مسیحی قانونِ طلاق کا معاملہ

sahil munir

یہ قضیہ غالباًسال 2015ء میں شروع ہوا جب ایک مسیحی شخص امین مسیح نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اِختیار کیا کہ سابق صدر ضیاء الحق نے مسیحی قانون طلاق کی دفعہ سات ختم کر کے مسیحی جوڑوں کی علیحدگی کے عمل میں مشکلات پیدا کر دی ہیں اور اب اِس حوالے سے ایک ہی دفعہ موجود ہے جس کے تحت صرف بدچلنی کی بنیاد پر ہی مسیحی افراد کے مابین طلاق واقع ہو سکتی ہے۔ہائیکورٹ نے مسیحی خواتین کی عزتِ نفس کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے طلاق کے لئے بد چلنی کے علاوہ بھی دیگر وجوہات کو جواز بنانے سے متعلق دفعہ سات بحال کر دی جِس کے بعد طلاق کے معاملے میں کسی بھی مسیحی خاتون پر بد چلنی کا الزام ضروری نہ رہا۔ مئی 2016 ء کے اِس خوش آئندعدالتی فیصلہ پرراقم نے دنیا پاکستان میں شائع ہونے والے ایک کالم میں اپنے تاثرات یوں بیان کیے تھے۔" کرسچن ڈائیوورس ایکٹ 1869ء کی دفعہ 7کی بحالی سے مسیحی مرد و خواتین کے لئے طلاق کے حصول میں قدرے آسانیاں پیدا ہونے کی توقع ہے اور اس عدالتی فیصلے سے مسیحی جوڑے ایک دوسرے پر بد چلنی کے الزامات لگائے بغیر بھی دیگر معقول وجوہات کی بنا پر طلاق دے سکتے ہیں۔قبل ازیں سابق صدر ضیا ء الحق نے1981ء میں ایک آرڈیننس کے ذریعے مسیحی قانونِ طلاق کی اِس شِق کو حذف کر دیا تھا ۔چنانچہ مسیحی برادری کے افراد طلاق کے حصول کے لئے دفعہ 10کا سہارا لینے پر مجبور تھے ۔جِس کے لئے مخالف فریق پر بد چلنی کا الزام لگانا اور اسے ثابت کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔مسیحی جوڑوں کی طلاق کے تناظر میں اِس واحد قانونی شِق کو انتہائی سخت گردانا جاتا رہا ہے۔بدیں وجہ اِس نوع کے مقدمات سالہا سال عدالتوں میں زیرِسماعت رہے ہیں اور ناخوشگوار خانگی حالات و نا موافق ازدواجی تعلقات کے شکار افراد کو اس حوالہ سے ناقابلِ بیان کرب و اذیت سے گزرنا پڑا ہے۔اِس سلسلہ میں تنازعات کا شکار فریقین عدالتوں کے کٹہروں میں ہی رل جاتے ہیں اور سِتم بالائے سِتم یہ کہ انکی اولادیں بھی اِس کشمکش میں لاتعداد ذہنی و نفسیاتی مسائل کی گرفت میں آجاتی ہیں۔جِس سے ہر دو فریقین کو قانونی و عدالتی معاملات کی پیچیدگیوں میں الجھ کر ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔یہاں اِس امر سے بھی قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسیحی طلاق کے اکثر مقدمات میں فریقین ایک دوسرے پر بد چلنی کے جھوٹے و فرضی الزامات لگا کر نہ صرف عدالتوں کچہریوں میں توہین و تذلیلِ انسانیت کا سبب بنتے ہیں بلکہ مسیحی نکاح کی حرمت کو بھی داغدار کرتے ہیں۔علاوہ ازیں دورانِ سماعت مخالف وکلاء مسیحی خواتین کے ساتھ جس قسم کے اخلاق باختہ اور تکلیف دہ سوالات کرتے ہوئے انکے عزت و وقار کی دھجیاں اڑاتے ہیں انہیں بھی ہر گز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اِس حوالے سے پاکباز اور نیک چلن خواتین کو بھی اِن مقدمات میں بد چلنی کے گھٹیا الزامات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے جو صریحاً انکی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں۔خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کے ضِمن میں یہ معاشرتی بے توقیری ہرگز کسی کمیونٹی کی نیک نامی قرار نہیں دی جا سکتی۔مزید برآں یہ المیہ بھی مسیحی کمیونٹی کے لئے لمحہء فکریہ ہے کہ اکثر مسیحی خواتین طلاق کے حصول میں درپیش مسائل و مشکلات سے گھبرا کر دوسرے نکاح کے لئے مذہب تبدیل کر لیتی ہیں۔جبکہ بہت سے مسیحی مرد بھی پہلی بیوی سے طلاق نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کے لئے تبدیلیء مذہب کا آسان حل تلاش کر لیتے ہیں۔ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو اِس قسم کی کئی مثالیں مل جائیں گی۔ لہذا اِس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مذہبی مباحث کو ہوا دینے والے نکتہ چیں ان معاشرتی مسائل اور زمینی حقائق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھیں جِن کی وجہ سے عدلیہ نے اِس شق کو بحال کرتے ہوئے یہ تاریخ ساز فیصلہ سنایا"۔
اب جبکہ اِس کیس کی دوبارہ شنوائی میں ممبر صوبائی اسمبلی میری جیمزاور مسیحی صحافی و ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ آصف عقیل نے مسیحی طلاق کے سخت اور مبنی بر صنفی عدم مساوات قوانین پر تنقید کرتے ہوئے مسیحی خواتین کے حقوق وعزتِ نفس کی بحالی پر زور دیا ہے تومسیحی مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید اور انتہائی غیر معقول ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ ان حلقوں کے بقول میری جیمزاورآصف عقیل کا موقف بنیادی مسیحی عقائد میں مداخلت کے مترادف اور قابلِ مذمت ہے۔اِس حوالے سے ایک قومی اخبار سے وابستہ ہمارے صحافی دوست سمیر اجمل بھی مذکورہ حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا ٹرائل کا شکار ہیں۔ سخت گیر موقف کے حامل مسیحی حلقوں کے عتاب کا شکار اِن افراد کے ساتھ مکالمے، دلیل اور انسانی حقوق کے اصولوں پر استوار ہماری اخلاقی ہمدردی کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم مسیحی قانونِ طلاق میں تبدیلی کے مخالفین سے یہ سوال کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں کہ اگر ضیاء الحق کے نافذ کردہ شرعی قوانین اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں تو کیامسیحی خواتین کی معاشرتی و قانونی بے توقیری کا یہ قانونِ طلاق انکے بنیادی حقوق سے مطابقت رکھتا ہے؟خدا را ہوش کے ناخن لیں اور اِس معاملہ پر مذہبی مباحث کا چورن بیچنے کی بجائے مسیحی خواتین کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔مسیحی صرف پاکستان میں ہی نہیں رہتے۔اِس وقت دنیا کی غالب آبادی کا تعلق مسیحی مذہب سے ہے اور دنیا کے تمام مسیحی ممالک میں میاں بیوی کے مابین طلاق و علیحدگی کے قابلِ قبول سول قوانین ہیں نا کہ مذہبی۔اِن مسیحی اکثریتی ممالک سے جہاں آپ اور بہت سے معاملات میں استفادہ حاصل کرتے ہیں وہاں پاکستانی مسیحی خواتین کے انسانی حقوق کی تھوڑی رہنمائی بھی حاصل کر لیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *