سائنس

وزیراعظم شہباز شریف کے وکی پیڈیا فوری بحال کرنے کے احکامات

Share

وزیراعظم شہباز شریف نے آن لائن انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا فوری طور پر بحال کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

وزیراعظم شہباز کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر توقیرشاہ کے دستخط سےجاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وکی پیڈیا پر پابندی کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے رکھا گیا تھا اور انہوں نے اس پر وزیرقانون، وزیر اقتصادی امور اور وزیراطلاعات پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جہاں اراکین نے عوام، طلبہ اور اساتذہ کی معلومات اور آگاہی کے لیے وکی پیڈیا کے کارآمد ہونے سے متعلق چیزیں اجاگر کیں۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مخصوص معلومات تک رسائی روکنے کے لیے وکی پیڈیا پر مکمل پابندی عائد کرنا مناسب اقدام نہیں ہے اور اس کی بندش سے پڑنے والے غیر ارادی اثرات اس کے فوائد کو زائل کردیتے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم نے تجاویز کی بنیاد پر حکم دیا کہ ویب سائٹ کو فوری طور پر بحال کردیا جائے اور وزیر انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی امین الحق کی سربراہی میں وزیرقانون، وزیراطلاعات، وزیر تجارت اور وزیرمواصلات پر مشتمل ایک الگ کمیٹی تشکیل دی۔

بیان میں کابینہ کمیٹی کے قواعد و ضوابط کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ پی ٹی اے کی جانب سے وکی پیڈیا بلاک کرنے کے اقدام کے حوالے سے جائزہ لیا جائے گا۔

کمیٹی اس کے علاوہ ہمارے معاشرتی، ثقافتی اور مذہبی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وکی پیڈیا اور دیگر آن لان ویب سائٹس پر موجود قابل اعتراض مواد ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے متبادل تکنیکی اقدامات اور تجاویز پیش کرے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کمیٹی متوازن انداز میں غیرقانونی آن لائن مواد روکنے کی مقصد کے تحت دیگر تجاویز بھی پیش کرے گی۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی اس حوالے سے کابینہ کمیٹی کو تعاون فراہم کرے گی۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ تجاویز کے ساتھ وفاقی کابینہ کو غور کے لیے بھیج دے گی۔

خیال رہے کہ دو روز قبل پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر قانونی مواد نہ ہٹانے پر پاکستان میں وکی پیڈیا کو بلاک کردیا تھا۔

پی ٹی اے کے ترجمان ملاحت عبید نے ملک میں وکی پیڈیا بلاک کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتی حکم کے تحت نوٹس جاری کر کے توہین آمیز مواد ہٹانے کے لیے وکی پیڈیا سے رابطہ کیا گیا تھا اور اسے رپورٹ کردہ مواد کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وکی پیڈیا نے توہین آمیز مواد ہٹانے کی تعمیل کی اور نہ ہی اتھارٹی کے سامنے پیش ہوئے اسی لیے ہدایت کی تعمیل نہ پر پلیٹ فارم کو پاکستان کے اندر بلاک کیا گیا۔

پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مواد ٹانے کے بعد ویب سائٹ سے پابندیاں ہٹانے پر غور کیا جائے گا۔

اس سے قبل پی ٹی اے نے توہین آمیز مواد کو بلاک نہ کرنے پر ملک میں وکی پیڈیا سروسز 48 گھنٹوں کے لیے ڈی گریڈ کردی تھی۔

ریگیولیٹری اتھارٹی نے کہا تھا کہ پی ٹی اے کی ہدایات کی تعمیل میں پلیٹ فارم کی جانب سے جان بوجھ کر ناکامی کے پیش نظر توہین آمیز مواد ہٹانے کی ہدایات کے ساتھ ملک میں 48 گھنٹوں کے لیے وکی پیڈیا کی سروسز کو ڈی گریڈ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وکی پیڈیا چلانے والے فلاحی ادارے وکی میڈیا فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ’وکی پیڈیا پر کون سا مواد شامل ہے یا اس مواد کو کیسے برقرار رکھا جاتا ہے اس کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتا‘۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ ایسا ہی ڈیزائن کیا گیا ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ بہت سارے لوگ آکر فیصلہ کریں کہ سائٹ پر کون سی معلومات پیش کی جائے جس کے نتیجے میں زیادہ اچھے اور غیر جانبدار مضامین آتے ہیں۔