ینگ ڈاکٹرز کے نام

farrukh shehbaz waraich

پچھلے چند سالوں سے ہمارے ہاں ایک نامناسب روایت نے زور پکڑا ہے یہ روایت ’’غلطی اور سینہ زوری ‘‘ کی ہے۔اس عجیب وغریب رویے نے بڑی تیزی کے ساتھ معاشرے کے اہم شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔کم و بیش ہر فیلڈ میں ماہرین کی کمی اوررہنماؤں کی بہتات نظر آتی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم ہر شعبے کے ماہر پیدا کرتے مگر اس کی بجائے وطن عزیز کے زیادہ تر شعبے اندرونی سیاست میں گھرے دکھائی دیتے ہیں۔کیا صحا فت،کیا وکالت،کیا تعلیمی ادارے کچھ بھی سیاست سے محفوظ نہیں یہاں تک کہ طب کے شعبے کو بھی یہ ’’بدعت‘‘ اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ،ہمارے ینگ ڈاکٹرز نے تو انتہا ہی کردی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سرکاری ہسپتال نہیں ہم نے سیاست کی نرسریاں بنائی ہیں جہاں سے اچھے ڈاکٹروں کی بجائے مستقبل کے سیاست دان جنم لے رہے ہیں ۔اس المیے پر ہمیں غور وفکر کرنا چاہیے اسی حوالے سے ایک نوجوان ڈاکٹر ،حمزہ مرزا کا خط ملا جس میں ڈاکٹروں کی سیاست کے حوالے سے چشم کشا انکشافات کیے گئے ہیں ۔یہ ایک طویل خط ہے مگر اس کا کچھ حصہ قارئین کے ساتھ شئیر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ’’ کبھی کبھی میں اپنے آپ سے سوال پوچھتا ہوں کہ ہم نے جس شعبے کو خدمت کا شعبہ سمجھ کر اختیار کیا تھا وہ سیاست کی نذر کیسے ہوگیا اس میں ہمارے سینئرز کا کردار بھی کم نہیں ،ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن ڈاکٹرز کی ایک منظم تنظیم ہے مگر بدقسمتی کے ساتھ اس فیلڈ میں آنے والے ڈاکٹرز کو احتجاجی سیاستاور سینئرز کو سیدھا کرنے کا گر انھی اصحاب نے سکھایا جس کا خمتیازہ نہ صرف عوام بلکہ سینئرز ڈاکٹرز بھی مسلسل بھگت رہے ہیں۔میں کچھ واقعات کا عینی شاہد ہوں میرا دو سال قبل وائے ڈی اے کے چند رہنماؤں سے ملنے کا اتفاق ہوا یہ سروسز ہسپتال کا ہاسٹل کا کمرہ تھا جس کی روشنیاں اور تمباکو کی بو اس کمرے کے مکینوں کی حقیقی تصویر کشی کررہے تھے،اسی کمرے میں تنظیم کے کچھ رہنما تاش کے پتوں میں اور کچھ سگریٹ کے دھویں میں الجھے نظر آئے یہ کمرہ کم کسی کلب کا منظر زیادہ پیش کر رہا تھا یہ میرا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے پہلا تعارف تھا۔دوسرا واقعہ بڑا عجیب تھا جب درجن بھر ینگ ڈاکٹر کلاس روم میں زبردستی گھس آئے اور بزور طاقت کلاس رکوادی کیونکہ انہیں اپنے احتجاج کے لیے نفری درکار تھی ۔تیسرا اتفاق بڑا اذیت ناک تھا جب لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال کے کارڈیالوجی کے پروفیسر کو مجبور کیا گیا کہ وہ ٹریننگ پروگرام (MD) کے لیے ان کا دیا گیا نام منتخب کرے آخر کار پروفیسر صاحب نے نوجوان ڈاکٹروں کے ہاتھوں ذلیل ہونے کی بجائے وہی راستہ اختیار کیا جو اس طرح کے موقع پر شریف لوگ کرتے ہیں وہ منتخب کروایا گیا لڑکا اسی پوسٹ پر کام کررہا ہے اور آج بھی YDA کی آنکھ کا تارا ہے۔دوسری طرف میرا ایک دوست ڈاکٹر(ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ) صرف اس لیے نوکری سے محروم رہا کیونکہ اس کے والد جو اسی ہسپتال میں 30سال سے وابستہ ہیں YDAکو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ایک نقطہ میرے لیے ہمیشہ سے قابل فکر رہا ہے کہ ہمارے ینگ ہاؤس آفیسرز کس بے دردی کے ساتھ اس تنظیم کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں انہیں بعض اوقات پکی نوکری کا لالچ دیا جاتا ہے یعنی اگر آپ ڈاکٹروں کی سیاست میں ان ہیں تو آپکی نوکری پکی،ہم میں سے اکثریت ان چند سیاسی ڈاکٹروں کی اصلیت جانتے ہوئے بھی ان سے اختلاف نہیں کرتی کیونکہ ہم جانتے ہیں اس کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔کچھ لوگوں نے یہ کوشش کی تھی بعد ازاں انہیں اپنی گاڑیوں کے بمپرز پر YDAکے غصے کے نشانات ملے تھے۔اس تنظیم کے ذریعے سینئرز اور جونیئرز کے درمیان بڑھتی خلیج کو کم کیا جاسکتا تھا مگر دردناک پہلو یہ ہے کہ اس سیاست نے اس خلا کو مزید بڑھا دیا ہے اس حوالے سے بہت سے واقعات ہیں جو اس شعبے کا حصہ ہونے کی وجہ سے میری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوئے کچھ واقعات اتنے شرمناک ہیں کہ تحریر نہیں کیے جاسکتے اس حوالے سے اگر کوئی کنفیوژن موجود ہے تو گوگل اور یوٹیوب پر سرچ کیا جاسکتا ہے۔‘‘-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *