ضرورت برآئے سیاستدان

mukhtar-chaudhry-403x400
کیا جمہوری پاکستان میں کوئی سیاستدان ہے؟  کم از کم کسی بھی سیاسی جماعت کے صدر یا چیئرمین کے طور پر تو کوئی سیاستدان نظر نہیں آتا، اگر کوئی
سیاستدان ہی نہیں تو پھر کوئی قومی راہنما کہاں سے آئے گا؟  اور کوئی بھی معاشرہ بغیر کسی حقیقی راہنما کے ترقی کی منازل کیسے طے کر سکتا ہے؟  ہم سب اور خصوصی طور پر ہمارے ذرائع ابلاغ بشمول ٹی وی چینل اٹھتے بیٹھتے اپنے سیاستدانوں کو کوسنے دیتے نہیں تھکتے ہیں اور وطن عزیز کی جو حالت ہے اس کا ذمدار بھی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو ہی ٹھہراتے ہیں لیکن ایک لمحے کے لیے رک کر یہ نہیں سوچتے کہ اس ملک میں سیاستدان ہے کون؟  سیاستدان کی تعریف کیا ہے؟  اگر کوئی شخص انتخابات میں حصہ لے لے تو کیا وہ سیاستدان کہلائے گا؟  محمد علی جناح ایک بہت ہی اعلٰی پائے کے قانون دان تھے اور اس سے  بھی بڑھ کر ایک اچھے راہنما اور سیاستدان تھے جن کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان قائم ہوا۔ لیکن ان کو زندگی نے کچھ زیادہ مہلت نہ دی کہ پاکستان ان کی قیادت میں ایک حقیقی فلاحی اور جمہوری ملک بن سکتا اور وہ خود ہی فرما چکے تھے کہ ان کی جیب میں صرف کھوٹے سکے ہیں لہذا ان کے بعد گو کہ چند ایک سیاستدان تو تھے مگر کوئی ان کے پائے کا راہنما نہیں تھا جو آگے بڑھ کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لیتا اور کسی حد تک ہی سہی ان کا خلا پر کر دیتا اور پاکستان کو اپنی منزل کی جانب رواں دواں کر دیتا، اگر ایسا ہوتا تو آج پاکستان ایک لاغر مریض کی تصویر نہ بنا ہوتا۔ سیاسی راہنما اور جمہوری سیاستدانوں کے فقدان کے سبب پاکستان میں ادارے مضبوط نہ ہو سکے اور  سیاست بھی جاگیرداروں اور وڈیروں کا کھیل ٹھہری جس کی وجہ سے فوجی جرنیلوں کو سیاست میں دخل اندازی کا جواز مل گیا اور پھر آج تک وہی اس ملک کی تقدیر لکھنے پر قادر رہے ہیں۔ اور اب تو بات اس نوبت تک پہنچ گئی ہے کہ مبینہ سیاستدان خود ان کی طرف دیکھتے ہیں اور ایک جنبش کے انتظار میں رہتے ہیں تو پھر ہم کس طرح یہ اخذ کرتے ہیں کہ پاکستان کو موجودہ نہج تک لانے کے ذمدار سیاستدان ہیں؟ اگر 50 کی دھائی میں کچھ سیاستدان تھے بھی تو وہ اس قابل نہیں تھے کہ مختلف اکائیوں،  مختلف قوموں اور مختلف زبانوں والے پاکستان کی قیادت کا فریضہ سرانجام دے سکتے۔ سیاستدان کیسے بنتا ہے؟ یہ کوئی گھگو گھوڑے کی مانند تو نہیں ہوتا کہ کسی کمہار سے پیشگی آرڈر پر تیار کروایا جا سکے، سیاستدان تو اصل میں ایک نظریے کا نام ہوتا ہے ایک فوجی یا سول افسر اپنی تعلیمی قابلیت کے بل بوتے پر نوکری حاصل کر سکتا ہے ایک صنعت کار پیسے کی بدولت صنعتیں لگا سکتا ہے، کسی بھی مدرسے سے فارغ التحصیل شخص ایک اچھا مبلغ یا عالم کہلا سکتا ہے لیکن ان تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کا حامل شخص ایک اچھا سیاسی راہنما ثابت نہیں ہو سکتا جب تک وہ زمینی حقائق کا ادراک نہ رکھتا ہو،  کسی نظریے کا قائل نہ ہو، دور اندیش نہ ہو، ملکی اور بین الاقوامی سیاسی بندوبست سے واقف نہ ہو، اپنے عوام کی نفسیات کی خبر نہ رکھتا ہو، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ملک کا حقیقی وفادار نہ ہو اور ہر طرح کے ذاتی مفادات سے بالاتر صرف اور صرف ملکی مفادات کو مقدم نہ رکھتا ہو۔ اور ایک نظریے کو لیکر خود اپنی راہ متعین کرتے ہوئے منزل کی جانب قدم بڑھانے کے حوصلے سے سرشار ہو۔  سیاست ایک نظریے، ایک سوچ کا نام ہے۔ سیاست اور جمہوریت کی ابتدا کب ہوئی اور  اس کی داغ بیل کس نے رکھی اس بارے میرا کوئی علم نہیں ہے اور نہ ہی میں تاریخ کا طالب علم ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ سیاست اور جمہوریت کی ابتدا عربوں سے ہوئی ہے اور اس کا شعور اسلام نے دیا ہے قرآن پاک میں اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ جیسی کوئی قوم ہو گی ایسے ہی اس کے حکمران ہوں گے،  میں اس آیت مبارک کو جمہوریت کی طرف ایک اشارے کے طور پر لیتا ہوں۔ پھر بیت کی روایت بھی مسلمانوں کے پہلے خلیفہ سے شروع ہوتی ہے جس کو اعتماد کا ووٹ کہا جا سکتا ہے لیکن افسوس کہ آج کے پورے عرب میں بالخصوص اور سارے اسلامی ممالک میں بالعموم جمہوریت کا فقدان ہے اور ہر طرف ملوکیت، بادشاہت اور آمریت کا دور دورہ ہے اور بہت بڑے بڑے جید علماء کرام جمہوریت کو شجر ممنوع گردانتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کو جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں بہت بڑے راہنما اور سیاستدان پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اسلامی سلطنت کو دنیا کے طول و عرض تک وسعت دی۔
لیکن جیسے جیسے مسلمان جمہوریت سے دور ہوتے گئے اور بادشاہت کی طرف چلتے گئے تو اس کے بعد سیاسی قیادت بھی ناپید ہوتی گئی اور مسلمان کمزور ہوتے چلے گئے اور آج وہ اغیار کے دست نگر ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان کی بات کریں تو بدقسمتی سے قائداعظم کے بعد کوئی بڑا سیاستدان یا قومی سطح کا راہنما سامنے نہیں آیا اور اگر کوئی حقیقی سیاستدان آیا بھی (جیسے مجیب الرحمٰن ) تو وہ بھی لسانی اور علاقائی نظریے کی بنیاد پر ذوالفقار علی بھٹو واقعی بڑے قد کاٹھ کے  لیڈر تھے دور اندیش تھے۔ ایسے لیڈر روز روز پیدا نہیں ہوتے لیکن ان کے ساتھ بھی کئی ایک مسائل تھے سب سے پہلے یہ کہ  ان کا تعلق ایک بہت بڑے جاگیردار گھرانے سے تھا اور  وہ بھی کسی حد تک سٹیٹس کو کے حامی تھے دوسرا یہ کہ وہ بھی  براستہ جی ایچ کیو آئے تھے۔ تیسرا یہ کہ اقتدار کی سیاست ان کی کمزوری تھی ورنہ وہ دو ٹوک مجیب الرحمٰن کو اقتدار دینے کی حمایت کر سکتے تھے۔  لیکن اپنی تمام انسانی کمزوریوں کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو بالاشعبہ بہت بڑے سیاسی راہنما تھے اور اگر ان کو مزید مہولت ملتی تو پاکستان کے لئیے بہت بہتر ہوتا۔ کسی حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان میں آخری سیاستدان تھے گو کہ چوہدری ظہور الٰہی،  نواب زادہ نصراللہ خان، معراج محمد خان،  معراج خالد، رضا ربانی اور اس طرح کے کئی اور بھی سیاستدان پاکستان کے جمہوری بندوبست میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی قومی سطح تک رسائی حاصل نہیں کر پایا۔ 1977 کے بعد تو پھر امیرالمومنین صاحب نے اس کھیت کو ہی جلا کر راکھ کر دیا تھا جس سے کبھی لیل و نہار کی امید ہو سکتی تھی ۔ اور پھر سیاست بس روپے پیسے اور ذاتی مفادات کا کھیل ٹھہری۔ اور ہیئت مقتدرہ نے مہروں کا ایسا کھیل شروع کیا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اور ملکی ادارے انحطاط کا ایسا شکار ہوئے کہ ملک کے سیاسی بندوبست کی شکل ہی بگڑ کر رہ گئی۔ 1977 کے بعد کوئی نیا سیاستدان سیاسی افق پر نمودار نہیں ہوا بس سیاسی خوانزادے، مہرے اور پیشہ ور سیاسی جگاڑیے سیاست کا کاروبار کرتے چلے آرہے ہیں اور پاکستانی سیاست روپے پیسے، طاقت، علاقائی  ، لسانی اور برادریوں کے کھیل کا نام بن کر رہ گئی ہے اور جن اداروں پر جمہوری بندوبست کا انحصار ہوتا ہے وہ ادارے تباہی کا شکار ہیں کوئی بھی  ادارہ اپنی اصلاح کرنے یا اپنا کام ٹھیک طرح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا  بلکہ  دوسروں کے کام میں ٹانگیں اڑائی جاتی ہیں۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو یہ پاکستان کا واحد ایسا مضبوط ادارہ ہے جس کی باقاعدہ تربیت ہوتی ہے اور یہی ایک ادارہ ہے جس میں نظم و ضبط کی پابندی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ بھی اپنے کام سے ہٹ کر دوسرے معاملات میں مداخلت کرنے کا عادی ہو چکا ہے اور سیاسی عدم استحکام کا سبب بھی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ فوج پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہے یا وہ عوام کی ترقی نہیں چاہتے۔ دراصل فوجی جرنیل یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کے ساتھ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے بھی وہی اہل ہیں اور اگر انہوں نے ملک سیاستدانوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا تو خدا ناخواستہ ملک بچ نہیں سکتا۔ لیکن وہ یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ کسی بھی ملک کا سیاسی بندوبست اس ملک کے عوام کا حق ہوتا ہے دراصل جس طرح ایک ڈرائیور یہ خود گاڑی چلاتے ہوئے خود کو اور گاڑی کو زیادہ محفوظ سمجھتا ہے اس طرح وہ کسی اور کو اسٹیرنگ دے کر محفوظ نہیں جانتا اسی طرح ہمارے فوجی جرنیلوں کو بھی سولین پر اعتماد نہیں۔ جب تک کوئی حقیقی سیاستدان سامنے نہیں آتا اور فوج کو اعتماد میں نہیں لیتا اور ان کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہو جاتا کہ حضور آپ ہم پر اعتماد رکھیں ہم بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے آپ اور ہمیں بھی یہ وطن عزیز ہے اور ہم اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس ملک کے مفاد کو مقدم رکھیں گے آپ سرحدوں کی حفاظت کی ذمداری لیں تو ہم اس ملک کی ترقی کی ذمداری لیتے ہیں یہ پاکستان ہم سب کا ہے اور اس کی بہتری ہم سب کی ذمداری ہے مجھے امید ہے کہ جس دن کوئی حقیقی سیاستدان سامنے آگیا اور فوج سے بامقصد مذاکرات کئے تو فوجی جرنیل بھی اس پر اعتماد کریں گے۔ کیوں کہ فوج اس ملک کے ساتھ مخلص ہے اور اس کو ترقی کی راہ پر رواں دواں دیکھنا چاہتی ہے جس دن فوج اور سویلین میں اعتماد قائم ہو گیا اور اکٹھے مل کر اپنا اپنا کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو گیا اس دن سے ہمارا ملک ترقی کی جانب رواں دواں ہو جائے گا اور دوسرے ادارے بھی اپنا اپنا کام ذمداری سے کرنا شروع کر دیں گے ۔ ورنہ آج تو یہ حالت ہے کہ ہر ادارہ اپنے میں ایک ریاست قائم کئیے بیٹھا ہے افتخار چوہدری کے زمانے سے عدالتوں میں جو روایات چل نکلی ہیں وہ کوئی نیک شگون نہیں ہیں جج صاحبان کے ریمارکس پڑھ کر حیرانگی ہوتی ہے۔ کوئی یہ فرماتے ہیں کہ امید تو عورتوں کو ہوتی ہے تو کوئی فرماتے ہیں کہ اخبارات پکوڑے پیک کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر ادارہ دوسروں کے کام میں دلچسپی زیادہ لیتا ہے چہ جائے کہ اپنا کام کرے ۔ سو  میں آج پاکستان کی طرف سے یہ اشتہار دے رہا ہوں کہ ضرورت برآئے سیاستدان۔ قابلیت میں سوچ،  اخلاص، ایمانداری، ملکی حالات کا مکمل ادراک، اور ذاتی مفادات سے مکمل بالاتر۔ مستقبل کے پروگرام اور سیاسی نظام کی تیاری۔ تعلق عام عوام سے۔ اگر کوئی ان خصوصیات کا حامل شخص ہو تو مجھ سے رابطہ کر لے باقی بعد میں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *