داغ دہلوی سے غالب تک

فضل بلوچ fazal bloch

ان کی موت سے کچھ سال بعد ہی میں نے ایک مشہور اخبار میں پڑھا: مشہور شاعر اور مصنف عطا شاد آج رات انتقال فرما گئے۔ میرے لیے یہ خبر نہیں تھی۔ کوئی بھی مر سکتا ہے۔ شاد کوبھی آخر ایک دن کوچ ہی کرنا تھا۔میں نے تفصیل پڑھنا بھی گوارہ نہ کیا  اور اخبار ایک طرف پھینک دی۔ تب میں ٹین ایجر تھا  اور ابھی شاعری سے میرا شغف تازہ تھا۔ اگر آپکو لگتا ہے کہ شاد جیسا شخص کسی نوجوان کو شاعری  کی طرف کھینچ سکتا ہے تو آپ غلط سوچ رہے ہیں۔ اگر کوئی ٹین ایجر ان کی شاعری پڑھ بھی لے تو وہ مایوس ہی ہو گا۔ تب میں داغ دہلوی کا پرستار تھا جودہلی کے اردو شعرا میں سے آخری کلاسیکل شاعر تھے ۔میرے لیے ان سے بڑا کوئی شاعر نہیں تھا۔ ان کے علاوہ کوئی بھی ایسا شاعر نہیں تھاجو ایک نوجوان کے جذبات کو بہتر سمجھ کر اس کے خیالات کی ترجمانی کر سکے۔

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ ہی آنا دل کا

یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانہ دل کا

پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تک

کیونکر  سایہ تجھے غیروں سے لگانا دل کا

اس طرح کی شاعری نے مجھے ایک تخیلات کی زندگی کا تجربہ دیا اور میرا دل پیار اور رومانس سے بھر گیا۔ ایک ٹین ایجر ایسی ہی شاعری سے شغف رکھ سکتا ہے۔ میں نہ صرف دہلوی کی شاعری خود پڑھتا تھا بلکہ اپنے دوستوں کو بھی سناتا اور انہیں خود بھی پڑھنےکا مشورہ دیتا۔ کچھ سال تک داغ میرے پسندیدہ شاعر رہے ۔ ان کی شاعری ہر وقت میرے دماغ میں رہتی  اور میرے لبوں پر انہی کے الفاظ جاری رہتے۔ جب میں نے شاد کے غزل اور شعر پڑھے تو ٹین ایجر ہوتے ہوئے وہ میری توقعات کے مطابق نہیں تھے۔

اگرچہ ان کی شاعری میری مادری زبان میں ہے  لیکن ان کی بلوچی ہمارے گھر میں بولی جانے والی زبان سے تھوڑی مختلف ہے۔ لیکن ان کی شاعری کی زبان بہت ہی مشکل معلوم ہوتی تھی۔ ان کی شاعری کا ٹین ایجر کے جذبات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا وہ کبھی زندگی کے اس دور سے گزرے ہی نہیں۔ جب میں ان کی شاعری پڑھتا، میں بور  ہو جاتا اور کچھ اور کرنے کو ترجیح دیتا۔ پھر میں نے ان کی شاعری پڑھنا ہی چھوڑ دیا۔ جب میں نے کالج شروع کیا تو غالب اور دہلوی کی شاعری سے بھی پالا پڑا۔ میری زندگی ہی بدل گئی۔

غالب نے نہ صرف مجھے دہلوی سے علیحدہ کیا بلکہ مجھے ایک بار پھر شاد کی شاعری پڑھنے پر آمادہ کیا۔ مجھے غالب کی شاعری کا سٹائل  اور زندگی اور کائنات کے بارے میں ان کے خیالات نے بہت متاثر کیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ میں نے شاد کو اس لیے چھوڑا تھا کہ میں غالب کی شاعری میں زیادہ دلچسپی لینے لگا تھا۔ پھر میں نے شاد کی شاعری دوبارہ پڑھی تو مجھے اس کی سمجھ آنے لگی اور مجھے وہ دہلوی سے بھی اچھے لگنے لگے۔ دہلوی کے شعر وں کی بجائے میری زبان پر شاد کی شاعری جاری ہو گئی۔ ان کی ایک نظم کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔

جہاں تک میری آنکھیں دیکھ پا رہی ہیں، مجھے ہر طرف خاموشی دکھائی دیتی ہے ۔ سڑکیں ویران ہیں،

اس کائنات میں میں ایک ہجوم دیکھتا ہوں جو روشنی کے کھو جانے کا ماتم کر رہا ہے۔

شراب اور گلاس، خوبصورت لڑکیوں کا ساتھ جو خوبصورت لباس میں ملبوس ہیں،

میری زندگی ابدی ہے جہاں نہ موت ہے نہ عذاب،

ستاروں اور آنسو کے بیچ کا فرق صرف تخیلاتی ہے۔

یہ دونوں جب گرتے ہیں تو زمین پر ہی پہنچتے ہیں۔

1939 میں محمد اسحاق کے گھر پیدا ہونے والے شاد نے ماڈرن بلوچی شاعری پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیںانہوں نے 50 سال کی عمر کے بعد بلوچی ادب میں قدم رکھااور بہت جلد دوسرے شعرا پر سبقت لے گئے۔ انہوں نے شاعری کے عام مضامین سے ہٹ کو اپنا خاص انداز اپنایا۔ انہوں نے ماڈرن ادب میں اپنا خاص انداز متعارف کروایا اور اپنے پڑھنے والوں کو نئے محاوروں اور استعاروں سے واقفیت دی۔ جب فارسی اور اردو نے بلوچی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا تب شاد ہی نے بلوچی کو زندہ رکھا۔ شاد نے ماڈرن شاعری کے لیے افتخار جالب، صفدر میر اور انیس ناگی جیسے شاعروں کا سہارا نہیں لیا۔ نہ ہی انہوں نے کلاسک شاعری کو ترک کیا۔ شاد اپنی شاعری میں مبہم اور غیر واضح الفاظ کے استعمال کو ترجیح دیتے تھے۔

اس سے قبل شاعر اپنے ہی لہجے کے الفاظ کو استعمال کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ شاد نے پاک، ساہکندان، سیگ، رک، حتم، رملاز، توک، ھینڈ یگ، چلاگ، تان جیسے لہجوں کے الفاظ سے اپنی شاعری کو رنگ دیا۔ پہلے تو ان کی زبان بہت مشکل لگتی تھی اور لوگ ان کا مزاق اڑاتے تھے۔ انہوں نے آزادشاعری کو استعمال کر کے بلوچی ادب میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس دوران کچھ نئے تھیم اور ٹیکنیک بھی متعارف کروائے۔ ان کی نظموں جن میں  (چرواہا)، (ہیرا)، (دل اور رات کی سسکیاں)، (بیوہ)، (وقت ابدی ہے)، (سفید عورت) نے بلوچی شاعری کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

بیسویں صدی میں انسانیت کو  بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دو جنگ عظیم اور ان کے نتائج نے انہیں مایوسی اور بے یا رو مدد گاری کے دور میں دھکیل دیا۔ اس بڑے حادثے کی وجہ سے دنیا ادب کے ایک بڑے  حصے سے محروم ہو گئی۔ شاد کے کام پر بھی اس کا بہت اثر پڑا۔ انہوں نے انسان اور معاشرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور زندگی کی حماقت پر بہت غور و خوض کیا۔  ان کی نظم (مایوسی اور بے بسی) انسان کی زندگی کے بے معنی ہونے کے بارے میں ہیں۔

تاریخ میں شاعری کو ہمیشہ سیاسی اور سماجی مسائل کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ شاد نے بھی ایسا ہی کیا۔ البتہ جو چیز انہیں دوسرے شعرا سے ممتا ز کرتی ہے وہ ان کی واضح، استعاروں سے بھر پور اور تشبیہ کا بہترین استعمال ہے۔ انہیں شاعری کے فن کے بارے میں باقی تمام شعرا سے زیادہ فکر رہتی تھی۔ بلوچستان کی مزاحمتی تحریک کے بارے میں ان کی شاعری کو مزید اہمیت ملی۔ ان کی نظم (موت کی دہلیز پر) مزاحتمی تحریک سے متعلقہ ہونے کی وجہ سے ایک لاثانی شاعری قرار دی جاتی ہے۔

اس نظم کی کچھ  سطریں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

کیا آپ ہمارے سر کاٹ کر ہماری سوچ کو دبا سکتے ہو؟

کیا آپ پھولوں کو مسل کر ان کی خوشبو کو پھیلنے سے روک سکتے ہو؟

اگر تم مجھے مارنا چاہتے ہو تو پہلے میری روح کو مارو

اگر مجھے مٹانا چاہتے ہو تو پہلے میری  پیار کی خواہشات کو پھانسی دو

مجھے زہر پلا دو اور میری عقل کو غلام بنا لو۔

علم کو تیر مار کر ختم کر دو،

لیکن میری موت مجھے مٹا نہیں سکتی۔

میرا نام محبت ہے ،

میرے قدموں کے نشان ہمیشہ باقی رہیں گے

میرے خون نے ایک چنگاری چھوڑ دی ہے

یہ لیمپ ہمیشہ روشن رہے گا۔

میں مروں گا تو تم بھی مرو گے۔

میں اس لیے زندہ ہوں کہ تم زندہ ہو۔

شاد 13 فروری 1997 کو وفات پا گئے اور انہیں کوئٹہ میں دفن کیا گیا

انہوں نے اپنی شاعری میں لکھا:

بدبخت ہے وہ شخص جو میرے مرنے کے بعد

میری قبر پر آئے اور آنسو بھائے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *