جنسی تشدد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں

شہزاد غیاث

shehzad gaias

ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں یہ جانتا ہوں کہ جنسی تشدد کے واقعات سن کر ہر پاکستانی مرد اتنا ہی بے قرار ہو جاتا ہے جتنا میں خود محسوس کرتا ہوں۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ زیادہ تر پاکستانی کسی عورت پر جنسی تشدد کی جرات نہیں کرتے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ملک میں جنسی تشدد کے واقعات کے ذمہ دار لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ سچ کچھ زیادہ کڑوا ہو اور میرے یہ خیالات پوری طرح صحیح نہ ہوں۔ میں ان جرائم کو صرف جنسی تشدد تک محدود نہیں کرنا چاہتا کیونکہ جہاں تک جنسی تشدد کی بات ہے بہت سے لوگ اس جرم میں ملوث ہوتے ہیں اور انہیں اس چیز کا اندازہ تک نہیں ہوتا۔

اگر ہم یہ یقین کر لیں کہ زیادہ تر پاکستانی جنسی تشدد میں ملوث نہیں ہوتے تو بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ ایسے حالات ضرور پیدا کرتے ہیں جس کی بنا پر مجرموں کو اس طرح کے جرائم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہم ہر روزجانے انجانے میں ریپ کلچر کی تخلیق میں حصہ لیتے ہیں۔ ہم جنسی تشدد کو اس قدر نارمل چیز سمجھنے لگے ہیں کہ ہمارے ارد گرد ایسے ماحول نے جنم لیا ہے کہ ریپ اور دوسرے بھیانک جرائم کی خبر سن کر ہمارے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اب ہم صرف ریپ کیسز کا اعدادو شمار کے حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں اور کبھی ا س کی وجوہات پر نظر دوڑانا پسند نہیں کرتے۔اب تھوڑی گہرائی میں چلتے ہیں۔

ہم میں سے ہر کوئی بھارت پر تنقید کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتااور اسے دنیا کا سب سے زیادہ عصمت دری کے واقعات کا ملک قرار دیتے ہیں لیکن ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ پاکستان میں بھی صورتحال اس حوالے سے زیادہ تسلی بخش نہیں ہے۔

ہمارے اعداد و شمار بھارت کے مقابلے میں کم ہیں لیکن اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر کیسز رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے تا کہ مظلوم کی زندگی کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ مردوں کے زیر تسلط معاشرے میں ریپ کا الزام گناہ گاروں کی بجائے مظلوم کو دیا جاتا ہے ۔ کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ ہمیں اپنے لڑکوں کو اچھے طریقے پر ڈالنا چاہیے اور مردوں کو تعلیم دینے چاہیے تا کہ وہ انسان کہلا سکیں۔ جب کوئی جنسی تشدد کا واقعہ ہمارے سامنے آتا ہے تو ہم اس طرح گفتگو کرتے ہیں؛ اس لڑکی نے کیا پہنا ہوا تھا، کس کے ساتھ تھی، وقت کیا تھا، پبلک میں کیا کر رہی تھی، اپنے خاندان کے ساتھ تھی یا اکیلی، کیا اس کے ساتھ کوئی مرد تھا جو اس کی حفاظت کر پائے ، وغیرہ وغیرہ۔

یہ سوالات عورت کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی کی وجہ سے عصمت دری کا شکار ہوئی ہے ۔ ایک بات ہم واضح کیے دیتے ہیں۔ عورت جہاں بھی ہو، جو کچھ بھی پہنے ہوئے ہو، کسی کے ساتھ ہو یا اکیلی وہ کبھی ایسا نہیں چاہے گی کہ اس کی عزت لوٹی جائے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ عورتیں خود ریپ کی دعوت دیتی ہیں یا انہیں جنسی تشدد کا شکار ہونے میں لطف آتا ہے تو آپ اس مسئلے کا یک اہم حصہ ہیں۔ اگر آپ ٹی وی پر آ کر دعوی کرتے ہیں کہ عورتیں چاہتی ہی یہی ہیں کہ ان کے ساتھ بد تمیزی کی جائے تو آپ ان عصمت دری کے مجرموں سے الگ نہیں ہیں۔

عصمت دری کے کیسز کو کم کرنا عورتوں کو عوامی جگہوں پر جانے سے نہیں بلکہ عورتوں کے لیے کسی بھی عوامی جگہ کو محفوظ بنانے سے ممکن ہو گا۔ کراچی ایٹ فیسٹیول کو صرف فیملیز کے لیے مختص کیے جانے پر سخت تنقید کی گئی لیکن عاطف اسلم کے کنسرٹ میں پیش آنے والا واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس دنیا میں جہاں ہم رہتے ہیں کچھ کام بہت ضروری ہوتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ تمام مرد ریپسٹ نہیں ہوتے لیکن اگر آپ انا پرستی ترک کر کے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ عورتیں ہر مرد سے کتنی خوف زدہ ہیں جس کی وجہ پاکستان میں ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات ہیں۔

عورتوں کو اس طرح کا احساس نہ دلائیں کو اگر وہ عوامی جگہوں پر یا کسی کنسرٹ میں دل بہلانے کےلیے جاتی ہیں تو انہیں عصمت دری اور جنسی تشدد کا شکار بنایا جا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تمام لوگ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ کسی عورت پر جنسی تشدد کرنے والے دنیا کے بُرے ترین لوگ ہوتے ہیں لیکن اگر مردوں کی حیثیت سے ہم عورتوں کو ایک محفوظ معاشرہ مہیا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے کردار میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم مظلوم کی حیثیت سے سوچتے ہوئے فیصلہ کریں۔ معاملہ صرف اپنے خاندان کی عورتوں کا عوامی جگہوں پر تحفظ یا عصمت دری کرنے والوں کو چوراہے پر لٹکانے تک محدود نہیں ہے بلکہ ریپ کلچر کے خاتمے کے لیے اپنے الفاظ اور اعمال پر دھیان رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔

ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ ظلم کا الزام کبھی بھی مظلوم کو نہیں دینا چاہیے۔ جب آپ مردہ آدمی کو اپنے قتل کا مرتکب نہیں ٹھہراتے تو عورت کو کیسے اپنی عزت لوٹے جانے پر ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں؟ 'عزت لوٹ لی' جیسے الفاظ سے بھی مظلوم عورت کی تکلیف دگنی ہو جاتی ہے ۔ ایک عورت کو مظلوم ہونے پر شرمندہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ ایسا واقعہ سر زد ہونے کے بعد ہم اسے بد چلن اور بد کردار نہیں قرار دے سکتے۔ عاطف اسلم کے کنسرٹ میں ظلم کا شکار ہونے والی عورتوں نے اپنے کیسز کو رپورٹ کر کے بہت بہادری کا ثبوت دیا ہے۔ مردوں کی حیثیت سے ہمیں چاہیے کہ انہیں سپورٹ کریں اور ان کو اس ظلم پر ذمہ دار ٹھہرانا بند کریں۔ آئیں ریپ کلچر کے خلاف لڑیں اور اپنی خواتین کو ایک محفوظ معاشرہ فراہم کریں۔

http://blogs.tribune.com.pk/story/45116/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *