دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے

سجاد میرsajjad mir

30نومبر بھی گزر گیا۔ گزرا ہے تو دل یہ پوچھنے کو چاہتا ہے‘ دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ4 دسمبر کا انتظار کرو۔ اس دن بھی کچھ نہیں ہوگا۔ ویسے اس دن کا انتخاب ہی غلط ہے‘ اس دن جماعة الدعوة کی مینا رپاکستان پر اجتماع کی باری ہے۔ بہرحال یہ ایک عجیب معاملہ ہے۔ عمران جب جلسے کرتا ہے تو میرا دل خوش ہوتا ہے کہ اس نے عوام کی طرف رجوع کیا ہے۔ اور میں اس کے جلسوں کی شادمانی سے بڑا شاد کام ہوتا ہوں کہ چلو جمہوریت کی رونق تو لگی ہے۔ اس سے ہمارے پیارے حکمرانوں کو بھی سمجھ آرہی ہوگی کہ چند بڑبولے ترجمانوں سے گزارہ نہیں ہوگا‘ کچھ کرکے دکھانا پڑے گا۔ میں اس وقت ان کی کارکردگی پر مضمون باندھنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ کئی حوالوں سے معاملات پاکستان کے لئے سازگار جا رہے ہیں۔اس لئے حکومت کو بھی بہت سے معاملات میں حسن کارکردگی دکھانے کا موقع مل رہا ہے۔ اس کا کریڈٹ بھی اگر دھرنے والے لیں تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آخر ملک کا فائدہ ہو رہا ہے۔
تاہم جب عمران اسلام آباد میں ایک طرح سے چڑھ دوڑنے کی بات کرتے ہیں تو میں ٹھٹک جاتا ہوں۔14اگست سے جو طوفان اٹھا ہے‘ اس میں عمران کے بارے میں مختلف آراءجڑ پکڑ رہی ہیں‘ اچھی بھی بری بھی۔ میں نے ہمیشہ عمران کو ملکی سیاست میں ایک نیا اثاثہ قرار دیا ہے۔ یہی لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ اسے ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ اس نے لاہور‘ لاڑکانہ‘ فیصل آباد‘ ملتان وغیرہ میں جلسے کرکے بتا دیا ہے کہ وہی شمع محفل ہے۔ پروانے اس کی طرف دیوانہ وار آتے ہیں۔ عمران کے تینوں ادوار کو دیکھا جائے تو اپنے اپنے تناظر میں عمران نے لوگوں کو چونکایا ہے۔97ءمیں لگتا تھا کہ عمران ضرور کچھ نہ کچھ کر دکھائے گا۔ اس کی مقبولیت مگر انتخابات میں نتائج نہ دے سکی۔2013ءمیں تو لگتا تھا طوفان آنے والا ہے۔ اس وقت بھی جتنے مستند سروے تھے‘ ان کا اندازہ تھا کہ اقتدار اسے اب بھی نہیں مل رہا۔ ایک اندازہ تھا کہ15نشستیں نکال پائے گا۔ دوسرا اندازہ35سے55 نشستوں کی بات کرتا تھا۔ کسی بھی تخمینے میں وہ اقتدار میں آتا دکھائی نہ دیتا تھا۔ عمران البتہ اتنا پر امید تھا کہ ٹی وی کے لائیو پروگراموں میں شرطیں لگاتا دکھائی دیتا تھا کہ وہ جیت رہا ہے۔ اسے اپنے وزیراعظم بننے کا اتنا یقین تھا کہ ایک اطلاع کے مطابق اپنے بچوں اور سابقہ بیوی کو یہ بتا آیا تھا کہ آئندہ آپ کی ملاقات پاکستان کے وزیراعظم سے ہوگی۔ نتائج حسب توقع نہیں آئے۔ اسی پر ہمارے تجزیہ نگار بہت سی باتیں کہتے ہیں جو عمران کی ذہنی کیفیت کا تجزیہ ہوتی ہیں۔ اب بھی عمران نے طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ اس بار بھی لوگ کہتے ہیں کہ عمران اب بھی انتخابی برتری سے دور ہے اس کی بہت سی وجوہ بتائی جاتی ہیں۔
جن میں ایک یہ ہے کہ اس نے تو اسٹیبلشمنٹ کو بھی ڈرا دیا ہے کہ یہ شخص حکومت میں آگیا تو ان کے لئے بھی مشکلات پیدا کرےگا۔ دوسری طرف اس وقت کا نقشہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ عمران جسے پلان اے اور بی کہتا ہے‘ وہ مجوزہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے‘ تاہم اسے ناکام نہیں جانے دیا جائے گا۔ کیونکہ یہی تو تھا جس نے صرف ایک پکار پر لبیک کہا اور یہ اسی ادارے کے خلاف ڈٹ گیا جو اسٹیبلشمنٹ کے لئے درد سر بن رہی تھی۔ چاہے وہ موجودہ حکومت ہو چاہے میڈیا کا ایک حصہ۔ عمران نے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ آج اگر وہ نامراد لوٹ گیا تو کل کون ایسے حالات میں سامنے آنے کی ہمت کرے گا۔ اس لئے اس کی جھولی میں کچھ نہ کچھ ضرور ڈالا جائے گا۔ جلسوں کے ذریعے وہ اپنی طاقت کے پھیلاﺅ میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ اس کا مگر مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام آباد سے نکل کر اب دوسری راہ لے۔ یہ اس کی شکست ہوگی۔ اس لئے وہ پھر لوٹا ہے۔
مگر اتنا تو خیال رہے کہ اس بار کوئی42 صفحوں یا شقوں کا معاہدہ کرکے میدان میں آیا ہے۔ اور اس نے اس معاہدے کی سب شقوں کا پاس کیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتا تھا کہ اگر اسے روکا گیا تو وہ دوبارہ 15 دن بعد آئے گا۔ یہ نہیں کہتا تھا وہ اسلام آباد کے درو دیوار ہلا دے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ عمران تو فیس سیونگ چاہتا ہے‘ حکومت ہی ہٹ دھرمی دکھا رہی ہے اور اس کے وزیر ایسی فضا پیدا کر رہے ہیں جو عمران کو معاملات طے کرنے سے روکتی ہے۔ شاید یہ بات بھی پورا سچ نہ ہو۔ یہ بھی غلط نہ ہو کہ اندر خانے مذاکرات ہو رہے ہوں یا بیچ بچاﺅ کرایا جا رہا ہو۔ عمران یہ سب کچھ اس لئے کر رہا ہے کہ وہ کمزوری کی حالت میں کوئی معاہدہ نہیں کرنا چاہتا۔ وہ طاقت دکھا کر اچھے نتائج چاہتا ہے۔ حکومت بھی شاید کمزوری نہیں دکھانا چاہتی۔ مذاکرات ناگزیر دکھائی دیتے ہیں۔ چوہدری نثار نے تو امید ظاہر کی ہے کہ30 نومبر کے بعد مذاکرات ہوں گے۔ تحریک انصاف کے لئے اب منزل کیا ہو سکتی ہے۔ صاف شفاف انتخابات ہو سکے تو وقت سے پہلے انتخابات ۔اور یہ بات بھی اب تیسرے نمبر پر آگئی کہ سابقہ انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔ ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ دھاندلی کے تمام شور شرابے کے باوجود اس کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ شاید ہی کوئی طریقہ ایسا ہو جو قانونی طور پر تمام انتخابات کو کالعدم قرار دے سکے۔ تحریک انصاف ذہنی طور پر آئندہ انتخابات کے لئے تیار ہو رہی ہے۔ یہ بات یونہی تو نہیں کہ ان کے استعفے منظور نہیں ہو رہے اور وہ مارچ میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات کا بھی انتظار کر رہی ہے۔ یہ انتخابات عمران کے لئے نمائندگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ استعفے منظور ہوگئے تو پھر یہ موقع لمبے عرصے کے لئے چلا جائے گا۔ سنا ہے‘ تحریک انصاف میں اس کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
بلدیاتی انتخابات سے بھی عمران اپنی طاقت کا اظہار کر سکتا ہے۔ شاید پنجاب میں اس کے امکانات ہوں۔ یہ نہیں کہ پنجاب میں ہر جگہ ان کا پرچم لہرا رہا ہو‘ بلکہ یہ کہ وہ جگہ جگہ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہوں۔ جو لوگ انتخابی بصیرت رکھتے ہیں‘ وہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کے کتنے مثبت نتائج تحریک انصاف کے لئے مرتب ہو سکتے ہیں۔ وگرنہ رونق لگائے رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
دیکھئے‘ قیادت کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لے۔ یہ بھی دیکھئے کہ ان کی اپنی پارٹی میں کتنی گنجائش ہے‘ کارکنوں کو جس جس مقام پر جھونکا جا سکتا ہے۔ یہ کارکن کہاں کہاں کارگر ہو سکتے ہیں۔ اور ملک کے حالات اور پارٹی کے حالات میں کون سی حکمت عملی نتائج لا سکتی ہے۔ تحریک انصاف کے کارکن مار کٹائی کے لوگ نہیں‘ بھلے لوگ ہیں۔ انہیں امتحان میں نہ ڈالئے۔ آپ کے نام پر جو فساد پھیلائے گا‘ وہ آپ کی اپنی طاقت نہیں ہوگی۔ آپ انہیں چیتا چیتا کہہ کر انہیں مشکل میں نہ ڈالئے۔ وسائل کی آپ کے پاس کمی نہ ہوگی‘ مگر اتنا تو ہمیں بھی یاد ہے کہ دھرنے کے آخری ایام میں آپ بھی اور طاہر القادری بھی چندہ مانگنے کی ضرورت محسوس کرنے لگے تھے۔ سیاست بہت مہنگا کاروبار ہے۔ بہت سی باتیں ہیں جنہیں آپ نے نظر میں رکھنا ہوگا۔
صرف اتنا عرض ہے کہ اگر آپ نے سیاست کرنا ہے تو معروضی حالات و حقائق پر نظر رکھنا ہوگی۔ اس وقت سب ہنگامہ آرائی آپ کو اس مقام پر لے جانے کے لئے ہے کہ آپ طاقت کے مقام سے بات کر سکیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ان ایام میں کئی مواقع ایسے آئے جب آپ طاقت کے مقام سے اپنی شرائط منوا سکتے تھے‘ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے گئے ہیں۔ اب بھی مگر ایسی صورت حال ہے کہ ایک بہتر حکمت عملی سے عملی سیاست میں کچھ نہ کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے‘ وگرنہ اور تاریخ دے دیجئے وہ بھی گزر جائے گی چاہے 4ہو یا8یا12یا پھر16 ۔پوچھنے والے ہر بار پوچھیں گے: دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *