تمہارا ویلنٹائن

mehmood-asghar-chaudhry

وہ بڑی عاجزی سے میرے سامنے بیٹھ گیا اورنہایت انکساری سے کہنے لگا باؤ جی برائے مہربانی آپ مجھے اردو کے اچھے اچھے شعر زبانی یاد کرادیں میں نے حیرت سے کہا شعر !لیکن تم شعرکیوں یاد کرنا چاہتے ہو ؟وہ شرماتے ہوئے لجاجت سے کہنے لگا ’’جی میری منگنی بچپن سے ہی میں میری خالہ زاد سے ہو گئی تھی میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں بہت جلد ہماری شادی ہونے والی ہے ‘‘۔۔’’لیکن شادی کا شعروں سے کیا تعلق ہے؟ ‘‘میں نے اسے ٹوکا۔کہنے لگا’’ جی اصل میں وہ کالج میں پڑھتی ہے ،بڑی لائق ہے اورشاعری بھی کرتی ہے۔ اگر آپ مجھے کوئی شعر سکھا دیں گے تو اسے لگے گا کہ مجھے بھی شاعری اچھی لگتی ہے‘‘ اسکے بعد اس نے سگریٹ کا ایک لمبا سا کش لیا اور اپنے منہ سے دھویں کے گول گول دائرے بناکرفضا میں بکھیرتے ہوئے کہنے لگا ’’باؤ جی میرا خیال ہے شعر محبت کے انجن کا اسٹارٹر موٹر ہوتا ہے اگر کسی کو شعر نہیں آتے تواظہار کے لئے جتنی مرضی ہے باتوں کی’چوک‘دیں یا ’ایکسیلٹر‘ دبا ئیں محبت کی گاڑی اسٹارٹ نہیں ہو سکتی ‘‘
اس کی آٹو الیکٹریشن کی چھوٹی سی ورکشاپ تھی جو میرے کالج کے راستہ پر بس اسٹاپ کے نزدیک تھی وہ مجھے دیکھتے ہی اپنے شاگردوں میں سے کسی کوآواز دیتا اوئے چھوٹے اندر سے کرسی لیکر آ۔پھر وہ اپنی نگرانی میں اسے صاف کرواتا اور کہتا باؤ جی اس پر بیٹھیں ابھی بس آنے میں کافی’’ ٹیم ‘‘ہے ورکشاپ میں ہی پڑے ہوئے کسی ڈبے کو وہ اپنی کرسی بنا تا،سگریٹ کی ڈبی کھولتا، رجنی کانت کے اسٹائیل میں سگریٹ کو اپنے منہ میں پھینکتا اور میرے سامنے آکر براجمان ہوجاتااس دن اپنی گفتگو کے آغاز میں ہی مجھے کہنے لگا’’ مجھے آپ سے بہت ضروری کام ہے‘‘ میں نے کہا ہاں بتاؤ کیوں نہیں؟ کہنے لگا مجھے اردو کے کچھ شعر زبانی یاد کرا دیں میں نے کہا اس میں کیامسئلہ ہے میں تمہیں شاعری کی کوئی کتاب لا دیتاہوں وہ ہنس کر کہنے لگا مجھے پڑھنا نہیں آتا میں چوتھی جماعت سے سکول سے بھاگا ہوں اور پھر سکول کا منہ نہیں دیکھا میں نے پوچھا وہ کیوں ؟کہنے لگا مجھے سبق یاد نہیں ہوتا تھاماسٹر وں سے روزپٹائی ہوتی تھی لیکن ایسالگتاتھا جیسے دماغ کے اندرکسی بلب کا کوئی فیوز اڑ گیا ہو یا پھر یاداشت کی بیٹری ختم ہوگئی ہویا ذہن کے انجن کے پلگوں میں کچرا آگیا ہوتنگ آکرابا نے سزا کے طور پر مجھے ایک الیکٹریشن کے پاس بھیجا اور میں کچھ ہی مہینوں میںآٹو الیکٹریشن بن گیااور اب دیکھیں اپنی ورکشاپ کھول کے بیٹھا ہوں
میں نے اس معصوم عاشق کی مدد کرنے کا تہیہ کرلیا اور اس سے وعدہ کیا کہ اسے کچھ ہی دنوں میں بہت سے شعر یاد کرا دوں گا میں بی ایس سی فائنل ائیر میں تھا اردوکا مضمون چھوڑے ہوئے مجھے بھی دو سال کا عرصہ ہوچکاتھااس لیے مجھے خود بھی شعر اب اتنے یاد نہیں تھے البتہ میٹرک میں پڑھے ہوئے معتبر شعرا ء کے چند شعر اس کے سامنے پڑھے تو کہنا لگا یہ بہت مشکل ہیں مجھے تو کوئی آسان سا شعر سکھائیں میرے لئے اب یہ ایک معمہ بن گیا کہ آسان شعر کہاں سے لاؤں پھر اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ بسوں، رکشوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے پیچھے اکثر شعر بڑی آسان اردو میں لکھے ہوتے ہیں میں نے اس مشن کے لئے بسوں اور رکشوں کے شعرا ء کی مدد لینے کی ٹھان لی
آسان شعروں کی تلاش میں ٹریکٹر ٹرالیوں پر نظر ڈالی تو ان کے پیچھے اس طرح کے شعر لکھے ہوئے تھے ’’ ماں کی دعا جنت کی ہوا ۔پپو یار تنگ نہ کر۔ ہارن دے راستہ لے ۔۔ توں لنگ جا ساڈی خیر اے ۔۔جبکہ رکشوں کے پیچھے ’’جس نے ماں باپ کو ستایا اس نے رکشہ ہی چلایا ‘‘ ’’ ماں کی بد دعا جا بیٹا رکشہ چلا ‘‘اور بسوں میں زندگی کی بے ثباتی کے بارے میں اشعار تھے جیسا کہ،’’اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نا جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے‘‘کچھ عشقیہ شعر بھی تھے لیکن ان کامعیار ایک کالج کی لڑکی کے لئے انتہائی نا مناسب تھا مثلاً’’اے پھول یہ پھول میرے پھول کو دینا کہنا کہ یہ پھول تیرے پھول نے دیا ہے ‘‘، سگریٹ جلایا تھا تیری یاد بھلانے کو ظالم دھوئیں نے تیری تصویر بنا ڈالی‘‘’’ وہ کاپی ہی کیا جس کا کور نہ ہو وہ لڑکی ہی کیا جس کا لور نہ ہو ‘‘ ’’ڈرائیور ڈرائیوری کرعشق لڑانا چھوڑ دے۔ بریک بے وفا ہے ریس لگانا چھوڑ دے ‘‘ اس طرح کے شعر پڑھ کر میں نے بسوں وغیرہ سے مدد لینے کا اپنا ارادہ ذہن سے جھٹک دیا
وہ ہر روز مجھے روک کر پوچھتااستاد جی شعر سکھانے کی تعلیم کا آغاز کب کریں گے آخربڑی تگ ودو کے بعد مجھے فراز کاایک آسان سا شعر مل گیا میں نے اسے یاد کرانا شروع کر دیا میں نے کہا کہ یہ شعر شادی کے بعد تم نے اپنی بیوی کو سناناہے ’’زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے ۔۔توبہت دیر سے ملا ہے مجھے‘‘ اس ایک شعر کو یاد کرنے میں اسے کئی ہفتے لگ گئے وہ بھرے چوک میں اونچی آواز میں کہتا’’زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے ۔۔۔ ‘‘ اور اس کے بعد اس کو دوسرا مصرعہ بھول جاتا تھا وہ ہر روز مجھ سے یہی کہتا کہ دوسرا مصرعہ کیا ہے اس کی یاداشت کی بیٹری واقعی خطرناک حدتک کمزور تھی کبھی کبھی پوچھتا زندگی سے۔۔ آگے کیا تھا باؤ جی ؟ پورا ہفتہ اس نے اس شعر کا پہلا مصرعہ یاد کرنے میں لگا دیاایک دن میں نے اسے کہا جس رفتار سے تم شعر یاد کر رہے ہو اپنی بیو ی کو پورا شعر اس وقت سنا سکو گے جب تمہارے بچے ہوجائیں گے وہ پریشان و مغموم ہوکر کہنے لگا بات تو آپ کی ٹھیک ہے باؤ جی تو پھر کیا کرو ں مجھے یادہی نہیں ہوتا کہنے لگا کوئی ایسا شعر نہیں ہے جو صرف ایک ہی’’ لین ‘‘والا ہو میں نے کہا ایک لائین کا مصرعہ ہوتا ہے مکمل شعر نہیں وہ مزیدپریشان ہوگیا
ایک دن میں نے اسے چھیڑنے کی کوشش کی میں نے کہا میں نے سنا ہے کہ لڑکیوں کو زیادہ تعلیم نہیں دلوانی چاہیے کیونکہ اگر ان کی تعلیم خاوند سے زیادہ ہو تو وہ خو د سر ہوجاتی ہیں اور اپنے شوہر کی فرمانبرداری نہیں کرتی اگر تم خو د پڑھ نہیں سکے تو تمہیں اپنی خالہ کو منع کر دینا چاہیے تھا کہ وہ تمہاری منگیتر کو سکول کے بعد مزید تعلیم سے روک دیتی تاکہ تم دونوں کے درمیان اتنا بڑا فرق پیدا نہ ہوتا اس نے ناراضگی والی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ باؤجی علم تو روشنی ہے زندگی کے گھپ اندھیرے میں گاڑی کی ہیڈ لائٹ کی طرح راستہ دکھاتا ہے میں جس سے محبت کرتا ہوں اسے روشنی سے کیسے محروم کر سکتا ہوں بلکہ میں نے تو جب سے ورکشاپ بنائی ہے اپنی خالہ کی مالی مدد بھی کرتا رہتا ہوں تاکہ وہ اس کی تعلیم میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالیں
میں نے پوچھا کیا کبھی تم نے اس سے بات کی ہے ؟کیا و ہ بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتی ہے ؟ کہنے لگا نا باؤ جی نا۔ توبہ کریں شادی سے پہلے منگیتر سے باتیں نہیں کرنی چاہیے میں نے اسے مزید چھیڑتے ہوئے کہا پھر تو تمہیں اس کی تعلیم فوراً رکوا دینی چاہیے تم دونوں کی بچپن کی منگنی ہے اگر اس نے بہت زیادہ تعلیم حاصل کر لی اور کہا کہ وہ تم چوتھی فیل سے شادی نہیں کر نا چاہتی بلکہ کسی پڑھے لکھے شخص سے شادی کرنا چاہتی ہے تو تم کیا کرو گے وہ بہت سنجیدہ ہوگیا ’’کہنے لگا ’’باؤ جی ۔محبت خود غرضی تو نہیں ہوتی ہے۔محبت میں ایسی کوئی شرط تو نہیں ہوتی کہ جس سے محبت کی جائے وہ بھی آپ سے محبت کرے اگر وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہے گی تو اسے انکار کا پورا حق ہوگامیں کوئی اس کی آزادی تو خرید نہیں رہا لیکن میں اس کی تعلیم کیوں رکوا دوں اس کی روشنی کیوں چھین لوں ‘‘ اس کی محبت کی پاکیزگی اور خلوص دیکھ کر میں نے اسے کہا اگر یہ بات ہے تو میں تمہیں ایک مصرعہ والا ایک ایسا شعر سناتا ہوں جو دنیا میں سب سے زیادہ مشہور ہوا اور جو تمہیں یاد بھی ہوجائے گا اس کا چہرہ خوشی سے چہک گیا پوچھنے لگا وہ کونسا شعر ہے جو میری خراب بیٹری والی یاداشت میں بھی ویلڈ ہو جائے گا
میں نے اسے پوچھا جانتے ہو ویلنٹائین کون تھا؟ کہنے لگا جی نہیں میں نے کہا اس میں اور تم میں ایک بات مشترک ہے پوچھنے لگا کونسی میں نے کہا دوسروں کو بے غرض روشنی دینے والی۔۔ کہنے لگا وہ کیسے ؟ میں نے کہا آج سے سترہ سو سال پہلے ایک بہت بڑامسیحی پادری ہوا ہے جس نے بت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی کا مذہب قبول کیا تو اسے گرفتار کر لیا گیا اس کے دور میں رومن بادشاہ کلاودیوس نے اپنے فوجیوں پر شادی کی پابندی لگائی ہوئی تھی اس کا خیال تھا کہ شادی شدہ لوگ جنگ کی صورت میں اچھے سپاہی ثابت نہیں ہوتے ویلنٹائین نے بادشاہ سے چوری چھپے فوجیوں کی شادیاں کروانا شروع کردیں رومن کافر بادشاہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے ویلنٹائین کو سزائے موت سنا دی اسے جس جیل میں رکھا گیا اس جیلر کی ایک اندھی بیٹی تھی۔ ویلنٹائین کو اس اندھی لڑکی سے محبت ہوگئی اس نیک دل پادری نے اس جیلر کی بیٹی کا علاج کیا تو اس کی دعاسے اس کی آنکھوں کی روشنی لوٹ آئی پادری کو سزائے موت دے دی گئی مرنے سے پہلے اس نے لڑکی کو ایک خط لکھا جس پر صرف دو لفظ لکھے تھے یہ دو لفظ اتنے مشہورہوئے ہیں کہ تقریباً سترہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی آج تک دنیا میں کسی شاعر کا شعر محبت کرنے والوں کی زبان پر اتنا نہیں مشہور ہوا جتنے یہ دو لفظ۔یہ دو لفظ حقیقی عشق کا استعارہ بن گئے آج بھی جب کسی نے اپنے محبوب کو اپنی محبت کا مکمل یقین دلانا ہو تو اسے یہی دو لفظ کہتا ہے یا پھرکارڈ پر لکھ کر دیتا ہے جانتے ہوویلنٹائین نے مرنے سے پہلے اس کارڈ پر کونسے دولفظ لکھے تھے اس نے انکار میں سر ہلایا میں نے جواب دیا وہ دو لفظ تھے ’’تمہارا ویلنٹائین ‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *