کلدیپ نیئر کا تجاہلِ عارفانہ

منیر احمد منیر مصنف بھی ہیں اور مؤرخ بھی۔ قائد اعظم اور تاریخ پاک و ہند ان کی تحقیق کے خصوصی میدان ہیں۔ منیر احمد منیر نے قائد اعظم پر کئے جانے والے مختلف اعتراضات کے تحقیقی جوابات بھی دئیے ہیں۔ ایک زمانے میں انہوں نے انٹرویوز کے مخصوص انداز سے خصوصی شہرت پائی۔ ’’قائد اعظم، اعتراضات اور حقائق‘‘ ان کی مشہور کتاب ہے۔ اس کے علاوہ منیر احمد منیر کئی دیگرکتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

منیر احمد منیرwriter

روزنامہ ایکسپریس لاہور24اکتوبر2014 ’’کلدیپ نیئر‘‘ اپنے کالم ’’بین السطور‘‘ میں ’’مذہبی تعصب اور تعمیر وترقی کا دعویٰ‘‘ کے عنواں تلے لکھتے ہیں:’’ مشرقی پاکستان پر زبردستی اردو نافذ کرنے کی کی کوشش کی گئی جس سے وہ آزاد و خودمختار بنگلہ دیش بننے پر مجبور ہو گیا۔‘‘
کلدیپ نیئر کا یہ مؤقف واقعاتی اور تاریخی لحاظ سے سراسر غلط ہے۔ پاکستان کے کسی حکمران یا حکومت نے مشرقی پاکستان پر زبردستی اردو نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ عام طور پر اس غیر حقیقی اقدام کا ذمہ دار قائد اعظم کو قرار دیا جاتا ہے کہ انہوں نے 21مارچ1948ء کوڈھاکہ میں ایک جلسہ عام میں اردو کوپاکستان کا قومی زبان ڈکلیئر کیا تھا۔ لیکن یہ فیصلہ قائد اعظم کا نہیں تھا، نہ کابینہ کا تھا۔یہ فیصلہ پاکستان کے دستور ساز اسمبلی نے کیا تھاجس کی تفصیل اس طرح ہے: کراچی25فروری1948ء پاکستان دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں مشرقی پاکستان، جو اس وقت مشرقی بنگال تھا، سے کانگریس کے ہندو رکن اسمبلی سردھریندرناتھ دتہ نے بنگالی کو قومی زبان قرار دیئے جانیکی تحریک پیش کی اور مشرقی پاکستان سے کانگریس کے دیگر ہندو ارکان اسمبلی بھوپندر کمار دتہ، پریم ہری شرما اور سریش چندر چٹور پادھیا نے تائید کی۔ مشرقی پاکستان سے مسلم ارکان اسمبلی نے اس کی شدید مخالفت کی۔ قائد ایوان لیاقت علی خان نے اپنی تقریر میں اس کے پیچھے کار فرما محرک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:۔۔۔۔۔سر، جب تک انگریزی سرکاری زبان رہی میرے معزز دوست نے کبھی اس کا برا نہیں منایا، کبھی بنگالی کے لیے اصرار نہیں کیا۔میں نے سالہا سال کے دوران مرکزی اسمبلی میں بنگال سے کسی رکن کی طرف سے کوئی آواز بلند ہوتے ہوئے نہیں سنی کہ بنگالی سرکاری زبان ہونی چاہیے۔ میں جاننا چاہوں گا کہ آج یہ آواز کیوں بلندکی جا رہی ہے؟ مجھے افسوس ہے کہ معزز رکن نے یہ سوال اٹھا نا ضروری جانا ہے۔ ہم بنگالی کی اہمیت یقینی طور پر سمجھتے ہیں۔بنگالی کو بنگال سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی طرح سے بھی صحیح نہیں ہوگا کہ کسی دوسرے صوبے کے عوام پر ایک ایسی زبان تھونپی جائے جو اس صوبے کی مادری زبان نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔ حکومت یا کسی بھی فرد کا بنگالی کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔ حقیقت کے طور پر میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے اور طویل تجربے کی بنیاد پریہ میرا ذاتی نقطہ نظر ہے کہ آپ کو ایک بچہ اس کی مادری زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں پڑھانا نہیں چاہیے۔۔۔۔ یہ سمجھنا کہ اردو بنگال میں مکمل طور پر بنگالی کی جگہ لے لے گی، ایسا کوئی ارادہ نہیں۔۔۔
خواجہ نظام الدین (مشرقی بنگال) نے دھریندر ناتھ دتہ کی تحریک کو مسترد کرتے ہوئے یہ بھی کہا:۔۔۔’’ اگر میں یہ کہوں کہ جہان تک صوبوں اور مرکز کے مابین رابطے کا تعلق ہے، ایسٹرن پاکستان کے اس زبردست، غالب اکثریت کو اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ اس مقصد کے لیے اردو ہی واحد زبان ہے جسے اختیار کیا جاسکتا ہے۔۔۔ مجھے یہ جا ن کر خوشی ہوئی ہے کہ معزز قائد ایوان نے واضح کر دیا ہے کہ صوبے سے بنگالی کونکال باہر کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔۔۔‘‘
محرک دھریندر ناتھ دتہ نے اپنی تحریک میں بنگالی کے حق میں کہا تھا کہ بھارت میں اکثریتی زبان ہندی کو قومی زبان قرار دیا گیا ہے اس لیے پاکستان میں اکثریت کی زبان بنگالی کو قومی زبان قرار دیا جائے۔ اس نکتے پر اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ ناظم الدین نے کہا: ’’جہاں تک مدراس ، بمبئی،یو پی اور اڑیسا کا تعلق ہے ان صوبوں میں عوام کی مادری زبان ہندی نہیں۔۔۔ حتیٰ کہ یو پی صوبے میں عوام کی اکثریت اردو بولتی ہے۔۔۔۔ انڈین ڈومینین کے تمام صوبوں کی مادری زبان ہندی نہیں۔ اس کے باجود ہاں ہندی سرکاری زبان کے طورپر تسلیم کی گئی ہے۔‘‘
مشرقی بنگال میں ہی مولوی تمیز الدین اور دیگر ارکان نے دھریندر ناتھ دتہ کی تحریک کی مخالفت کی۔ ان چند کانگریسی ہندو ارکان کے سوا پورے ہاؤس نے اردو کو قومی زبان بنانے کے حق میں ووٹ دیا۔ان میں حسین شہید سہر وردی، مولوی فضل حق،نورالامین،ڈاکٹر اے ایم ملک،ابوالہاشم اور خواجہ شہاب الدین وغیرہ بھی شامل تھے۔
مشرقی پاکستان پر زبردستی اردو نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ یہ تو دستورساز اسمبلی کا فیصلہ تھااور دستور ساز اسمبلی نے یہ فیصلہ تب کیا جب مشرقی پاکستان کے ہندو ارکان نے بنگالی کو قومی زبان قرار دیئے جانے کی تحریک پیش کی اور اس کی تائید کی۔ قائد اعظم جن کا پارلیمنٹ پر یقین اٹل تھا، نے ڈھاکہ کے جلسہ عام میں اسمبلی کے اس فیصلے کا اظہار کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے عوام کے اس عظیم اجتماع سے پوچھا: ’’ کیا آپ کاپاکستان پر ایمان ہے؟‘‘ عوام نے پوری قوت سے جواب دیا’’ہاں ہاں‘‘ پھر پوچھا’’کیا آپ چاہتے ہیں کہ ایسٹ بنگال یا بنگال کا کوئی حصہ انڈین یونین میں چلا جائے؟‘‘ عوام نے چیخ کر کہا’’ نہیں نہیں‘‘قائد اعظم ؒ کے اس اظہار پر بنگالیوں کی سوچ یہ تھی: قائد اعظم ؒ نے ٹھیک کہاہے اردو ہماری مذہبی زبان ہے اور بنگالی ہماری سیاسی زبان ہے۔ اور مشرقی پاکستان میں بنگالی کا یہ نعرہ مدت تک عام رہا جس کا اردو ترجمہ ہے: اللہ کی قدرت اور جناح کی شان، صبح اٹھتے ہیں تو پاکستان بنا دیکھتے ہیں۔‘‘
اب جو کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم کی اس تقریرکے دوران میں کسی نے کوئی گڑبڑ کی یہ سراسر غلط ہے۔ بعض شیخ مجیب الرحمن کا بھی نام لیتے ہیں جو اس وقت کچھ بھی نہ تھااور شاید ابھی ’’را‘‘ کے ساتھ اس کا لین دین بھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے گورنر جنرل قائد اعظم کے اس دورہ مشرقی پاکستان کے بارے میں ان کے چیف سکیورٹی افیسرہنسوٹیا سے جب پوچھا تو انہوں نے بتایا:’’ہم کو پتہ پڑا کہ جب قائد اعظم سلیم اللہ ہال میں یہ تقریر کریں گے تو ادھر ایجی ٹیشن ہوگا، بنگلہ زبان کے لیے ، لیکن جب قائد اعظمؒ نے لیکچر شروع کیا تو کچھ نہ ہوا۔ذرا بھی ہل چل نہیں دیکھی۔ ایک چڑیا کے موافق بھی شرر نہیں ہوا۔ آخر تک کسی بھی آدمی نے ایک بھی آواز نہ نکالی نہ کسی نے کچھ خلل ڈالا۔ کھانسی تک نہیں ہوئی کسی کو۔ اتنا silence(سناٹا) رہا۔‘‘(حوالہ دی گریٹ لیڈر(اردو) جلد اول صفحہ274)
پورے مشرقی پاکستان میں ایک جگہ گڑ بڑ کا خطرہ تھاسلیم اللہ ہال جہاں قائد اعظم نے کانووکیشن سے خطاب کرنا تھا۔ وہاں بھی کچھ نہ ہوا۔ یہ سب آج کے خود ساختہ تاویلیں ہیں کہ بنگالی اپنی زبان کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ مغل بادشہ اکبر اعظم نے 1573ء میں جب فارسی کو سرکاری زبان قرار دیا تو بنگال میں کوئی ہلچل نہ مچی اور اسے قبول کرلیا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے میں جب لارڈ میکالے نے 1837ء میں فارسی کو بے دخل کر کے بنگال میں انگریزی زبان نافذ کی تب بھی ڈھاکہ یا کلکتہ میں کوئی’’ شہید مینار‘‘ نہ بنا۔ بلکہ بنگالی انگریزی سیکھنے میں بے چین رہے اس کے لیے اخبارات میں اشتہارات تک دیتے رہے۔ حالانکہ وہ فارسی کو دل و جان سے اپنا چکے تھے۔ یہ اظہار مولوی اے کے فضل الحق نے آل انڈیا مسلم لیگ کے کلکتہ اجلاس 1938ء میں صدر مجلس استقبالیہ کی حیثیت سے اپنے خطبے میں کیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے بنگالی مسلمان زمینداروں کے ساتھ زیادتیوں اور نا انصافیوں کاذکر کرتے ہوئے کہا:’’ اس کے بعد ایک اورقانون جاری ہواجس سے مسلمانوں کی حیات قومی پرکاری حربہ لگاجس کے وہ متحمل نہ ہو سکے اور جس نے ان کے سیاسی ، اقتصادی اور معاشرتی کشتی کو موت کے گھاٹ لگادیا۔ یعنی 1835ء میں فارسی زبان کو دفتر اور دربار سے خارج کر کے اس کی جگہ انگریزی کو قرار دیا گیا جس کی رو سے مسلمان اپنی معاشرتی زبان سے محروم کر دیے گئے۔۔۔۔‘‘
بنگالیوں نے مغل دور میں فارسی کو سرکاری اور قومی زبان کی حد تک تسلیم کر لیا تھاکہ ان کے نزدیک یہ ان کی معاشرتی زبان تھی۔ پھر انگریزی کو بھی اس حد تک تسلیم کیا کہ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی۔ جس کا ذکر لیاقت علی خان نے اپنی اس اسمبلی تقریر میں بھی کیا جس کا ہم پیچھے ذکر کر چکے ہیں۔ پھر تحریک آزادی کے دوران میں جب ہندو قیادت نے اردو سے بیزاری اور ہندی سے اپنائیت زیادہ زور شور سے ظاہر کرنا شروع کر دی یہاں تک کہ گاندھی نے اردو کو بدیشی اور غلامی کی یادگار زبان قرار دیتے ہوئے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے عزم کا اظہار کیا اور اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیا جانے لگا تو تحریک پاکستان میں اردو برصغیر کے ہر مسلمان کی زبان سمجھی جانے لگی۔ حتیٰ کہ1937ء کے انتخابات کے بعد مولوی فضل الحق بنگال کے وزیر اعظم بنے تو اس دوران میں انہوں نے دہلی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ جب میں نے بنگال اسمبلی میں کہا کہ تم لوگوں کو اردو سیکھنی پڑے گی تو ہندؤوں نے بڑا واویلا کیا کہ یہ ہماری مادری زبان نہیں ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ ہاں مادری زبان نہیں ہے لیکن پدری زبان تو ہے‘‘
بھارت نے ہندی کو قومی زبان قرار دیا۔ جبکہ یہ کئی صوبوں کی مادری زبان نہ تھی۔ وہاں تو کسی بھی صوبے میں زبان کی بنا پر ایسی ہنگامہ آرائی نہ ہوئی جو اس کے علیحدگی کا سبب بنتی۔ پھر پاکستان میں اسے ایشو کیوں بنایا گیا جبکہ یہ سرے سے ایشو تھا ہی نہیں۔ اس لیے کہ یہ بھارتی ،روسی، امریکی، مغربی اور اسرائیلی ایجنڈا تھا کہ مشرقی پاکستان کو مسلم قومیت کی بنا پر وجود میں آنے والے ملک پاکستان سے الگ کیا جائے اور جب یہ انٹرنیشنل سازش کا میاب ٹھہری تو لارڈ مونٹ بیٹن کا بیان تھا کہ جب 1948ء میں انہوں نے بھارت کی گورنری جنرل شپ کا چارج راج گوپال اچاریہ کے سپرد کیا تو اچاریہ نے یہ کہا تھا، 25سال کے اندر مشرقی بنگال (مشرقی پاکستان) مغربی پاکستان سے جداہو جائے گا۔ تو کیا راج گوپال اچاریہ کو یہ ابہام ہوا تھا؟ نہیں یہ طے شدہ ایجنڈا تھا۔ جس کے متعلق بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کہتی ہیں کہ ان کے والدشیخ مجیب الرحما ن کے لیے ’’بنگلہ بندھو‘‘کا لقب بنیادی طور پر پاکستان توڑنے کا کوڈورڈ اوربھارت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے’’آزادی پلان‘‘کا حصہ تھا۔ اور بھارتی رائٹر اشوکا رائنا’’دی سٹوری آف انڈیا ز سیکرٹ سروس‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’را‘‘نے مشرقی پاکستان میں پاکستان کے خلاف باغیانہ جذبات او ر سیاسی بے چینی پیدا کی۔ ’’را‘‘ شیخ مجیب الرحمن کو بھی رقوم مہیا کرتا رہا اور بقول حسینہ واجد ’’پاکستان توڑنے کا واضح اور جامع پلان ان کے والد شیخ مجیب الرحمن المعروف بنگلہ بندھونے بھارت سے حاصل کیا تھا اور اس کام کے لیے ان کے بھارتی انٹیلی جنس سے برسوں سے رابطے تھے۔‘‘
1971ء کی جنگ میں بھارتی کمانڈر انچیف جنرل مانک شا کے سٹاف آفیسرلیفٹنٹ جنرل دپندرسنگھ، جو 71ء میں بریگیڈئیر سٹاف آفیسر تھے۔جنرل مانک شا کی سوانح عمری’’سولجرنگ ود ڈگنٹی‘‘ میں جنرل مانک شا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ہم نے مکتی باہنی کے اسی ہزار افراد تیار کئے۔ ان میں اکثریت مغربی بنگال اورمشرقی بنگال کے ہندؤوں کی تھی۔ بہت ساروں کو پاکستانی فوجی وردی پہنا کر آرڈر کیا جاتا مشرقی پاکستان جا کر ریپ کرو تاکہ سارا الزام پاکستان پر آئے۔ یہ ’’را‘‘ کا آپریشن تھا۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں نہ بنگالیوں کی خواہش کا دخل تھا اور نہ متحدہ پاکستان کے حکمرانوں کی غلطیوں کا، یہ اسلام دشمن قوتوں کا ایجنڈا تھا جو ہنوز جاری ہے۔
اور بھارتی صحافی کلدیب نیئر سیالکوٹی لکھتے ہیں: مشرقی پاکستان پر زبردستی اردو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی جس سے وہ آزاد اور خودمختار بنگلہ دیش بننے پر مجبور ہوگیا۔‘‘ اس کوکہتے ہیں تجاہلِ عارفانہ۔۔۔۔ جان بوجھ
کر انجان بننا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *