کالم

شادی کا لڈّو۔۔۔

Share

برطانیہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں شادی کا رواج آج بھی عام اور اہم مانا جاتا ہے۔ تمام مذہب کے لوگ شادی کونسل کے فروغ اور بقا کے لیے اب بھی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہیں۔ تاہم وہیں بہت سارے لوگ شادی کو ایک فرسودہ رسم و رواج مانتے ہیں اورکسی کے ساتھ بھی زندگی گزربسرکرنے کے لیے شادی کرنا ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔ لیکن مجھے تو معاشرے میں عزّت ووقار اور نسل نوکی بقاکے لیے شادی ایک ضروری عمل لگتا ہے۔سماجی پہلو کا ایک دل چسپ مرحلہ یہ ہے کہ شادی کسی کی بھی ہو، ہمیں تومزے دار دعوت اور لذیذ پکوان چٹ کرنے کا موقعہ مل ہی جاتا ہے۔دیکھا جائے تو شادی کا معاملہ کافی سیدھا سادہ ہے۔ لیکن بہت سارے لوگوں کے لیے کافی پیچیدہ ہے۔شادی! کہتے ہیں یہ وہ لڈّو ہے جو کھائے وہ بھی پچھتائے اورجو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے۔ویسے دیکھا جائے تو زیادہ تر لوگ کھا کر ہی پچھتاتے ہیں۔ خواہش،خاندان، سکون، اعتبار، سماج، رتبہ اور نہ جانے کن کن اصولوں کی خاطر انسان شادی کرنا اتنا ہی ضروری سمجھتا ہے جتناکہ روزمرّہ کی زندگی کے لیے آکسیجن ضروری ہے۔

لیکن شادی کے بعد جب زندگی ایک نئی روش اختیار کرلیتی ہے تو انسان ہر لمحہ یہی سوچتا ہے کہ آخراسے کس دن کی سزا ملی ہے۔حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے،کچھ لوگ شادی کر کے زندگی اس قدرعیش و آرام سے گزارتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر صرف جلن ہی نہیں بلکہ اپنی بیگم پر غصّہ بھی آنے لگتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ ہم اور آپ اپنی کمزوریوں اور ان عادات کی پردہ پوشی میں مصروف ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری بے عزّتی کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔ اب چاہے ان کمزوریوں کا علم بیگم کو ہوجائے یا کمبخت دوستوں کو،بندہ ہر طرف سے مارا جاتا ہے۔

تو کیا ایسی کمزوریاں ان تمام میاں بیوی میں موجود ہوتی ہیں جن کے درمیان روزانہ تکراراور بحث ومباحثہ کا معاملہ درپیش آتا ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟ جتنا کہ ہم قیاس کرتے ہیں۔حالاں کہ ایسا بھی دیکھاگیا ہے کہ بہت سارے میاں بیوی اپنے درمیان ایک معاہدہ کر لیتے ہیں کہ انہیں دوسروں کے سامنے کیسے پیش آنا ہے۔ باوجود اس کے انسان فطرتاً بے عزّت ہو ہی جاتا ہے۔ مثلاً اگر گھر پر مہمان آجائے تو مہمان نوازی کی ذمہ داری کون نبھائے۔ روایتی طور پر مرد اس بات پر فخر کرتا ہے کہ کھانا بنانے سے لے کر بچّوں کی پرورش کے لیے اللہ نے عورت کو قدرتی طور پیدا کیا ہے۔اب ظاہر سی بات ہے کہ اس معمّہ کو کیسے حل کیا جائے؟

ویسے سچ پوچھیے تو مرد بڑا کاہل ہوتا ہے۔ آج بھی زیادہ تر مرد عورت کو شادی کے بعد بیوی سے زیادہ گھر یلو کام کاج کے لیے نوکرانی ہی تصور کرتے ہیں۔ تاہم بہت سارے بیچارے مرد وں کا رول الٹا ہوجاتاہے اور انہیں گھر کی وہ تمام ذمہّ دارایاں سنبھالنی پڑتی ہیں جس کا تصورشاید جناب ِوالا نے کبھی خواب میں بھی نہ کیاہو۔ایسے مرد نہ تنہائی میں رو پاتے ہیں اور نہ ہی انہیں رونے کے لیے کسی کا کاندھا نصیب ہوپاتا ہے۔بیچارے ایسے مرد دنیا والوں کی نظر میں مظلوم توہوتے ہی ہیں،مزید گھر پر بھی روزانہ بیگم کی اذیت اور خوب صورت الفاظ سے ذہن وقلب کو منور کرکے جیتے رہتے ہیں۔

ویسے شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کئی خواب ایسے ہوتے ہیں جو خواب ہی رہ جاتے ہیں۔ مثلاً شادی سے پہلے یہ سوچنا کہ بیوی ہمیشہ ہیما مالنی ہی دِکھے گی، شادی کے بعد کھانے پینے کا آرام ہو جائے گا، رات کو گہری نیند میں زوردار خراٹے سے بیوی خاموش رہے گی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن شادی کے بعد بیوی جب اپنا اصلی چہرہ لے کر سامنے آتی ہے تو مرد حضرات دوسرے کی بیویوں کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ جس سے بیوی کے تیور بدلنے شروع ہوجاتے ہیں اور لازمی طور پر شوہر کو ڈانٹ پڑنے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ شاید مرد اپنی فطرت اور غلط فہمی کی وجہ سے ہیما مالنی کو بھول نہیں پاتا ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنی بیوی کی بھیٹ چڑھ جاتا ہے۔

شادی سے پہلے ہر مرد ایک ایسا خواب دیکھتا ہے جو اس کی زندگی اور صحت دونوں میں ایک انقلاب برپا کردے۔زیادہ تر مرد کھانے کے شوقین ہوتے ہیں۔ لیکن معاملہ تب کھٹائی میں پڑ جاتا ہے جب بیوی دونوں ہاتھ اٹھا کر اعلان کر تی ہے کہ مجھے کھانا بنانے کا شوق نہیں ہے۔ کچھ شوہر تو بیوی کی بات سن کر اس سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کہ اب باقی زندگی کیسے گزرے گی۔انہیں اس وقت وہ دوست یاد آنے لگتے ہیں جن کے گھر کھانے میں شامی کباب، بریانی اور نہ جانے کتنے ذائقے سے بھر پور ڈشیزدسترخوان پر لگائے جاتے تھے اور ان کے دوست کھانے کے دوران اللہ کی تعریف بھول کر اپنی بیگم کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے۔

زیادہ تر مردوں کو سونے کے دوران خرّاٹے لینے کی عادت ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو تقریباً ہر مرد کو ہوتی ہے۔ برطانیہ میں کئی بیویوں نے خرّاٹے کے سبب اپنے شوہر سے طلاق تک لے لیا ہے۔لیکن بہت سارے مرد اس سر بھری خرّاٹے سے صرف پریشان ہی نہیں ہیں بلکہ ان کی زندگی بھی عذاب بنی ہوئی ہے۔کتنے مردوں کو مہمانوں کے سامنے ان کی بیویاں پیار سے یہ کہتے ہوئے پائی جاتی ہیں کہ ان کے شوہر نے ان کا سونا حرام کر رکھا ہے۔تو وہیں کئی بیویوں نے اپنے شوہر کو الگ کمرے میں سونے کا حُکم دے رکھا ہے۔

شادی کے بعد اگر آپ تنہا سفر یا دعوت پر جاتے ہیں تو اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ لوگ یا تو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا ان کے دماغ میں کچھ اور بات آنے لگتی ہے۔ایک دفعہ میرے ایک دوست کسی محفل میں براجمان تھے۔ زیادہ تر لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ پارٹی میں موجود تھے۔ تبھی ایک صاحب نے میرے دوست سے پوچھا کہ’بھابھی نہیں آئیں‘؟میرا دوست پہلے تو جواب دیتے ہوئے شرمندگی محسوس کر رہا تھا لیکن اس نے نہ جانے کیوں سچ بتانے کے بجائے کہا کہ ’اصل میں میرا اور میری بیوی میں علیحدگی ہو گئی ہے‘۔ بس کیا تھا ان صاحب نے آناًفاناً اس پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’آپ کے ساتھ بہت برا ہوا ہے۔میری ہمدردی آپ کے ساتھ ہے‘۔گویا میرے دوست جھوٹ بول کر جان بچانے کے چکر میں مزیدپھنس گیے۔ کیونکہ ان صاحب نے حسبِ معمول سوال پر سوال پوچھنا شروع کر دیا۔ خیر اللہ کا شکر ہے کہ دوست اب بھی سہی سلامت شادی شدہ زندگی جی رہے ہیں۔

دنیا بھر میں شادی شدہ میاں بیوی خوب مزے دار اور اطمینان بخش زندگی گزارتے ہیں۔ تاہم بہت سارے میاں اور بیوی اس بات سے بھی افسردہ ہیں کہ آخر انہوں نے شادی ہی کیوں کی۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ انسان کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کو دیکھ کر قیاس آرائی کرنے کی ایک عام روایت ہے۔ جس کی وجہ سے ہم اپنے اور دوسروں کے بارے میں غلط فہمیوں کے شکار ہوجاتے ہیں۔ بارہا یہ دیکھا گیا ہے کہ کئی لوگ محفلوں میں اس سوال سے ایک شادی شدہ انسان کے ذہن میں خدشات بٹھا دیتے ہیں۔ جب کچھ لوگ کسی نئے شادی شدہ شخص سے پوچھتے ہیں کہ ’ہاں بھائی تمہاری شادی شدہ زندگی کیسی چل رہی ہے‘۔یقین جانیے اس وقت بندہ عجب کشمکش میں الجھ جاتا ہے اور خاموشی سے اپنے سر کو جھکا کر سوال پوچھنے والے کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ حالانکہ ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ شادی کے بعد ہماری زندگی کیسی ہوتی ہے جسے ہم سب دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ان تمام باتوں کے علاوہ دنیا بھر میں آج بھی شادی کرنا ایک حسین عمل اور جمیل فعل مانا جاتا ہے۔ جس سے ایک نئے خاندان کی شروعات ہوتی ہے۔ ساتھ ہی انسان کو ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔ حالانکہ شادی کی کامیابی اور ناکامی کے باوجود ہم سب اس سنّت کو نبھاناضروری سمجھتے ہیں۔تاہم میں تو شادی کو ایک جوا مانتا ہوں اگر لگ گیا تو بلّے بلّے اور اگر نہ لگا تو زندگی تباہ۔تبھی تو کہتے ہیں کہ شادی کا لڈّو جو کھائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے۔