کلین انرجی کے راستے میں رکاوٹ

ڈاکٹر اکرام الحقikram

جہاں ذاتی مفاد ہوں ، ہمارے حکمران امریکہ کی اندھا دھند نقالی کرتے ہیں لیکن جب عوامی مفاد کی بات آئے تو اُنہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ American Recovery and Reinvestment Act of 2009 کے نفاذ کے بعد امریکی حکومت نے کلین انرجی پر مبنی معیشت میں بڑے تسلسل سے خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ۔ اس کے نتیجے میں وہ دن آچکا ہے جب وہ ہوا اور سورج کی توانائی سے قدرتی گیس اور کوئلے کی مساوی لاگت میں بجلی پیدا کرسکیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ....’’ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران شمسی توانائی اور کوئلے سے پید ا ہونے والی بجلی کی لاگت اتنی گرچکی ہے کہ کچھ مارکیٹس میں ان سے پیدا ہونے والی بجلی قدرتی گیس اور کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی سے بھی سستی ہے۔‘‘
اس قابلِ قدر کامیابی کے پیچھے اس شعبے کو دی جانے والی امدادی قیمت کا ہاتھ ہے۔ تاہم پتہ چلا ہے کہ امدادی قیمت کے بغیر بھی غیر روایتی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع روایتی ذرائع سے سستی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ جس دوران امریکی حکومت نے دنیا کو کلین انرجی کا راستہ دکھایا ، ہماری حکومت ، جو ملک میں توانائی کا بحران ختم کرنے کی دعویدار ہے ، نے گزشتہ بجٹ میں سولر پینل کی درآمد پر 32.5 فیصد ٹیکس عائد کردیا۔ اسحاق ڈار جیسے قابل وزیر سے یہی توقع کی جاسکتی تھی...سولر پینل کی درآمد پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس، پانچ فیصد ڈیوٹی، تین فیصد کمرشل امورٹ ٹیکس، ساڑھے پانچ فیصد انکم ٹیکس۔ اس طرح سولر پینل کے صارف کے ہاتھ پہنچتے پہنچے ویلیو پلس ٹیکسز کی مدمیں حکومت کل ملا کر 32.5 فیصد ٹیکس وصول کر چکی ہوتی ہے۔
ہمارے معاشی ماہرین کی اس دانائی نے ’’اے ای ڈی بی‘‘( الٹر نیٹو انرجی ڈولپمنٹ بورڈ)کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ دعوی کیا گیا تھا کہ ’’ای ڈی بی‘‘( انجینئرنگ ڈولپمنٹ بورڈ) کی سفارشات پر ان ٹیکسز کا نفاذکیا گیا تاکہ سولر پینل کے مقامی تیارکنندگان کو تحفظ دیا جاسکے۔ تاہم یہ جھوٹا بہانہ ثابت ہوا۔ جولائی 2014میں پاکستان میں صرف دو مینوفیکچرز سولر پینل تیار کرتے تھے اور وہ مقامی ضروریات کا بمشکل پانچ فیصد ہی پورا کرپاتے تھے۔آج بھی ملک میں ایساکوئی مینوفیکچرر نہیں جو سولر ٹیوب ویلز کے لیے اعلیٰ معیار کے پینل بناسکتا ہو۔ ہمارے محترم فنانس منسٹر اس حقیقت کا ادراک کرنے میں شاید ناکام ہوگئے کہ ان ٹیکسز کے نفاذ سے زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہو گا۔ چونکہ سولا سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگتنے والے کسان فصلوں کی آب پاشی کے لیے ٹیوب ویل چلانے کے لیے بیرونی ممالک سے سولر پینلز درآمد کررہے تھے، چنانچہ کسی نے ا ن کی مجبور ی سے فائدہ اٹھا تے ہوئے رقم کمانے کا سوچا ہوگا۔ اس طرح کسانوں کو ان درآمد کردہ پینلز پر ٹیکسز ادا کرنا پڑے۔ اس پر ایک مرتبہ پھر ایف بی آر نے حیران کن وضاحت پیش کرتے ہوئے چھبیس جولائی 2014کو ایک بیان میں کہا...’’کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکسز قانون کے مطابق سولر پینلز کے صرف اُن حصوں پر ٹیکسز وصول کیے جاتے ہیں جومقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم سولر پینلز پر ٹیکسز کے نفاذ سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ ایسا نہیں ہے اور یہ ٹیکسز تیار شدہ پینلز پر ہی عائد کیے گئے ہیں۔ درحقیقت اس سلسلے میں کچھ درآمدکنندگان کو کنفیوژن کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سابق ایس آراو 575(I)/2006میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے سولر پینلز کو درآمدکردہ سولر پینلز اور ان کے پرزہ جات سے مشروط نہیں کیا گیا تھا، لیکن کسٹم ایکٹ 1969 کے پانچویں شیڈول اور سیلز ٹیکس1990 کے چھٹے شیڈول میں ایسا کردیا گیا ۔
ایف بی آر نے یقینی طور پرایس آر او کی ’’ہدایت ‘‘ کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس مافیا کے لیے جیبیں بھرنے کا سامان کردیا جس کا تال میل اس محکمے کے بدعنوان افسران کے ساتھ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اُنھوں نے بنک گارنٹی پیش کی اور پھر ٹیکس کا بوجھ صارف پرمنتقل کردیا۔ اُنھوں نے خود ایف بی آر کو ایک پائی بھی ادا نہیں کی۔ مسٹر ڈار اور ایف بی آر کے باس کو علم ہونا چاہیے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کے نفاذ پر ٹیلی کام انڈسٹری نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ نیٹ ورکس میں کام کرنے والے وہ آلات جو سولر پینلز سے بجلی حاصل کرتے ہیں، کی قیمت میں اضافہ ہونا لازمی امر تھا۔ اس سے اُنہیں اپنے سسٹم کو ترقی دینے اور تھری جی اور فور جی کی طرف پیش رفت کرنے میں دقت پیش آئی۔ چنانچہ اُنھوں نے بھی یہ اضافی بوجھ صارف پر منتقل کردیا۔
2006میں حکومت نے قابلِ تجدید انرجی(renewable energy) کے شعبے کے لیے ٹیکسز کی چھوٹ کا اعلان کیا تھا تاکہ پاکستان کے جن علاقوں میں نیشنل گرڈ سے بجلی فراہم نہیں کی جاسکتی، وہاں سولر انرجی کو فروغ دیا جائے۔ تاہم موجودہ حکومت نے 2014میں اس چھوٹ کو واپس لے لیا۔انٹر نیشنل انرجی ایجنسی کی 2011کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اڑتیس فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت میسر نہیں جبکہ باقی باسٹھ فیصد کو ضرورت سے بہت کم بجلی دستیاب ہے۔ پاکستانی درآمدکنندگان امریکہ، جرمنی، جاپان، چین اور انگلینڈ سے سولر انرجی میں استعمال ہونے والے آلات منگواتے ہیں۔ ٹیکسز کے اچانک نفاذ سے یہ تمام آلات مہنگے ہوگئے ۔ اس کا تمام تر بوجھ حتمی صارف کو برداشت کرنا پڑا۔
جس دوران ہماری نام نہاد بزنس فرینڈلی حکومت ایسے بزنس دشمن اقدامات اٹھارہی تھی، ہمارے پڑوس میں بھارت نے امریکہ، چین، تائیوان اور ملائیشیا سے درآمد کیے جانے والے سولر سیلز پر ڈیوٹی عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انڈیا کی وزارتِ خزانہ نے سولر سیلز پر ڈیوٹی عائد کرنے کے لیے Directorate General of Anti-Dumping and Allied Dutiesکی سفارشات کو مسترد کردیا۔ Directorate General کا موقف تھا کہ بھارت میں فروخت ہونے والے درآمدی پی وی آلات مقامی طور پر تیار کیے جانے والے آلات کی لاگت سے بھی کم نرخوں میں فروخت ہورہے ہیں، اس لیے ان پر ڈیوٹی عائد کی جائے، لیکن وہاں کی وزارتِ خزانہ نے ایسا نہ کرنے پر پرعزم رہی کیونکہ اس سے سولر انرجی کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا۔ دوسری طرف ہمارے ماہرین ایسے کسی ویژن سے تہی داماں ہیں ۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ امریکہ جیسے ملک نے قابلِ تجدید انرجی پر کس طرح سرمایہ کاری کی ۔ ہمارے ہاں بیمار گرڈ کی رگوں میں جان ڈالنے کی بے کار کوشش کی جارہی ہے... کم از کم اس کا دعویٰ کیا جارہا ہے... لیکن سرحد پار بھارت میں آف گرڈ دیہاتوں کو سولر پینلز سے بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ تاہم ، ہمارے ماہرین ایسی کسی سوچ کو ذہن میں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں جس سے عوام کو فائدہ پہنچنے کا ذرہ سا بھی امکان ہو۔ہاں، ٹی وی پروگراموں اور جلسوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اگلے دس برس میں پچیس سے تیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے زیرِ غور ہیں لیکن ان کے پاس آبی منصوبوں کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران پاکستان کوتوانائی کے حوالے سے ایک خود کفیل ملک نہیں بنانا چاہتے کیونکہ ان کے بہت سے معاشی مفادات اور سرمایہ کاری اُن ممالک میں ہے جو پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا نہیں دیکھ سکتے۔ اس طرح ہماری بجلی کی کمی فی الحال دور ہونے کے امکانات معدوم ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *