حادثہ ایک ہو تو سر پیٹیں

khalid mehmood rasool

چترال سے اسلام آباد ہوائی مسافت ہی کیا ہے؟ بمشکل ڈیڑھ گھنٹہ لیکن قیامت بیتنے کے لیے توایک لمحہ ہی بہت ہوتا ہے۔ بد قسمت اے ٹی آر جہاز کا ا سلام آباد سے سفر نصف سے بھی کم رہ گیا تھا۔ طیارہ کیا گرا چالیس سے زائد مسافروں کی زندگیاں اجڑ گئیں اور ان سے جڑے سینکڑوں خاندان اور احباب پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ میڈیا پر تباہی کے مناظر کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تصاویر اور ان کے احباب کے تاثرات دل میں چھید کرتے رہے ۔ رنج ، غم ، دکھ اور بے بسی۔ سوشل میڈیا پر بھی د کھ اور تاسف کا ایک بیکراں سلسلہ تھا۔ ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے، ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔۔۔ اور وہ سب کچھ جو ایسے اندوہناک سانحے پر ہم ایسے بے بس کہہ سکتے ہیں اور مطالبہ کر سکتے ہیں۔
بقول شاعر میرے مرنے کے بعد اس نے جفا سے توبہ کی تو کیا ، پشیماں ہو ا تو کیا۔ رنج، دکھ، بے بسی اور تحقیقات، ایسے حادثات کے بعد یہی باقیات ہمارے ہاتھ بچتی ہیں لیکن جب دن کی روشنی چمک رہی ہوتی ہے اور گنگا بہہ رہی ہوتی ہے، اس وقت ایسے حادثات روکنے کے لیے صحیح فیصلے کرنے کا ہمارا ٹریک ریکارڈ مایوس کن ہے۔ صرف آج ہی کا کیا رونا، وقت پر فیصلے نہ کرنا اور بے وقت اس پر داد فریاد کرنا ایک طے شدہ وطیرہ بن گیا ہے۔ بلدیہ کالونی کراچی میں آگ لگی تو سینکڑوں جانیں بھسم ہو گئیں۔ معاملہ بھتہ نہ دینے کی سزا اور فیکٹری مالکان کی غفلت کے درمیان لڑھک گیا لیکن اس بنیادی نکتے کی طرف رجوع نہ ہو سکا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں فیکٹریوں میں فائر اور سیفٹی کے اس قدر مایوس کن انتظامات کیوں ہیں کہ ایک سازشی ٹولے نے الاؤ جلایا اور حفاظتی سسٹم بھک سے اڑ گیا۔ وہی باتیں وہی بیانات، اب کی بارکچھ کر دکھانے کے وعدے۔۔۔اور بس۔ حادثے یوں بھی کبھی رکا کرتے ہیں؟
ابھی اس ہفتے اسی عروس البلاد کراچی شہر میں ایک معروف ہوٹل میں آگ لگی۔ آگ بے قابو ہوئی تو ہوٹل کو لپیٹ میں لے لیے۔ فائر اور سیفٹی کی تیاری کا یہ عالم کہ ائرکنڈیشنر بند نہ کیا گیا۔ آگ سے پہلے دھواں تمام کمروں میں پہنچ گیا۔ آگ سے براہ راست تو شاید دو لوگ ہلاک ہوئے، دم گھٹنے سے دس سے زائد لوگ جان ہار گئے، ہمارے عزیز دوست اور معروف مزاحیہ شاعرخالد مسعود خان بھی اس قیامت رات وہیں تھے۔ اڑھائی گھنٹے زندگی موت کی کشمکش سے گذرے۔ اپنے تئیں بیٹی کو الوداعی فون بھی کر دیا کہ اگر بچ گیاتو ملیں گے ورنہ خدا حافظ۔ اس سے قبل ایک ہفتے میں کراچی ہی میں آگ لگنے کے تین مزید واقعات ہوئے۔ گڈانی میں دو درجن مزدور آگ میں جل بھنے۔ ایک ٹیکسٹائل ملز میں آگ لگی، ایک آئل سٹوریج میں آگ لگی ا۔
منیر نیازی کو تو یہ گلہ تھا کہ
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں رہنا اکتائے ہوئے رہنا
کچھ ایسا ہی عالم ہماری منصوبہ بندی کا بھی ہے۔ جب وقت اور وسائل دستیاب ہوتے ہیں، ہم مل ملا کر وقت اور وسائل پامال کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں لیکن معاملہ چوپٹ ہونے پر اسی دیدہ دلیری سے ایک دوسرے پر الزام دھرتے ہیں۔ تازہ ترین داستانِ عبرت کا ذکر گذشتہ روز اخبارات میں خوب ہوا لیکن کیونکہ میڈیا اور اخبارات میں پانامہ کی ہیڈ لائنز کا قبضہ تھا، یہ خبر صرف چند انگریزی اخبارات ہی میں جگہ پا سکی۔ ہم نے پچیس سال قبل ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستگی اختیا ر کی تو تین مطالبات میں ٹیکسٹائل کی فلاح کو قید پایا۔ اس شعبے کے لیے جس کا برآمدات میں پچپن فی صد حصہ ہے اس کے لیے ایک علیحدہ وزارت بنائی جائے۔ حکومت نے جو ٹیکسٹائل کالج قومی تحویل میں لے لیے تھا وہ نجی شعبے کو واپس کیا جائے۔ٹیکسٹائل کے لیے علیحدہ مخصوص انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی جائیں۔
گذشتہ پچیس سالوں میں ان تینوں اقدامات کا انجام بخیر دیکھنے کے بعد ہمیں کم از کم یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ہم ایسے ہیں تو کیوں ہیں ؟ ٹیکسٹائل کی وزارت بنے کئی سال ہو گئے لیکن اسے دوسری وزارتوں سے وسائل اور اختیارات چھیننے میں کئی سال لگ گئے۔ اس کے باوجود اس وزارت کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ تین ٹیکسٹائل پالیسیاں اعلان ہونے کے باوجود فنانس ڈویژن ٹیکسٹائل پیکج کے لیے درکار فنڈز بر وقت نہیں دے پاتا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سینیٹ سے ریٹائر ہونے والے سابق وزیر کے بعد نیا وزیر اس وزارت کو نصیب نہیں ہوا۔ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں گذشتہ تین سالوں سے مسلسل کمی ہو رہی ہے لیکن لولی لنگڑی وزارت کو اس قدر بھرے پرے ایوان میں سے ایک بھی وزیر دستیاب نہیں۔
حکومت نے سالہاسال کے مطالبے کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے فیصل آباد میں قومیایا جانے والا ٹیکسٹائل کالج نجی شعبے کو واپس کر دیا۔ نجی شعبے نے اس کالج کے ساتھ تجربات کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر دیا۔ فیسیں ہوش ربا ہو گئیں لیکن طلباء کے مسائل حل نہ ہوئے۔ چار ماہ کی طلبا ہڑتال اور نجی شعبے کی مسلسل بد انتظامی کے بعد یہ کالج بصد لجاجت حکومت کو واپس کر دیا گیا۔
ایک اہم مطالبہ یہ بھی تھا کہ ٹیکسٹائل کے لیے تمام سہولتوں سے لیس ایک شہر بسایا جائے۔ تمام ویلیو چین کمپنیاں وہیں موجود ہوں۔اسی مطالبے کی بناء پر کراچی میں ایک ٹیکسٹائل سٹی قائم کرنے کا ڈول بڑی شان و شوکت سے 2003-4 کے لگ بھگ ڈالا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کراچی ، لاہور اور فیصل آباد میں ایک ایک گارمنٹس سٹی کی بنیاد بھی ڈال دی گئی۔ ہر پروجیکٹ کے لیے الگ الگ پروجیکٹ کمپنیاں بنا دی گئیں۔ ۔۔ پھر کیا ہوا؟ وہی جو ہم ایسے کرپشن اور بد انتظامی کے ماروں کا ہونا چاہیے۔ تیرہ سال بعد گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے روبرو سیکریٹری ٹیکسٹائل نے رپورٹ پیش کی کہ نومبر 2016 میں کراچی ٹیکسٹائل سٹی کے 65 ویں بورڈ اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ اس منصوبے پر گیس، انفراسٹرکچر اور وسائل کی عدم فراہمی کے باعث مزید کام کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے اس کمپنی کو رضاکارانہ تحلیل کر دیا جائے یعنی wind up کر دیا جائے۔ یہ تھی تعبیر اس مطالبے کی جس پر اربوں روپے لگے، بورڈ کو 65 اجلاس کرنے پڑے اور تیرہ سال برباد ہوئے۔
اس منصوبے کے لیے پورٹ قاسم سے 1250 ایکڑ اراضی 1.3 ارب روپے میں خریدی گئی۔ 2011 تک اس پروجیکٹ سے امیدوں کا یہ عالم تھا کہ اس وقت کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے بقول اس منصوبے کی تکمیل پر اسی ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ کمپنیوں کے لیے آٹھ سو کے لگ بھگ پلاٹس مخصوص ہو ں گے۔ 250 میگا واٹ کا اپنا بجلی گھر ہو گا۔ بیس ملین گیلن روزانہ کے حساب سے پانی کی فراہمی ہو گی۔ پانچ سال گذرے تو انکشاف ہوا کہ خواب تھا جو دیکھا تھا، افسانہ تھا جو سنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پروجیکٹ نیشنل بنک کا اڑھائی ارب رو پے کا مقروض ہے۔ مارک اپ کی رقم بھی نہیں۔ گیس کا بندو بست ہوا نہ انفراسٹرکچر کا۔ مالی وسائل کی تنگ دستی نے بھی جان نہ چھوڑی۔ بورڈ نے آخر کار دل کڑا کر کے بتا دیا کہ یہ بھاری پتھر اب جان کا روگ بن گیا۔ اسے لڑھکا دینا ہی اچھا۔ فنانس ڈویژن نے جھٹ سے آمنا و صدقنا کیا۔ رسمی منظوری کے لیے اب تجویز وزیر اعظم کے پاس ہے۔ لاہور کے ٹیکسٹائل سٹی کو چند سال قبل دیکھا تو ہنسی آئی کہ اس قدر نامکمل اور معمولی پروجیکٹ پر وقت اور وسائل برباد کیے ۔ اس کی تکمیل پر یہاں انڈسٹری آنے کو تیار نہ تھی۔ بڑی مشکل سے ایک کمپنی کو راضی کر کے اس کی شرائط پر کرائے پر اٹھا دیا گیا۔ یہی حال فیصل آباد کے گارمنٹس سٹی کا ہوا۔
دنیا کا سبھاؤ کیا ہے ؟ چین نے 80 کی دہائی میں KEPIAO میں ایسا ہی ایک شہر بنانے کا سوچا ۔ آج اس شہر میں 3.65 ملین میٹرز رقبہ تعمیر شدہ ہے، 29ہزار کمپنیاں کام کر رہی ہیں، چالیس ہزار سے زائد پروڈکٹس بنائے جاتے ہیں۔بارہ سو سے زائد غیر ملکی کمپنیوں کے نما ئندہ دفاتر ہیں۔ ملکی ٹیکسٹائل کا دس فی صد اسی ٹیکسٹائل سٹی میں بنتا ہے۔ اربوں ڈالر کی برآمدات ہوتی ہیں۔ فائبر سے گارمنٹس تک مکمل ویلیو چین کی چھوٹی بڑی بے شمار کمپنیاں اس شہر میں مصروف عمل ہیں۔
حادثہ ایک ہو تو سر پیٹیں ، تاسف کریں، آنسو بہائیں لیکن جب حادثوں کو دعوت دینے کی عادت ہی اپنا لیں تو کیا کیجیے۔ چھ سال قبل اسلام آباد کے مضافات میں سوا سو مسافر ایر لائن حادثے میں رزق خاک ہوئے۔ اس کے دو سال بعد اسلام آباد کی پہاڑیوں میں دوسرا حادثہ ڈیڑھ سو مسافروں کو نگل گیا۔ اب حویلیاں کے پاس مزید اڑتالیس مسافر ہماری غفلت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کراچی ٹیکسٹائل سٹی جیسے پروجیکٹس کا کیا رونا، یہاں حادثہ در حادثہ کے باوجود انسانوں کی حفاظت کا اہتمام نہیں ہو سکا۔ حادثہ ایک ہو تو روئیں، بقول احمد سلمان
یہ کیا کہ سورج پہ گھر بنانا اور اس پہ چھاؤں تلاش کرنا
کھڑے بھی ہونا تو دلدلوں پہ پھر اپنے پاؤں تلاش کرنا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *