں سے پہلی شرط اس کی صفائی ستھرائی ہے دن میں کم از کم دو دفعہ دانتوں کو صاف کرنے کا اصول ، خوش لباسی کا اصول ، صاف ستھرے کپڑے پہنے کا اصول ، بالوں میں کنگی کرکے انہیں سنوارنے کا اصول ، خوشبو سے محبت کرنے کا اصول ، پرفیوم استعمال کرنے کا اصول یہ سب اصول آپ ﷺ نے اس وقت دنیا میں روشناس کرائے جب میڈیکل سائنس اور عام انسان ان کی اہمیت سے واقف بھی نہیں تھے
آپ ﷺ نے اخلاقیات کا بھی اصول دنیا بھر میں متعارف کرایا اخلاق کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان کے چہرے پر مسکراہٹ اورتبسم یعنی سمائیل ہو وہ جب کسی سے گفتگو کرے تو اچھے الفاظ کا استعمال کرے دھیمے لہجے میں گفتگو کرے ، اس کی گفتگو میں التفات ہواس میں دوسرو ں کی بات سننے کا حوصلہ ہو، جب ماحول مزاح کا ہو تو اخلاقا ً دلجوئی کا ماحول پیدا کردے اور جب کوئی جذباتی بات سنے تو آبدیدہ ہو جائے
آپ ﷺ نے معذوروں کے حقوق کے بارے پوری دنیا کو ایک نمونہ سمجھا دیاکہ کسی کی معذوری پر ہنسنا نہیں بلکہ اس کی مدد کرنی ہے اسے برے ناموں سے نہیں پکارنا، ایک دفعہ حضورکریم ﷺ بازار سے جارہے تھے کہ دیکھا ایک اندھی عورت ٹھوکر کھا کر گرپڑی بازار کے لوگ اس کو گرتے دیکھ کر ہنسنے لگے لیکن آپ ﷺ یہ دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے فورا ً آگے بڑھ کر اس عورت کو اٹھایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکے گھر تک پہنچا دیا مدینہ منورہ میں ایک پاگل عورت رہتی تھی ایک دفعہ آپ ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر کہا ”اے محمد مجھے آپ سے کام ہے میرے ساتھ چلیں “ آپﷺ نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں جہاں کہو گی چلو ں گا وہ ہاتھ پکڑ کر آپ ﷺ کو گلی میں لیکر چلتی رہی اور آپ ﷺ پیکر رحمت و الفت بن کر اس کے ساتھ چلتے رہے ، وہ ایک گلی میں جا کر بیٹھ گئی تو آپ ﷺ بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے (صحیح مسلم )
آپ ﷺ نے برداشت کا اصول بھی دنیا کو دیا عبداللہ بن ابئی منافق تھا ساری عمر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتا رہا واقعہ افک میں ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگانے والوںمیں سے تھا حضور نبی کریم ﷺ کو اس کی ساری حرکتوں کا علم تھا لیکن ہمیشہ درگزر فرما یا حتی ٰ کہ اس کی موت پر نمازہ جنازہ بھی پڑھی کفار مکہ تیرہ سال تک سروردوعالم ﷺکے نام لیواﺅں کو ستاتے رہے ظلم وہ ستم کا کوئی ایسا پہاڑنہیں تھا جو آپ ﷺ پر اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیم پر نہیں توڑا گیاحتی ٰ کہ آپ ﷺ کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور پھر مدینہ منور میں بھی آٹھ سال تک مکہ والوں نے سکون کا سانس نہیں لینے دیا لیکن اس کے باوجود جب سن آٹھ ہجری کو مکہ فتح ہوا تو ایسی مثال دنیا کے کسی فاتح کی نہیں ملتی جس نے اپنے بدترین اور ازلی دشمن کےلئے عام معافی کا اعلان کیا ہو
آپ ﷺ نے نباتات و حیوانات کے ساتھ سلوک کے اصول واضع کئے آپ ﷺنے فرمایا کہ ”زندہ جانوروں کے اعضا نہ کاٹو ، جانوروں کو باندھ کر ان پر نشانہ نہ لگاﺅجانوروں کو آپس میں لڑانے سے باز رہو ، جانوروں کو بھوکا پیاسا کبھی نہ رکھو، جانوروں کے منہ پر نہ مارو ان کے جسم پر داغ نہ لگاﺅ ،جس بیل کو کھیتی باڑی کے لیے استعمال کرواس کو سواری کے لیے استعمال نہ کرو
آپ ﷺ نے اس وقت مزدور کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا جب دنیا ابھی صنعتی ترقی سے آشنا نہیں تھی آپ ﷺ نے ایک دفعہ لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا ”اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے تین قسم کے انسان ہیں جن سے میں قیامت کے دن جھگڑا کروں گا اور ان کو مغلوب و مقہور کرکے چھوڑوں گا ان میں سے ایک وہ شخص ہوگا جو مزدور سے کام تو پوری طرح لیتا ہے مگر اس کے مطابق اس کو اجرت نہ دیتا ہو آپ ﷺ نے دنیا کو مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دینے کا اصول متعارف کرایا “
اب جاننے کی کوشش کرتے ہیں‌کہ دور جدید کے مسائل سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں‌ ہمیں‌کہاں نظر آتا ہے ،آج کا ترقی یافتہ دور اپنی سائنسی ترقی سے اگر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ دنیا بھر کے مسائل میں سب سے پہلا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی ہے تو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اس دور میں شجر کاری کا حکم دیااور گلیوں بازاروں کو کوڑا کرکٹ او ر نجاست سے پاک رکھنے کا حکم اس وقت دیا جب یہ مسائل دنیا کی ہٹ لسٹ پر ایک خطرہ کے طور پر موجود نہیں تھے آج اگرماہرین پانی جیسے قدرتی وسائل کی بچت کا سبق دیتے نظر آتے ہیں تو ہمیں حضور نبی کریم ﷺ پانی کے ضیاع کو وضو جیسی عبادت میں بھی منع فرماتے نظر آتے ہیں آج جب دنیا بھر کی کمپنیاں فوڈ ضائع نہ کرنے کا سبق دیتی ہیں تو وہ کون سی ذات ہے جو روٹی کا ٹکڑا زمین پر گر جانے کے بعد بھی اسے ضائع نہ کرنے کی سبق دیتی نظر آتی ہے اور اصراف سے منع کرتے نظر آتے ہیں دنیا بھر میں دولت کی غیر مساوی تقسیم ، کیپٹل ازم کے ستائے ہوئے تیسری دنیا کے ممالک اور مسائل کو جنگوں کی ذریعے حل کرنے والی سپر پاورز ذرا جا کر میثاق مدینہ کا مطالعہ کریں کہ کسی طرح آپ ﷺ کی لیڈرانہ فہم و فراست نے لوگوں کے دلوں کو جوڑ دیا اور انہیں آپس میں بھائی بھائی بنا دیا ، جو لوگ آج مذہبی انتہا پسندی اور تنگ نظری کودنیا بھر کے خطرات میں ہٹ لسٹ میں بتاتے نظر آتے ہیں وہ ذرا جا کر ریاست مدینہ کی تاریخ کا نظارہ کر یں کہ کس طرح آپ ﷺ کی ذات نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو لکم دینکم و لی دین کے زریں اصول کے تحت ایک معاہدہ میں جوڑ دیا جو لوگ ریس ازم یا نسل پرستی و قوم پرستی کو دنیا کے بڑے خطرات میں شامل کرتے ہیں انہیں شاید خطبہ حجتہ الوداع کا مطالعہ کرنے کا موقع نہیں ملا جس میں آپ نے ایک واضع اصول پوری دنیا کوسمجھا دیا کہ نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت ہے اور نہ ہی کسی عجمی کوکسی عربی پر نہ کوئی گورا کسی کالے سے افضل ہے اور نہ ہی کوئی کالا کسی گورے سے زیادہ بزرگی او ر فضیلت والا ہے “ اس طرح رحمت للعالمین نے پوری دنیاکو ایک بلند ترین نظریہ دے دیا اور نسلی امتیازات میں ہچکولے کھاتی ہوئی دنیا کے قدیم و جدید فلسفیوں کو ان دو مختصر سے جملوں میں اسلام کا جامع پیغام دے دیا کہ انسان رنگ ، نسل ، وطن ، زبان ، معیشیت اور سیاست کی غیر عقلی تقسیم و تفریق سے بچ جائے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *