پاکستانی خواتین اور کبڈی

SARAH  ELEAZAR

Pakistan women's kabaddi team practicing. — AFP

ثنا جنگلے کے پاس مضبوطی سے کھڑی رہی اور اپنی ساتھیوں کو ہدایات دیتی رہی۔ لیکن اس کی ہدایات میچ دیکھنے والوں کے شور و غوغا کی وجہ سے کھلاڑیوں تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں۔ یہ میچ واپڈا سپورٹس کمپلیکس میں کھیلا جا رہا تھا۔ عوام یہاں پاکستان کا پہلا قومی خواتین کبڈی چمئین شپ کا پہلا میچ دیکھنے آئے تھے۔

۷ ارکان پر مشتمل دفاعی یونٹ نے بہت تیزی سے ریڈر کو گھیرے میں لے لیا۔ ثنا یہ دیکھ کر تھوڑی پریشان ہوئی اور تبھی انہیں ریڈر چپکے سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوتے دکھائی دیا ۔ ثنا نے ایک زوردار چیخ مار کر اپنی خوشی کا مظاہرہ کیا ۔ ثنا کی ٹیم گلگت بلتستان کی نمائندگی کر رہی تھی۔ انہوں نے بتایا: ہماری ٹیم نے ابھی 2 ماہ قبل ہی کھیلنا شروع کیا ہے اور ہمارا مقابلہ ایک ملک کی بہترین ٹیم سے ہو رہا ہے۔ ٹیگ ریسلنگ ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی سانس روک سکیں، حملہ کریں، دوسرے کھلاڑیوں کو چقمہ دیں، اور اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کو مضبوطی سے ناکام کر سکیں۔

ہمارے ملک میں یہ کھیل بہت شوق سے کھیلا جاتا ہے اور پاکستان نے آج تک بہت سے کبڈی پلئیرز پیدا کیے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔ لیکن پاکستان کے زیادہ تر اکھاڑے اور ٹریننگ سینٹرز صرف مردوں کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ زیادہ تر سپورٹس صرف مردوں کے لیے مخصوص رکھے جاتے ہیں۔ اب تک ملک میں عورتوں کو کبڈی کے کھیل میں مہارت دینے کا فیصلہ عوام میں پذیرائی حاصل کرتا دکھائی دیا ہے۔ لیکن مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو اس کھیل میں بہت کم مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ سرور رانا جر پاکستان کبڈی فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ہیں کے مطابق ملک کی خواتین اس چیز کو مناسب نہیں سمجھتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور میڈیا مل کر عوام کو یقین دلائیں کہ ہمارے ملک کو بہترین خواتین کبڈی پلئیرز کی اشد ضرورت ہے۔

جب پنجاب کی ٹیم نے میچ میں فتح حاصل کی تو گلگت بلتستان کی ٹیم نے تالیاں بجا کر داد دی۔ ثنا کو شکست کا دکھ تھا لیکن وہ ٹیم کو مبارکباد دینے پہنچی اور ٹیم کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے ٹیم کو سپورٹ کرنےکے لیے یونیورسٹی سے چھٹی کی تھی۔ وہاں موجود ایک کھلاڑی اقرا اشرف نے کہا کہ اس وقت سب سے تجربہ کار ٹیم واپڈا اور آرمی کلب ہیں۔ انہوں نے کہ کاش وہ بھی واپڈا ٹیم کا حصہ ہوتیں۔ 18 سالہ یہ طالبہ پنجاب کالج فیصل آباد میں سیکنڈ ائیر میں پڑھتی ہیں اور اسلام آباد کی نمائندگی کر رہی تھیں۔وہ اس سے قبل بھی مختلف طرح کے کھیلوں میں اپنے سکول اور کالج کی نمائندگی کر چکی ہیں جن میں ہینڈ بال، نیٹ بال، والی بال، کرکٹ، باسکٹ بال شامل ہیں۔ چمپئین شپ سے 2 ماہ قبل انہیں ٹیم میں منتخب کیا گیا۔ اشرف نے بھی کوشش کی کہ انہیں واپڈا میں منتخب کیا جائے لیکن تب تک واپڈا کی ٹیم کی سلیکشن مکمل ہو چکی تھی۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیموں کی سلیکشن جلدی میں کی گئی ہے اور تربیت کے لیے بہت کم وقت دیا گیا ہے۔ واپڈا اور آرمی کی ٹیمیں پہلے بھی نیشنل لیول پر کھیل چکی ہیں اور اور ایک سال سے پریکٹس بھی کر رہی ہیں۔ ان کے پاس فنڈز بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔ کے پی کی ٹیموں کے پاس تو یونیفارم بھی نہیں ہیں۔ پاکستان کبدی فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری نے بھی تسلیم کیا کہ ٹیموں کو اس ٹورنامنٹ کے لیے تیار نہیں کیا گیا۔ کے پی کی ٹیم کو صرف حوصلہ افزائی کے لیے ٹورنامنٹ میں شامل کیا گیا۔ بلوچستان کی کوئی ٹیم مقابلے کا حصہ نہ بن پائی۔

پاکستان کبڈی فیڈریشن کے اسسٹنٹ مینیجر رائے مسعود کھرل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ یہاں بہت سے لوگ عورتوں کو ایسے مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتے۔ ہمیں اندازہ تھا کہ اس وقت بلوچستان کو ایسے مقابلےکے لیے مدعو کرنا زیادہ مناسب نہیں ہو گا۔ لیکن ہم کے پی کے کی عوام اور ٹیموں کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے کو ترجیح دی۔ واپڈا کے ایم ڈی عام احمد نے پاکستان میں عورتوں کے لیے ان سہولیات کی فراہمی میں اس قدر وقت لگنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہمیں افسوس ہے کہ آج تک ہم پاکستان میں کوئی نیشنل کبڈی چمپئن شپ منعقد نہ کر سکے۔ یہ گیم ہر صنف کے لوگوں کے لیے ہے اور پاکستان بھی بہت جلد اس میدان میں اپنی خواتین کو ترقی کرتا دیکھ سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کو اس کھیل کی اہمیت دیر سے معلوم ہوئی لیکن آس پاس کے ممالک کی کبڈی ٹیموں کو دیکھ کر پاکستان میں بھی خواتین میں یہ شوق پیدا ہو چکا تھا۔ ایران اور انڈیا کی ٹیموں نے اپنے ملک کے لیے بہت سے اعزازات جیتے ہیں۔

پاکستان دوسرے ممالک سے پیچھے ہے لیکن بہت جلد ہم دنیا کے مقابلے میں کھڑے نظر آئین گے۔ خواتین کبڈی نے دنیا بھر میں میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے ۔ پاکستان نے اپنی خواتین کبڈی ٹیم ایران میں ٹریننگ کے لیے بھی بھیجی ہے۔ 2014 میں انچئن ایشین گیمز کے ایک مقابلہ میں بھارت کا ایران سے میچ تھا۔ میچ کے دوران ایک ایرانی خاتون کا حجاب اتر گیا تو لڑکیاں کھیل سے ہٹ کر اس کا حجاب درست کرنے لگیں جس کا ایرانی ٹیم کو نقصان ہوا۔ طیب گیلانی کا کبڈی کمنٹیٹر کا کیریر بھی اس وقت شروع ہوا جب وہ بھارت میں کبڈی کے میچز دیکھنے گئے۔ طیب نے بتایا: میں نے بھارتی تبصرہ نگاروں سے میچ پر تبصرہ کرنا سیکھا اور واپس آ کر یہ آرٹ پاکستانیوں کو سکھایا۔

گیلانی نے اس سلسلے میں ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں انہوں نے 1933 سے 2014 تک 104 خواتین پلئرز کے کارناموں کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سلطان شاہ کے کیریر کی تفاصیل درج کی ہیں۔ اس بڑے کھلاڑی کو اچھا کھیل پیش کرنے پر 50 ایکڑ زمین تحفے میں دی گئی تھی۔ عائشہ بی بی بھی ناظرین کے بیچ بیٹھ کر واپڈا سپورٹس کمپلیکس میں یہ میچ دیکھ رہی تھیں۔ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ بیٹھی نیٹ پریکٹس بھی دیکھ کر لطف اندوز ہوتی رہیں۔ وہ پاکستان میں کبڈی کی ترقی دیکھ کر بہت فخر محسوس کر رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ میری بھانجی ایک پہلوان خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور کئی مواقع پر نیشل سطح پر اپنی ٹیم کی نمائندگی کر چکی ہے ۔عائشہ بی بی نے کچھ سال قبل اپنی بھانجی کی شادی کم عمری میں ہونے سے روک دیا تھا۔

انہوں نے بتایا، میری بھانجی کے والدین انتقال کر چکے تھے اوراس کے بھائی 16 سال کی عمر میں اس کی شادی کروانا چاہتے تھے لیکن مجھے بیچ میں مداخلت کرنی پڑی۔ اس نوجوان لڑکی کی خواہش تھی کہ وہ کبڈی کی پرفیشنل کھلاڑی بنیں۔ اس میدان میں آنے پر اس کے خاندان نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور عائشہ ہی اس کی اکیلی سپورٹر تھیں۔ بہت سی کھلاڑیوں نے بتایا کہ کیسے ان کی ماؤں، بہنوں اور خالاؤں نے خاندان کی مخالفت کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کا ساتھ دیا۔ کبڈی فیڈریشن کے ایک اہلکار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بہت اچھی کھلاڑی ملی تھی لیکن اسے گھر والوں نے اس میدان کا انتخاب کرنے سے روک لیا۔

اپنی ٹیم کی کچھ کھلاڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خزیمہ سعید کپتان واپڈا اینڈ پاکستان کبڈی ٹیم نے ان کے اعزازات اور ان کی قابلیتوں کے بارے میں بتایا کہ وہ مختلف کھیلوں میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں ۔ چمپئن شپ کے آخری میچ میں خزیمہ نے اپنی ٹیم کو 29-43 سے جتوایا ۔ میچ دیکھنے والوں کی تعداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے رانا سرور نے بتایا کہ سٹیڈیم میں میچ دیکھنے آنے والوں کی تعداد حوصلہ افزا ہے۔ کھلاڑیوں کی ٹریننگ کے حوالے سے بھی بہت سے مسائل پر قابو پا لیا گیا ہے ہم مستقبل میں گلگت بلتستان اور کے پی کے میں مزید کوچز بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ چمپئن شپ کا انعقاد کر کے پاکستان کبڈی فیڈریشن نے تاریخ رقم کی ہے ۔ ہم اپنے کھلاڑیوں پر فخر کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اگلے سال مزید کئی ٹیمیں اس چمپئین شپ کا حصہ بننے کے لیے موجود ہو نگی۔

http://www.dawn.com/news/1304977/pakistans-queens-who-says-women-cant-play-kabaddi

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *