کزن کے ہاتھوں بے آبرو ہونے والی طالبہ کا خط

نامعلوم

امید ہے تم ٹھیک ہو گے۔ مجھے معلوم ہے کہ میں ایک عرصہ سے تم سے دوری اختیار کیے ہوئے ہوں۔ جب ہم ایک ہی جگہ پر ہوتے ہیں تب بھی میں ایسے ظاہر کرتی ہوں جیسے میں تمہیں نہیں جانتی۔ یہ عجیب بات نہیں ہے؟  میں کب تک تم سے سلام دعا کرنے کے باوجود  تم سے لاتعلقی کا ڈرامہ کر پاوں گی۔ میں تم سے نظریں تک نہیں ملا سکتی۔ تم نے دیکھا تو ہوگا۔ یہ اس لیے کہ میں وہ بھولی نہیں جو میرے ساتھ ہوا ہے۔ مجھے یاد ہے جب تم نے مجھے زبردستی اپنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کو کہا اور پھر تم میرے قریب آگئے ۔ میں اتنی خوف زدہ تھی اور تم نے میرا ہاتھ اس قدر زور سے پکڑ رکھا تھاکہ میری چیخ نکلنے والی تھی۔ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں لیکن پھر بھی میں چپ رہی ۔ میں نے تمہیں بتایا نہیں لیکن میں تم سے بہت ڈرتی تھی۔ اس وقت مجھے لگا کہ جو تم نے میرے ساتھ کیا وہ میری غلطی تھی۔

میں سہمی ہوئی تھی اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ کسے اپنا دکھڑا سناوں۔ اس لیے میں بیڈ پر لیٹ گئی اور روتے روتے سو گئی۔ وہ آخری دن تھا جب میں نے کسی سے آنکھیں ملا کر دیکھا تھا۔ 11 سال گزر چکے ہیں لیکن میں آج بھی کسی سے آنکھیں نہیں ملا سکتی۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے جو تم نے میرے ساتھ کیا وہ ہر کسی کو معلوم ہو۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو اندازہ ہے کہ میں کتنی شرمندہ ہوں  اور میں کیسے اپنے ماضی سے بھاگ رہی ہوں جسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ خط لکھنے سے مجھے فائدہ ہو گا یا نہیں لیکن میں کسی اور سے بات بھی تو نہیں کر سکتی۔

 کوئی بھی میرے احساسات کو سمجھ نہیں سکتا۔ کاش میں اس خط کو پڑھ سکتی۔ کاش میں اپنے خوف پر قابو پا سکتی۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب میں تمہیں ایک اچھا انسان سمجھتی تھی۔ ہم اکٹھے کھیلتے تھے اور میں تمہیں پسند کرتی تھی۔میں تمہیں کزن کم اور دوست زیادہ سمجھتی تھی۔ کاش میں چیخ چیخ کر سب کو بتا سکتی کہ تمہاری نیت کیا تھی۔  مجھے یہ سمجھنے میں چار سال گزر گئے کہ مجھے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مجھے تب معلوم ہوا جب یونیورسٹی میں مجھے بتا چلا کہ جنسی درندگی کیا چیز ہوتی ہے۔ میں ایک لمبے عرصے تک یہ الفاظ بھی نہ ادا کر سکی کہ میرے ساتھ جنسی تشدد ہوا ہے۔

آج بھی میں اس بات میں بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ ہر بار میرا احساس جرم مجھے خاموش کر دیتا ہے۔ ہر روز میں اپنے آپ کو ٹوٹتا ہوا محسوس کرتی ہوں۔ میں اپنے آپ کو تسلی دیتی ہوں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن کچھ دن بہت بھاری ہو جاتے ہیں۔ ایسے دنوں میں میں اپنے آپ کو مزید تکلیف سے گزارتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ میرے خوف کے سائے دور نہیں ہوں گے۔ لیکن یہ تسلی عارضی ہوتی ہے۔ جب میں نے پہلی بار اپنے آپ کو زخمی کیا تو سوچا کہ میں اسی چیز کی حقدار ہوں۔ یہ سوچ کر تکلیف  کم ہوگئی۔ پھر میں ایسا اکثر کرنے لگی اور اب مجھے یاد  نہیں کتنی بار میں اپنے آپ کو سزا دے چکی ہوں۔

مجھے نہیں معلوم میں یہ لکھ کیوں رہی ہوں۔ میرے تھیراپسٹ نے مشورہ دیا ہے کہ اپنے احساسات تو تحریروں میں لاوں۔ تین سال اپنے آپ کو تسلیاں دینے کے بعد میں نے تھیراپسٹ کے پاس جانا شروع کر دیا۔ تھیراپی کا آغاز کیے تین ماہ گزر چکے ہیں لیکن اب بھی میں اپنی تکلیف بیان کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ تھیراپسٹ کو بھی نہیں معلوم شاید اس لیے کہ میں اسے اپنی غلطی سمجھتی ہوں۔ کاش میں تم سے پوچھ سکتی کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ کیا یہ میرا لباس پہننے کا طریقہ تھا جس نے تمہیں ایسا کرنے پر ابھارا؟ یا یہ میرا بیٹھنے، چلنے کا بات کرنے کا طریقہ تھا ؟  میں یہ جاننا چاہتی ہوں۔

 مجھے ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ میرے ساتھ ایسا دوبارہ نہ ہو جائے۔ میں عصمت دری کے خوف سے اتنی بری طرح شکار ہوں کہ اس سے میری زندگی میں بہت الجھاو آ گیا ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ میں ڈپریشن کا شکار بھی ہوں۔ ہر چیز میرے دماغ پر بوجھ بنتی جا رہی ہے لیکن میں خود کو نارمل سمجھ رہی ہوں۔ میں اپنے ماضی کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی ہوں  اور کبھی کبھار سوچتی ہوں کہ تعلیمی سال اس پریشانی کے بغیر کیسے گزر گئے۔ لیکن یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ اچھا ہی ہوا کہ اس وقت میں نے کچھ اچھے دن گزار لیے۔

تب مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ کوئی غیر معمولی بات ہے اور یہ کہ ہزاروں لوگ اس غم میں روزانہ کئی بار مر مر کر جیتے ہیں۔ تم نے مجھے بدل دیا اور اب میں وہ دن یاد کرتی ہوں جب میں ایک نارمل لڑکی ہوا کرتی تھی۔ میں بہت پر اعتماد تھی۔ لوگ میری تعریف کرتے تھے۔ کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ تمہارے اس کام کے بعد میرا کیا بنا ہوگا؟  تم نے کبھی اپنے گھٹیا عمل پر دوبارہ غور بھی کیا۔ تمہارے دماغ میں اخلاقیات کی حس موجود نہیں تھی جس نے تمہیں روکا ہو؟  تمہیں معلوم ہے اس دن کے بعد کتنے دن گزر چکے ہیں؟  اس دن میں اپنی امی کا بنے کھانے کا ایک نوالا تک نہیں کھا پائی۔ انہیں  نہیں معلوم تھا کہ مجھے کیا ہوا ہے۔ میں انہیں بتا بھی نہیں پا رہی تھی۔

 میرا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ میں خود سن پا رہی تھی۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے اور ماما مجھے ڈانٹ رہی تھیں کہ میں کھانا کیوں نہیں کھا رہی۔ تب میں رو پڑی۔ کافی عرصہ بعد مجھے سمجھ آئی کہ تم میرے ساتھ یہ زیادتی روزانہ کیوں کرنے لگے۔ اس کی وجہ میرا خوف تھامجھے یاد ہے اس وقت مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ ہوا کیا ہے۔ تب مجھے لگا تم دوبارہ ایسا نہیں کرو گے  لیکن میں بیوقوف تھی۔ مجھے یاد ہے جب تم نے مجھے دوست کے گھر ڈراپ کرنے کا بہانہ بنایا اور ساتھ لے گئے اور کار میں بیٹھ کر میرے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگے  اور کہا کہ تمہیں اچھا لگتا ہے کہ تم مجھے خوفزدہ دیکھو۔

مجھے یاد ہے کہ میرے جسم کو چھونے کے بعد تم نے کہا تھا: مجھے اگلی بار ایسا مت کرنے دینا۔ میں یہ سن کر حیران رہ گئی تھی۔ میں نے تو کبھی تمہیں ایسا کرنے کا کہا ہی نہیں تھا۔ تم مجھے کیوں الزام دے رہے تھے؟ یہ الفاظ ہمیشہ کے لیے میرے دماغ میں بیٹھ گئے۔ میں سوچنے لگی یہ میرا قصور تھا۔ لیکن میں جنسی ہراسمنٹ کے قصے پڑھتی رہتی ہوں۔میں نے ایک آرٹیکل میں پڑا کہ جنسی تشدد کرنے والے لوگ اس طرح کے جملے بولتے رہتے ہیں تا کہ ان کے شکار لوگ اندازہ نہ کر پائیں کہ اصل میں کیا معاملہ ہے۔  تم نے بھی ایسا ہی کیا۔ تم نے میرا فائدہ اٹھایا اور مجھے ہی اپنی نظروں میں مجرم ٹھہرا دیا۔

تمہیں اس بات کا کوئی احساس جرم نہیں ہوا؟  مجھے معلوم ہے جو ہو گیا سو ہو گیا۔ اب تم یامیں اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ اس سے میری زندگی کتنی بدل گئی۔ تم نے مجھے مار ڈالا۔ تم نے میری شخصیت کو مار ڈالا۔ ایسے معاملات میں ظلم کرنے والا جی لیتا ہے اور بھول بھی جاتا ہے لیکن مظلوم کے لیے ایک پنڈورا بکس کھل جاتا ہے۔ میرے لیے اپنے خوف پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ اور کئی نئے خوف مجھ پر چھا گئے۔ میں محفوظ ہونے کے باوجو دخوف میں مبتلا رہتی ہوں۔ اب میں کسی پر بھی اعتبار نہیں کر سکتی۔ اپنے اچھے دوستوں سے بھی میں خائف رہتی ہوں۔ میں سمجھتی تھی کہ تم بھی اچھے انسان ہو۔

 میں اپنے مرد اساتذہ سے سوال پوچھنے میں بھی گبھراہٹ محسوس کرتی ہوں۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ میں اپنے ان عجیب خوف  کی وجہ سے کس قدر پریشانی میں ہوں۔ تمہیں شاید کبھی پتا ہی نہ چلے کہ خوف ہوتا کیا ہے۔ زندگی کی ہر چیز میرے پاس ہونے کے باوجود اس ڈر کی وجہ سے میں اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے رکھتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے ہاتھوں کی حرکات اور اشارے کسی اور پاگل کو ایسے عمل پر مجبور نہ کریں ۔ اس لیے میں زیادہ وقت تنہائی میں گزارنا پسند کرتی ہوں۔

میں اب ان لوگوں سے بھی خوف محسوس کرتی ہوں جنہیں میں بچپن سے جانتی ہوں۔ میں اپنے آپ سے ہی خوفزدہ ہوں۔ میں ایسے محسوس کرتی ہوں جیسے میں ایک ڈراونا خواب دیکھ رہی ہوں اور اپنے آپ کو جگا نہیں پا رہی۔ میں ہر وقت روتی ہوں اور اپنے آپ سے تنگ ہوں۔ مجھے اب کسی چیز میں دلچسپی نہیں رہی۔ میں خود کشی کرنا چاہتی ہوں لیکن امی کے بارے میں سوچ کر رک جاتی ہوں کہ ان کا جینا مشکل ہو جائے گا۔ لیکن پھر بھی ہر روز خود کشی کے بارے میں سوچتی ہوں۔ میں اب جو بن چکی ہوں اس سے سخت نفرت محسوس کرتی ہوں۔

مجھے نہیں معلوم کہ کبھی تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گا یا نہیں لیکن میں چاہتی ہوں کہ تم میرے لیے دعا کرو۔ دعا کرو کہ میں اس کیفیت سے نکلوں اور بچ جاوں۔ دعا کرو کہ میں تمہیں بھول پاوں۔ دعا کروں کہ میں اپنے آپ کو کاٹ کر زخم لگانے سے باز آ سکوں ۔ پلیز میرے لیے دعا کرو۔ اس سے زیادہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتی۔ شاید اللہ تمہاری دعا قبول کر لے۔

تمہاری مخلص

تمہاری کزن

http://blogs.tribune.com.pk/story/43943/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *