بے سرا راگ اور عطائیے

imad zafar

بے حیائی، عریانی فحاشی دین سے دوری ہمارے معاشرے کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہیں.یہ باتیں روزانہ کی بنیاد پر نیم خواندہ افراد سے لیکر پڑھے لکھے دانشوروں سے سننے کو ملتی ہیں.ہوش سنبھالنے سے لیکر آج تک زیادہ تر دانشوروں اور پڑھے لکھے افراد سے بھی یہی سننے کو ملا. اسی طرح ہمیں یہ بھی دیکھنے اور سننے کو ملتا رہا کہ کفار دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی.آخرت کا تو پتا نہیں البتہ آج تک کفار کو ان گنہگار آنکھوں نے ہمیشہ دنیا کی ترقی یافتہ ترین قوموں اور دنیا پر راج کرنے والی قوموں کی حیثیت سے ہی دیکھا. ہم جیسے کم عقلوں کو نہ تو پہلے یہ منطق سمجھ آتی تھی اور نہ اب.لیکن اس منطق کو ماننے والے بے شمار بلکہ زیادہ تر افراد معاشرے میں بستے ہیں.یہ وہ افراد ہیں جو خود تو رات بھر پورن فلمیں یا طوائفوں کے جسموں سے اپنی جبلتیں پوری کرتے ہیں لیکن زلزلوں اور قدرتی آفات کو دل سے عورتوں کے ہاف بازو قمیضیں پہننے یا ان کی بے حیائی کا نتیجہ سمجھتے ہیں. اکثر دودھ چینی پتی ادوایات میں ملاوٹ کرنے کے بعد جمعوں کے خطبے کے بعد  گڑگڑا کر یہ حضرات رب سے  ملک سے کرپشن کے خاتمے اور بے ایمان لوگوں کے نیست و نابود ہونے کی دعائیں مانگتے پائے جاتے ہیں. جب امریکہ یا دیگر ممالک کی ترقی کی جانب توجہ مبذول کی جائے تو جواب ملتا ہے کفار کیلئے دنیا میں آسانیاں ہیں. اس جواب کو سن کر منٹو کا وہ جملہ یاد آ جاتا ہے کہ دکھ اس بات کا ہے کہ زندگی کتوں والی ملی لیکن حساب انسانوں والا لیا جائے گا. اس قدر تنگ نظری تعصب اور دوغلے پن کے باوجود کمال یہ ہے کہ معاشرے میں بسنے والے زیادہ تر افراد نہ صرف خود کو رب کریم کی پسندیدہ قوم سمجھتے ہیں بلکہ ملک میں موجود ہر اقلیتی فرقے اور مذہب کا جینا حرام کر دیتے ہیں.یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست کا یہ فرض نہیں کہ معاشرے میں پیدا ہونے والےاس  بگاڑ  کو درست کرنے کیلیے  راست اقدامات اٹھائے ؟ملک میں بسنے والے ہر شہری کو یکساں طور پر جان و مال کی ضمانت دے . خیر مسئلہ یہ ہے کہ ریاست خود کبھی اپنے مفاد اور کبھی مذہبی شدت پسندوں کے دباؤ کی وجہ سے نہ صرف مجرمانہ خاموشی اختیار کیئے رکھتی ہے بلکہ شدت پسندی کے عفریت کو ہوا دینے کا باعث بھی بنتی ہے. رہی سہی کثر عامر لیاقت ،اوریا مقبول جان جیسے نوٹنکییے پوری کر دیتے ہیں. تازہ ترین واقعات ہی دیکھ لیجیئے جناب عامر لیاقت ایک نجی ٹی وی چینل کے پلیٹ فارم سے گلا پھاڑ پھاڑ کر حال ہی میں لاپتہ ہونے والے افراد کو گستاخ مزہب کا مجرم قرار دے کر نہ صرف انہیں سولی چڑھانے کی فرمائشیں کر رہے ہیں بلکہ رائے عامہ کو بھی اپنی نوٹنکی سے مشتعل کرنے کا باعث  بن رہے ہیں. یاد رہے یہ وہی عامر لیاقت ہے جسے خود ایک فرقے سے تعلق رکھنے والی ایک کالعدم  تنظیم نے ایک زمانے میں گستاخ صحابہ کا مجرم  دیکر واجب القتل قرار دے ڈالا تھا اور موصوف نے منتیں ترلےکر کے اور بڑے بڑے علمائے کرام کو بیچ میں ڈال کر معافیاں مانگ کر جان بخشی کروائی تھی. یہی نہیں موصوف خود ایک رات رینجرز کی تحویل میں بھی رہے تھے .جس کے فورا بعد جناب نے سیاست سے اور ایم کیو ایم کا ساتھ دینے سے توبہ کر لی تھی. ہونا تو یہ چائیے تھا کہ محترم عامر لیاقت ہوش کے ناخن لیتے اور اس کرب اور دکھ کو سمجھتے ہوئے کسی پر بھی بنا ثبوت یا جواز کے توہین یا گستاخی کا الزام لگانے کی واشگاف الفاظ میں مذمت کرتے. اور ریاستی اداروں کی جانب سے شہریوں کو جبری اغوا کیئے جانے کے خلاف آواز بلند کرتے . لیکن کم بخت شوبز کی چمک پیسہ اور مزہبی چورن بیچ کر کمائی گئی کھوکھلی عزت کا نشہ ہی ایسا ہے کہ آدمی کئی دفعہ انسانیت کی ہی معراج سے گر جاتا ہے.دوسری جانب تازہ ترین مثال محترم اوریا مقبول جان کی ہے جو شاید اپنی افسر شاہی کے ایام اور کرسی کی طاقت کے کھو جانے کا غم،  تکلیف اور  غصہ مذہبی اور فرضی تاریخی چورن بیچ کر نکالتے ہیں.حال ہی میں اسلام آباد میں ایک جواں سوال بچے کے اپنی استانی سے عشق میں مبتلا ہونے اور پھر اس استانی کے عشق میں خود کشی کرنے کے فعل کی بنیاد  موصوف نے انٹرنیٹ مخلوطی نظام تعلیم موبائل فون اور بےحیائی کو قرار دے ڈالا. ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں موصوف نے علم نفسیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کمال ڈھٹائی سے فرائیڈ میسلو اور دیگر نفسیات دانوں کا نام لیئے بنا ہی محرکات کے لفظ کو اس کمال مہارت سے بے راہروی اور انٹرنیٹ اور موبائل فون سے جوڑا کہ ان نفسیات دانوں کی یقینا قبروں میں چیخیں نکل گئی ہوں گی. نہ صرف اس واقعے کا زمہ دار اوریا صاحب نے موبائل فون انٹرنیٹ اور پردہ نہ کرنے کو قرار دیا بلکہ یہ ثابت کرنے پر تلے رہے کہ انسان کی بنیادی جبلتیں  وجود ہی نہیں رکھتیں اور آج سے چند صدیوں پہلے دنیا اور بالخصوص ہمارے معاشروں میں کبھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہی نہیں تھے. یہ دونوں مثالیں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ  غور کیا جائے کہ بطور معاشرہ ہماری مجموعی نفسیات نہ صرف ان دونوں حضرات جیسی ہو چکی ہے بلکہ  معاشرے میں بسنے والے زیادہ تر افراد اسی قسم کے زہنی اور نظریاتی شدت پسند ہیں. ایک بچہ خود کشی کرتا ہے استانی سے عشق کے چکر میں.  ٹین ایج یعنی نوجوانی میں اکثر ہارمون کی تبدیلیاں جسم کے ساتھ ساتھ جزبات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں اور اکثر بچے یا بچیاں اس عمر میں ان تبدیلیوں کے باعث وقتی طور پر طور پر صنف مخالف کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں اور اسے پیار یا عشق سمجھ بیٹھتے ہیں.یہ ایک عام سی بات ہے اور کوئی بھی بچہ یا بچی اس عمر میں ایسے ہی جزبات یا خیالات رکھتا ہے. اگر والدین رشتہ دار یا اساتذہ بروقت ایسے بچوں بچیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کی کونسلنگ کر دیں تو بچے یا بچیاں بہت جلد اس کو بھول کر زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں اور بعد میں ان حماقتوں کو یاد کر کے خود پر ہنستے بھی ہیں. اس بدقسمت بچے کے کیس میں معاملہ یہ تھا کہ اس بچے کو کونسلنگ مہیا نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی نے اس کو سننے کی کوشش کی.نتیجتا وہ بچہ تنہائی کا شکار ہو کر ڈیپریشن میں مبتلا ہو گیا اور اپنی جان خود لے بیٹھا.اگر اس سکول کا پرنسپل بچے سے بات کر کے اسے سمجھاتا. اس بچے کے والدین بچے سے بات کر کے اسے سمجھاتے ،تو شاید وہ بچہ آج زندہ ہوتا.اس واقعے نے دو اہم پہلووں کی جانب توجہ مبذول کروائی. اول بچوں کے ساتھ ہر بات اور ہر معاملے میں کمیونیکیشن بے حد ضروری ہے .دوئم  یہ کہ ہمیں نصاب میں سیکس اور ہارمون کی تبدیلیوں سے متعلق معاملات کو شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے اور سکولوں میں بچوں کے لیئے ماہرین نفسیات کی موجودگی کی بھی فوری ضرورت ہے . بدقسمتی سے ان محرکات اور اسباب پر غورو فکر کے بجائے طالبانی مائنڈ سیٹ پر مشتمل معاشرہ اسی موبائل فون کو اس کی وجہ قرار دے رہا ہے جس کے بنا نہ تو ان کا کوئی کاروبار چل سکتا ہے اور نہ ہی معاملات.اسی انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کو گالیاں دی جا رہی ہیں جن کی بدولت شعور و آگہی سے لیکر ،نہ جانے کتنی ہی ان گنت سہولیات  سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے. رہی سہی کثر بنیادی جبلتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر کے پوری کر دی جاتی ہے. عامر لیاقت یا اوریا مقبول جان جیسے افراد کا تو خیر یہ دھندہ ہے. پیسہ کمانے کا زریعہ ہے.اس لیئے  وہ یہ چورن بیچیں گے. لیکن جو افراد یہ چورن خریدتے ہیں ان کو کبھی کبھار واقعتا سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہے.یقین کیجئے آج کے دور جدید میں جہاں معلومات کمپیوٹر کے ایک کلک کے ذریعے  مل جاتی ہیں اس دور  میں علم و تحقیق سے منہ موڑ کر بنیادی جبلتوں سے انکار کر کے ان حضرات کا چورن خریدنے والے افراد دراصل کمال کرتے ہیں.شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا روم نے بہت عرصہ قبل کہا  تھا کہ علم و آگہی  خدا کی بخشی ہوئی جنت جبکہ جہالت خدا کی مسلط کی گئی جہنم ہے. لیکن کیا کیجئے کم.بخت ہماری سوچ بھی جنت میں موجود حوروں سے مباشرت کے تصور سے آگے جاتی ہی نہیں .اس لیئے مولانا رومی جیسے عالموں کی باتوں اور فلسفہ سمجھنے پر کون دھیان دے.بہر حال  کافر کافر گستاخ یا بے حیائی کا یہ بے سرا راگ نہ تو زمانہ جدید کی لے سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی اس کی دھن کے شور سے  بنیادی جبلتوں یا انسانیت کے ضابطوں  کو کچلا جا سکتا ہے. پیمرا اور ٹی وی چینلز کو شاید اب ایک ضابطہ اخلاق طے کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت کم سے کم وہ افراد الیکٹرانک میڈیا پر آ سکیں جنہیں یہ معلوم ہو کہ کونسی بات کب اور کیسے موقع پر کرنی ہے. اور جو شدت پسندی تعصب اور جھوٹی پرفریب باتوں کے چورن کی جگہ دلیل عقل اور منطق پر مبنی بات کر سکیں.جاوید احمد غامدی صاحب جیسے معتدل مزاج اور زمانہ جدید کے تقاضوں  اور انسانی نفسیات اور جبلتوں سے آشنا افراد کو نہ صرف حساس موضوعات پر مکالمے کیلئے تمام تر پلیٹ فارم مہیا کرنے چائیے بلکہ سرکاری سطح پر ان کی سرپرستی بھی کرنی چائیے. تا کہ کسی کو مرتد یا واجب القتل قرار دینے کو علاوہ بھی معاشرہ کچھ اور سوچنے کے قابل ہو.  بطور معاشرہ ہم پہلے ہی انتشار کا شکار ہیں اور اس انتشار کو مذہبی اجارہ دار اور  فاشسٹ اپنی اپنی دکانیں چمکانے کیلیے مزید ہوا دیتے ہیں.ہونا تو یہ چاہیے کہ پیمرا کسی بھی ایسے پیغام یا بات کو نشر کرنے پر پابندی لگا دے جس سے مزہبی منافرتوں یا ایک دوسرے کو کافر  قرار دینے کے سرٹیفیکیٹ دئیے جاتے ہیں. یا پھر دلیل و عقل کے منافی باتیں کر کے بنیادی جبلتوں کے رکھنے کو جرم قرار دیا جاتا ہے. کم سے کم اب یہ کافر کافر اور بے حیائ  کی گردان بند ہونی چائیے کہ سن 1947 سے لیکر آج تک ہم نے ایک دوسرے کو سوائے کافر قرار دینے کے سرٹیفیکیٹس اور غداری کے الزامات کی اسناد تقسیم کرنے کے علاوہ کچھ بھی ایسا قابل تعمیری کام نہیں کیا جسے جدید دنیا میں مانا یا جانا جا سکے. یا جو جدید دنیا کی ترقی میں معاون ثابت ہو. شدت پسندی کی ابتدا ان رویوں سے ہوتی ہے جنہیں ہم اپنے اپنے فرقے کو درست اور دوسرے فرقوں کو غلط قرار دینے کیلئے اپناتے ہیں یا جس سوچ کی بدولت ہم دنیا بھر کو اپنے سے  کمتر گردانتے ہیں.غضب خدا  کا کہ دنیا مریخ تک جا پہنچی ہے اور ہم آج بھی کافر کافر کھیل رہے ہیں.دنیا میں جدید سائینس اور ایجادات پر مکالمے اور مناظرے ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ناف سے نیچے ناڑا باندھنا اور مباشرت کے آداب آج بھی زیادہ تر مباحثوں کا حاصل ہیں. کون کافر ہے کون نہیں خدا نے اس معاملے میں کبھی ہم سے رائے طلب  نہیں کی ہے. کون بے حیا ہے اور کون حیا دار کون بے راہروی کا شکار ہے اور کون درست راستے پر گامزن ہے. اس کا تعین اس زات کو کرنے دیجئے جس کے پاس سارے جہانوں کا اختیار ہے .محض مذہبی چورن فروشوں کے پراپیگینڈے میں آ کر ایک دوسرے کو جان سے مار دینا اور کمتر سمجھنا   کہاں کی انسانیت ہے. اور کم سے کم دین اسلام میں تو ایسی منافرت یا فرقہ بازیوں یا دقیانوسی کی کوئی گنجائش نہیں. بطور معاشرہ ہمیں خود بھی اس امر کے ادراک کی ضرورت ہے کہ ناڑے باندھنے سے لیکر جسم ڈھانپنے یا کافر قرار دینے کے مباحث کی بنا پر نہ تو معاشرے ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی آگے کو بڑھنے پاتے ہیں. کوئی بھی انسان اپنی مرضی سے کسی خاص فرقے یا اقلیتی گروہ یا کسی خاص ماحول  میں پیدا نہیں ہوتا اس لیئے کسی خاص فرقے  مذہب، قومیت یا طرز زندگی کی بنا پر اس سے نفرت کی نہ تو کوئی وجہ ہے اور نہ ہی کوئی منطق. رہی بات اس کافر کافر والے کھیل  اور بے حیائی کی،  تو یہ بے سرا راگ شاید چند عطائیوں کے چورن بیچنے میں تو معاون ثابت  ہوتا ہے. لیکن معاشرے میں نفرتوں کا اتنا زیادہ تعفن پھیلا دیتا ہے کہ جسے صاف کرتے کرتے صدیاں لگ جاتی ہیں. ہم تو یوں بھی جدید دنیا سے صدیوں پیچھے بستے ہیں اور سوائے قتل و غٍارت گری یا دنیا کو بزور شمشیر فتح کرنے کے خواب دیکھنے کے  علاوہ عملی طور پر کچھ نہیں کرتے. کیوں نہ کم سے کم انسانوں اور انسانی رویوں اور جبلتوں کی تضحیک کرنا ہی بند کر دیں .کہ کم سے کم ہماری آنے والی نسلیں تو حبس و جبر اور نفرت کی گھٹن سے نجات حاصل کر لیں. کیوں نہ اس بے سرے راگ کی  جگہ ایک دوسرے سے انس محبت اور احترام کا اظہار کیا جائے. یہ سب نہ تو کوئی راکٹ سائنس ہے جسے سمجھنا مشکل ہے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جو کہ ممکن نہ ہو بس ان عطائیوں  کے چورن کو خریدنے کی عادت ترک کرنی ہو گی. بصورت دیگر ہمارے آنے والے بچے بھی کافر کافر اور بے حیا کا کھیل کھیلتے ایک دوسرے کو جہنمی سمجھتے نفرتوں کے سائے میں جیتے رہیں گے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *