عزم اور یکسوئی

حاضر حسین

hazir

ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ کامیابی حاصل کرے اور اپنی منزل پائے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر انسان کی اپنی اپنی صلاحیت اور ذہنی لیول ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ہر کوئی کامیابی اور متعین کردہ منزل کے پیچھے بھاگ رہا ہوتاہے ۔ چائے وہ کوئی سکول ہو یا کالج ،یونیورسٹی یا پھر کوئی صنعتی ادارہ، طالب علم اور کارکن اپنے اپنے مقصد کیلئے اور اپنی منزل پانے کیلئے کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم کامیابی پر بات کریں گے کہ کامیابی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ میرے فہم کے مطابق جب ہم اپنی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں تواس کیلئے پہلے منزل کاتعین کرنا ضروری ہے۔ تاکہ ہم اپنا ذہن اس کے مطابق تیار کر لیں۔ اس کے بعد اپنے متعین کردہ راستے پر ہم چلتے جاہیں تو منزل ایک نہ ایک دن مل ہی جائے گی۔
ایک کالج کے طالب علم کا مقصد ہوتا ہے A+ گریڈ حاصل کرنا لیکن ایسے بہت کم خوش نصیب ہوتے ہیں جو A+ گریڈ میں پاس ہوتے ہیں۔ باقی طلبہ کو بھی وہی تمام سہولیات دستیاب ہوتی ہیں لیکن یا وہ کم نمبر وں سے پاس ہوتے ہیں یا کچھ طلبہ فیل بی ہو جاتے ہیں۔
اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ پیچھے رہے جانے والے طلبہ اور طالبات اپنے اصل مقصد کو فوکس کرنے کی بجائے ادھر اُدھر کا کاموں پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ نکل آتاہے کہ وہ فیل ہو جاتے ہیں۔
یہی اُصول ہماری زندگی پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ جب کمپنی کے CEOکی طر ف سے کوئی کام سونپا جاتا ہے تو ہم اس کام میں لگنے کی بجائے ٹامک ٹوہیاں مارنے میں مصروف رہتے ہیں اور وقت ضائع کرتے ہیں۔
ہم فوکس اور عز م کی مثال چوروں اور دہشت گردوں کی لیتے ہیں۔ دہشت گردوں کا کام لوگوں کو مارنا اور معاشرے میں خوف وحراس پیدا کرنا ہوتاہے۔
اور وہ اس انسانیت سوز کام کو اپنے لیڈر کے کہنے پر عزم اور کیسوئی سے سرانجام دیتے ہیں کہ دُنیا بھر کی پولیس فورس اور سکیورٹی ایجنسیز اُن کو اپنے کام سے روکنے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔ انکی کامیابی کاراز عزم اور یکسوئی کے وہ غلط مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
میں ایک مثال اپنے طالب علمی کے دور کی دینا چاہتا ہوں۔میں سکو ل اور کالج میں ایک اوسط درجہ کاطالب علم تھا۔اور 60% یا75% کے درمیان میر ے مارکس رہتے۔میں اس پوزیشن کو برقرار رکھا ہوا تھا۔میرے اساتذہ مجھے کہا کرتے تھے کہ میں زیادہ نمبر نہیں لے سکتا میری کمزوری یہ تھی کہ میں پڑھائی پر کم دھیان دیتاتھا ۔ پھر بی کام میں میر ے 90%مارکس آئے اور مجھ کو اپنے Batchمیں گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ کیونکہ میں نے اپنی کمزوری کو ڈھونڈ لیا اور پورے دو سال تک محنت کی۔
میں اس بحث کو اس نکتے پر ختم کرنا چاہتاہوں کہ کامیابی کسی بھی انسان کی ذاتی جاگیر نہیں اسے کوئی بھی حاصل کر سکتا ہے۔ ہم عزم اور یکسوئی ساے اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی منزل کا تعین کریں اور اسے پانے کیلئے کوشش کریں۔ اور کامیابی کیلئے لائحہ عمل کاہونا ضروری ہے۔ کامیابی کی راہ میں مشکلات اور مسائل آتے ہیں لیکن ہمیں مستقل مزاجی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور ہمیشہ پُر امید اور پُر عز م رہناچائیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *