عمران خان کی ’’کپتانی‘‘ ....!

ata-ulhaq-qasmi-1

عمران خان صاحب کی سیاست اور اس کائو بوائے کے رویے میں مجھے بہت مماثلت نظر آتی ہے جو اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک بار میں گیا تو اسے اپنے سامنے والی میز پر چار نوجوان مے نوشی میں مشغول نظر آئے۔ کائو بوائے نے اپنے دوست سے کہا ’’یہ جو سامنے چار نوجوان بیٹھے ہیں ان میںسے مجھے ایک بہت زہر لگتا ہے‘‘۔ اس نے پوچھا ’’وہ داڑھی والا ؟‘‘ کائو بوائے نے کہا ’’نہیں‘‘ دوست نے پوچھا ’’نیلی قمیض والا؟ ‘‘ کائو بوائے نے کہا ’’نہیں‘‘ دوست بولا ’’جس نے گیلس والی پتلون پہنی ہوئی ہے۔کیا تمہیں وہ زہر لگتا ہے؟‘‘ اس پر کائو بوائے نے جھنجھلا کر پستول نکالا اور ان تینوں پر فائر کر کے کہا ’’وہ جو بچ گیا ہے ، مجھے وہ زہر لگتا ہے!‘‘
عمران خان کی سیاست بھی اسی کائو بوائے جیسی ہے، اسے غصہ نوازشریف پر ہے مگر وہ سارے ریاستی اداروں کو باری باری نشانہ بناتا چلا جارہا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نوازشریف ہر بار بچ جاتا ہے اور عمران خان صرف دانت پیستا رہ جاتا ہے۔ خان صاحب جتنے عرصے سے سیاست کررہے ہیں۔ اس عرصے میں اگر وہ اپنا نشانہ صحیح کر لیتے، مثبت کام کرتے، لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بناتے، گالم گلوچ اور بہتان لگانے اور ادھر ادھر فائرنگ کرنے کی بجائے اپنے ٹارگٹ پر نظر رکھتے تو شاید کچھ نہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے، مگروہ اپنے دوستوں پر فائرنگ کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر نوازشریف کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں ’’یہ جو بچ گیا ہے نا، مجھے یہ زہر لگتا ہے‘‘۔
عمران خان کی جماعت میں دو تین ’’دانے‘‘ خاصے سمجھدار ہیں اور سیاست کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ مگر خان صاحب اگر ملک میں جمہوری پراسیس ہی کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے پائوں تلے روندتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھتے رہتے ہیں تو وہ اپنی پارٹی میں جمہوریت کہاں برداشت کریں گے، چنانچہ وہ بظاہر اپنی پارٹی کے رہنمائوں سے مشاورت کرتے ہیں مگر عمل صرف اس مشورے پر کرتے ہیں جو انہیں پسند آئے۔ ورنہ ان کی ساری جماعت یک زبان ہو کر بھی کوئی مشورہ دے تو وہ اسے پائے حقارت سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ ایک شخص کا پائوں پہاڑ کی چوٹی سے پھسلا تو اتھاہ گہرائیوں میں گرنے سے پہلے ایک درخت کی شاخ اس کے ہاتھ میں آگئی۔ اس نے نیچے نظر ڈالی تو ہزاروں فٹ گہری کھائیاں نظرآئیں ادھر ادھر دیکھا تو دور دور تک کوئی نظر نہ آیا۔ وہ زور سے چیخا ’’کوئی ہے جو مجھے بچائے؟‘‘ غیب سے آواز آئی ’’میں تمہارا خدا ہوں، جو میں کہوں وہ کرو، تم بچ جائو گے!‘‘ اس نے کہا ’’باری تعالیٰ، میں وہی کروں گا جو آپ کہیں گے‘‘ آواز آئی ’’تم نے جو شاخ پکڑی ہوئی ہے، وہ چھوڑ دو‘‘ یہ سن کر اس شخص نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر پوری قوت سے پکارا ’’کوئی اور ہے؟‘‘ خان صاحب کو بھی جب اپنی پسند کا مشورہ نہیں ملتا خواہ وہ ان کی بہتری ہی کے لئے کیوں نہ ہو، وہ بھی ادھر ادھر دیکھ کر یہی کہتے ہیں ’’کوئی اور ہے؟‘‘ خان صاحب نے اپنے مشہور زمانہ دھرنے کے دوران امپائر کی انگلی پر بھروسہ کیا ہوا تھا، جاوید ہاشمی نے انہیں مشورہ دیا کہ اگر جمہوریت پسند حلقوں میں اپنی ساکھ بہتر بنانا ہے تو تم یہ ’’شاخ‘‘ چھوڑ دو، مگر خان صاحب نے اپنے اس مخلص دوست ہی کو چھو ڑدیا، نتیجہ یہ کہ وہ ابھی تک درخت کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں اور تاحد نظر کھائیاں ہی کھائیاں ہیں!
اب صورت حال یہ ہے کہ ملک کے سنجیدہ طبقے یہ سوچ کر لرزہ براندام ہو جاتے ہیں کہ اگر کہیں ملکی معاملات میں عمران خان اور ان کے معتمد خاص شیخ رشید کی عملداری وجود میں آئی تو ملک کا کیا بنے گا؟ کیونکہ خان صاحب کو تو صرف جمناسٹک آتی ہے، وہ اپنی قلابازیوں سے ناظرین کو محظوظ تو کرسکتے ہیں، مگر انہیں محفوظ نہیں بنا سکتے۔ وہ تو ہر خطرے کے موقع پر ’’حلوے کی دیگیں پکوائو‘‘ کا حکم دیں گے اور جب خطرہ سر پر آپہنچے گا تو وہ لندن اپنی فیملی کے پاس چلے جائیں گے۔ اللہ نہ کرے ہم پاکستانیوں کو کہیں وہ ’’نیا پاکستان‘‘ ملے جس کا خاکہ عمران خان اور شیخ رشید کا تیار کیا ہوا ہو! عمران خان وہ پائلٹ اور شیخ رشید وہ ’’کو پائلٹ‘‘ ہیں جن کی کپتانی میں خطرات ہی خطرات ہیں۔ ایک جہاز فضا میں غوطے کھانے لگا تو مسافروں نے چیخ و پکار شروع کردی، ایئر ہوسٹیس مسافروں کے کام و دہن کی تواضع کے لئے ٹرالیوں میں جو سامان خورونوش لئے اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں، انہوں نے گھبرا کر سب کچھ وہیں چھوڑا اور اپنی اپنی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئیں۔ اس دوران جہاز کے کپتان کی آواز اسپیکر پر سنائی دی ’’معزز مسافروں سے درخواست ہے کہ وہ بالکل نہ گھبرائیں، وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ اپنے دلوں سے خوف نکال کر کھڑکی سے نیچے دیکھیں آپ کو خوبصورت نیلا سمندر نظر آئے گا جس پر رنگ برنگے آبی پرندے اڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مختلف رنگوں کی خوبصورت کشتیاں بھی سمندر میں رواں دواں ہیں۔ یہ جو آپ کو سرخ رنگ کی کشتی نظر آرہی ہے، میں اسی کشتی میں سے بول رہا ہوں‘‘۔
پاکستانی عوام کو عمران خان بھی ایک ایسا ہی کپتان نظر آتا ہے۔ اللہ رحم کرے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *