یو بی ایل۔۔۔۔

Muhammad Umair

کسی نے کہا تھا جرنلزم کا مطلب اس چیز کی اشاعت ہے جس کودوسرے شائع نہیں کرنا چاہتے باقی سب تعلقات عامہ ہیں۔پاکستان میں میڈیا کافی حد تک آزاد ہے۔یہ آزادی خودبخود نہیں دی گئی اس کے لئے صحافیوں کی سالہا سال کی محنت شامل ہیں۔اس آزادی کے لئے صحافیوں نے جیلیں کاٹیں،ڈنڈے کھائے اور مقدمات برداشت کئیے۔میڈیا کی آزادی کا ثمر ہے کہ ہر ادارے کی خبر اب شائع ہوتی ہے۔مگروقت کے ساتھ ساتھ میڈیا ایک انڈسٹری بن گیا ہے۔میڈیا مالکان پر نظر دوڑائی جائے تو اپ کو بزنس ٹائیکوں بیٹھے نظر آئیں گے۔کم وبیش تمام بڑتے تجارتی گروپ اپنا چینل یا اخبار شروع کرچکے ہیں۔چینلز میں ریٹنگ اور اشتہارات کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔خبر سے بچنے کا ایک طریقہ اب اشتہارت ہیں۔آپ کو ہر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے کے خلاف خبر پڑھنے کو مل جائیگی مگر پرائیوٹ بنک،سکولز،کالجز ،یونیورسٹیز اور ہسپتالوں سمیت مختلف ملٹی نیشنل برانڈز کے خلاف خبر پڑھنے کو نہیں ملے گی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہاں ملازمین کا استحصال نہیں ہورہا،قانون کی پابندی ہورہی وجہ یہ ہے کہ یہ ادارے میڈیا کو اشتہارات دیتے اس لئے ان کے خلاف خبر شائع نہیں ہوتی۔اور اگر کبھی چلے بھی تو فوری طور پر اشتہارت کی کمک اس خبر کو اپنی موت آپ مار دیتی ہے۔
چند روز قبل سوشل میڈیا پر UBLکی ایک پوسٹ تھی جس پر کمنٹ لکھا گیا کہ یو بی ایل کی یہ عمارت پنشنرز کا حق غضب کرکے بنی ہے۔اس حوالے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ملکی قوانین کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کو پنشن دینے کا ضابطہ یہ ہے کہ ان کی آخری تنخواہ کے مطابق ان کی پنشن طے کی جاتی ہے۔مگر یو بی ایل نے اپنے ہی بنک کی ایک غیر منتخب یونین سے معاہدہ کرتے ہوئے ملازمین کی پنشن 30-06-2011کی تنخواہ پر طے کردی۔یو بی ایل پاکستان کا "واحد" ادارہ ہے جو کہ Frozen Basic Pay کے تحت پنشن طے کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے کسی اور گورنمنٹ ی,پرائیویٹ ادارے یا کسی اور ڈی نیشنلائز بنک میں یہ طریقہ کار رائج نہیں ہے۔بنک کے سابق ڈسڑکٹ مینجر نارووال حامد ندیم جو کہ 34سال کی سروس کے بعد 2012میں ریٹائرڈ ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ایک تو یہ یونین صرف لاہور میں تھی پورے پاکستان میں نہیں،دوسرا یہ غیر منتختب یونین تھی اور تیسرا اس یونین کو ایگزیکٹوز کے معاملات طے کرنے کا اختیار نہیں تھا۔مگر بنک نے ملازمین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے پنشن کا الگ قانون نافذ کردیا۔قانون کے مطابق میری پنشن 36ہزار بنتی تھی مگر اس کالے قانون کی وجہ سے میری پنشن 7ہزار رہ گئی ہے۔پنشن کے اس کالے قانون کی وجہ سے سینکڑوں ملازمین کا حق مارا گیا۔اب یہ ملازمین سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ میں درخواستیں دے رہے ہیں ،کچھ درخواستیں دیتے اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں مگر اب تک یہ کیس زیر سماعت ہے اور سینکڑوں ملازمین انصاف کے منتظر ہیں۔
حامد ندیم صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاقی محتسب کو بھی اس حوالے سے درخواست دے رکھی ہے جس کو سات ماہ گزر چکے ہیں ۔درخواست پر وفاقی محتسب نے منسٹری آف فنانس،پرائیوٹائزیشن کمیشن اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان سے جواب مانگا تھا مگر سات ماہ گزر جانے کے باوجودہ اب تک جواب داخل نہیں کروایا گیا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یو بی ایل کے ڈائریکٹرز کے اعلی حکومتی شخصیات سے تعلقات ہیں جس کے باعث پنشن کا معاملہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ساری زندگی بنک کے نام کرنے والوں کو پنشن کی مد میں ایک ملک میں نافذ کم سے کم تنخواہ سے آدھی رقم دی جارہی ہے تو اس سے وہ اپنا گھر کیسے چلائیں؟حامد ندیم صاحب اور دیگر ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس تمام ایشو کے حوالے سے بہت کوشش کی کہ اس کو میڈیا پر لایا جائے مگر مین سڑیم میڈیا یہ خبر دینے کو تیار نہیں ہے۔ہماری سپریم کورٹ،وفاقی محتسب سے اپیل ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں،اس فیصلے کے انتظار میں کچھ ملازمین ابدی نیند سوچکے ،جو بچ گئے ہیں ان کو ان کی زندگی میں انصاف دیا جائے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *