جنید جمشید کی موت پر جشن

اسرا شمس

asra-shams

حویلیاں میں تباہ ہونے والے طیارے میں 48 افراد موت کے منہ میں چلے گئے جن میں ایک سابقہ سنگر اور بعد میں اسلامی سکالر بننے والے جنید جمشید شامل تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کی موت کے بعد لوگوں نے مختلف جذبات کا اظہار کیا ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی کہ اپنے سٹائل اور نظریات کی وجہ سے کچھ لوگ جنید جمشید کو ناپسند کرتے تھے اسلیےان کی موت کے بعد بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے نفرت انگیز اور بے باک طریقے سے جنید کی موت کا جشن منایا ہے۔ جیسے ہی جنید جمشید کی موت کی خبر سوشل میڈیا پر چلی تو ان پڑھ اور نام نہاد مسلمان اخلاقیات کو بھول کر عجیب و غریب تبصرے کرنے لگے۔ کچھ نے تو جنید کو دہشت گرد قرار دیا اور کچھ اس توہین رسالت کا مرتکب قرار دیتے رہے۔ بعض لوگوں نے جنید جمشید کو سیکسِسٹ یا عورتوں کا مخالف بھی قرار دیا۔ ذیل میں کچھ ٹویٹر اور فیس بک یوزرز کے بہت کچھ تبصرے درج ہیں جن سے مخالفین کی ذہنیت کا اندازہ کی جا سکتا ہے۔jashn

بہت بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لوگ یہ بھول چکے ہیں کہ زندگی موت اللہ کی طرف سے ہے اور کون کیا ہے اس بات کا علم بھی صرف اللہ ہی کو ہے۔ ہم کسی شخص کو موت کے بعد اس طرح کوسنے سے باز کیوں نہیں رہ سکتے؟ کیا ہمارا رویہ انسانی ہے؟ یا پھر ہم بھول چکے ہیں کہ ایک ذات ایسی بھی ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون کیا ہے ؟ ہم کیوں معاملات کو پبلک کے سامنے لا کر ایک مردہ شخص کے بارے اپنے فیصلے صادر کرتے رہتے ہیں؟ کسی دشمن کے بارے میں ایسا رویہ اختیار کرنے ہماری کم علمی اور غیر انسانی رویے کی دلیل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *