اگر مجھے مل جائے نیا سال۔۔۔!!!

mian waqas zaheer

میں علالت کے باعث بستر مرگ پر لیٹا تھا تین دن بخار نے میری اچھی خاصی چیخیں نکلوائی تھی تب احسا س ہوا کہ بستر کی قید بھی کسی بڑی سزا سے کم نہیں ، ہم اپنی ابدی زندگی میں ناجانے کتنے بار بیمار ہوتے ہیں ، جتنے دن مصیبت رہی اس وقت تو واویلا کرتے ہیں اور دوبارہ ناشکری شروع کردیتے ہیں جو ہر انسان کے سرشت میں شامل ہے،ہم ایسے مفاد پرست ہیں کہ ہمیں صحت یاب ہونے کے بعد اپنے طبیب کی یاد نہیں آتی ، میں بیماری سے نڈھال بستر پر لیٹا تھا کہ وہ میرے کمرے میں داخل ہوا ، اس کی سانس پھولی ہوئی تھی ، چہرے پر پریشانی کے تیوروضع تھے، ماتھا پسینے سے شرابور ، گھبراہٹ سے اس کے منہ سے آواز بھی ٹھیک سے نہیں نکل رہی ہے ، وہ بات بات پر لڑکھڑ ا رہا ہے ، اس نے اچانک ماتھا پیٹنا شروع کردیا ، ہائے ! میں برباد ہوگیا ، میں لٹ گیا ، میری مٹی رُل گئی، ہائے! کمبخت ماروں تمہیں کیا ہوگا ، میں نے اس کی حالت دیکھ کر خود ہی ہمت باندھی اپنے بستر سے اٹھا اور اپنے قریب بیٹھا لیا ، شیشے کا جگ اٹھایا گلاس میں پانی ڈال کر اس کی طرف بڑھایا ، اس نے پانی غٹا غٹ پینا شروع کردیا ، پھر دوسرا گلاس پیا، میں نے ٹشو اس کی طرف بڑھا اس نے منہ اور ماتھا سے پسینہ صاف کیا ، پانی پی کر اس کے اوسان کافی حد تک بحال ہوچکے تھے ، میں نے اس سے مسئلہ پوچھا تو کافی دیر تک تو میرا سوال سن کر گم صم بیٹھا رہا، چند لمحے بعد اس نے زبان کا قفل توڑا ، جناب! مجھے نہ تو خالص ادویات ملتی ہے ، نہ دودھ ، نہ پانی اور حتیٰ کہ شراب بھی زہریلی ہے، پھر بھی حکمران جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں، اس نے اپنے شکوے میں میرے آگے سوال رکھا ، میں نے بات کا موضوع تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ تم ہو کون ،تمہارا تعارف کیا ہے ، اس نے بھی دوبارہ تقریر شروع کردی میں آپ کو بینکوں کے باہر قطار میں کھڑے ہو کر بل جمع کرواتا ہوا ملوں گا ، کبھی شناختی کارڈ کے حصول کیلئے نادرا کے دفاتر کے دھکے کھاتا ہوا ملوں گا ، کبھی پاسپورٹ آفس میں پریشان حال ، کبھی واپڈ ، واسا ، سوئی گیس ، انکم ٹیکس آفس میں افسروں کے سامنے اپنے حقوق کے حصول کیلئے فریادیں کرتا ملوں گا ، میں نے اس کی بات کاٹی لیکن تمہاری اس پوری تقریر میں تمہارے نام کاکہیں ذکر نہیں ، اس نے مجھ پر طنز کے نشتر چلانے شروع کردیئے ،کمال کرتے ہیں میں آپ کو اچھا خاصاسمجھدار انسان سمجھ رہا تھا آپ تواس وقت مجھے دنیا کے سب سے بڑے بیوقوف لگے ہیں ، پھر اس نے شعر پڑھاؔ
مجھے شہروں سے اندازہ ہوا ہے
درندے اب نہیں ہیں  جنگلوں میں
میں نے گفتگو کا دوبارہ سلسلہ جوڑا، ٹھیک ہے مثبت تنقید آپ کا حق ہے لیکن آ پ نے مجھے نہیں بتا یا کہ آپ کون ہیں ، کیا آپ نے کسی کو ہسپتالوں کے دروازوں پر سسکتے، بلکتے مرتے نہیں دکھا ، ہاں !دیکھا ہے، پھر بھی آپ مجھ سے میرا نام پوچھ رہے ہیں ، بھئی! ہسپتالوں میں ماجے، ساجے ، دینے ، گامے کے ناموں والوں کو مرتا دیکھا ہے ، گڈ۔۔ آپ نے اپنے ذہن پر زور دینا شروع کردیا ، تھوڑی سی شعور مزید آنکھ کھولیں آپ کو ان سب کا ایک یکساں نام مل جائے گا، بس! میرا تعارف یہی ہے، میں سمجھ گیا میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تم عام آدمی ہو، جی ۔۔۔جی ! آپ صحیح پہچانے ۔۔۔ جی میں وہی ہوں۔
تو میرے پاس کیا لینے آؤ ہو میں اشرافیہ ہوں ، صاحب نیا سال شروع ہوگیا ہے اس نے کہا ۔۔ہاں تو ، اگر مجھے یہ سال مل جائے۔۔۔۔۔۔ تو کیا کروں گے میں نے کہا ، جناب !اگر مجھے نیا سال مل جائے تو اپنے گناہوں کا بوجھ ہلکا کروں گا ، غریبوں کے آنسوں پونچھ دوں گا، صرف محبتوں کے پھول دوسروں کی زندگی میں سجاد دو ں گا ۔۔۔ اگر مجھے مل جائے نیا سال۔۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *