افغانستان میں پاک بھارت پراکسی وارکا خطرہ ہے، پرویز مشرف

musharafسابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ افغانستان سے نیٹوافواج کا انخلاء پاکستان اور ہندوستان کو پراکسی وار کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں پرویز مشرف نے نئے افغان صدر اشرف غنی کی بھی تعریف کی جنھوں نے گزشتہ ہفتے پاکستان کا پہلا دورہ کیا ہے۔پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدوں پر کشیدگی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ افغانستان میں امن قائم کیا جا سکے۔سابق صدر نے کہا کہ افغانستان میں ہندوستان کا عمل دخل پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مزید خطرہ ہے کیوں کہ ہندوستان ایک اینٹی پاکستان افغانستان بنانا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ تقسیم ہند کے بعد سے ایٹمی طاقت کے حامل دونوں پڑوسی ممالک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تین جنگیں لڑی جاچکی ہے جبکہ متعدد بار چھوٹی جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں تاہم 1998ء میں دونوں ممالک کی جانب سے نیوکلئیر ہتھیاروں کے ٹیسٹ کے بعد سے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔پرویز مشرف نے ہندوستان پرجنوبی افغانستان میں قائم کیمپوں کے ذریعے پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں علیحدگی پسند قوم پرستوں کی حمایت کا بھی الزام لگایا۔
اگرچہ وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کی حالیہ ملاقات میں اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ان کے تین دن کے دورے میں تیرہ سال کے اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔تاہم سابق صدر پرویزمشرف نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹو افواج افغانستان سے چلی گئیں تو روایتی حریفوں کے مابین جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ رواں برس امریکا کی اتحادی نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلاء مکمل ہو جائے گا، ایسے وقت میں افغانستان میں قیامِ امن کے کے لیے پاکستان کی حمایت بہت ضروری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *