امریکی معاشرے میں نسل پرستی کا طوفان

انجم نیازAnjum Niaz

اگرچہ امریکہ دنیا کو مہذب رویوں اور تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کرنے کا درس دینا چاہتا ہے، لیکن اس ضمن میں اس کا اپنا دامن بھی صاف نہیں ہے۔ ایک مرتبہ پھر امریکہ کو نسل پرستی کی آندھی نے ہلاکر رکھ دیا۔ عدالت کی طرف سے حالیہ دنوں آنے والے دو فیصلوں نے ایک سفید فام پولیس مین ، جس پر دو سیاہ فام باشندوں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا، کو بری کردیا۔ واقعے کے مطابق پولیس مین ڈیرن ولسن نے ایک غیر مسلح سیاہ فام لڑکے ، مائیکل براؤن، کو ہینڈز اپ کرنے کا کہا ۔ لڑکے نے یہ کہتے ہوئے ہاتھ اُوپر کردیے کہ وہ گولی نہ چلائے لیکن اُس نے فائرکردیا۔ آٹو میٹک ہتھیار نے لمحوں میں براؤن کے جسم میں چھے گولیاں اتار کر اُسے خون میں نہلا دیا۔ دوسرا کیس نیویارک سٹی کا تھا جہاں پولیس نے ایک شخص کو گلی میں کھلے سگریٹ فروخت کرتے پایا... جو کہ ایک جرم تھا۔ جب پولیس مین نے اُس شخص، ایرک گارنر کے گلے پر آرم لاک لگایا تو اُس نے متعددمرتبہ دہائی دی کہ اُس کا سانس رک رہا ہے، لیکن پولیس مین نے اُس کے گلے پر سے اپنی گرفت ڈھیلی نہ کی۔ یہ واقعہ گزشتہ اگست کے آخر میں پیش آیا تھا۔ اس ہفتے جیوری نے آرم لاک لگانے والے پولیس مین کو بھی بری کردیا ہے۔
اگلے ہفتے دوسرے ممالک کی طرح امریکہ میں انسانی حقوق کا دن منایا جائے گا۔ یواین جنرل اسمبلی نے اس کے لیے دس دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ دن ہمیں دس دسمبر 1950 کی یا ددلاتا ہے جب Universal Declaration of Human Rights کومنظور کیا گیا۔ اس کے مطابق تمام افراد اور اقوام مساوی حقوق رکھتی ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی ، چاہے اُس کا تعلق کسی خطے اور کسی قو م سے ہو، مساوی انسانی حقوق رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کا یہ اعلامیہ تمام عالمی براداری کو ایک صف میں کھڑا کردیتا ہے۔ اس کے مطابق تمام انسانوں کی اقدار اور روایات دوسروں کے لیے قابلِ احترام ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جب یہ دن قریب آتاجارہا ہے، امریکی نسل پرستی سے پھوٹنے والے ہنگاموں کی زد میں ہے۔ براؤن اور گارنر کی سفید فام پولیس افسران کے ہاتھوں ہلاکت نے سیاہ فام امریکیوں کے دیرینہ زخموں کو ہراکردیا ہے۔ نیویارک، واشنگٹن اور امریکہ کے دیگر اہم شہروں کی گلیوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ گارنرنے زمین پر گرنے سے پہلے جو آخری الفاظ ادا کیے تھے... میں سانس نہیں لے سکتا‘‘ احتجاجی مظاہرین کا مقبول نعرہ بن چکے ہیں۔ ہر طرف سے ایک ہی صدا آتی ہے...’’رک جاؤ، میں سانس نہیں لے سکتا‘‘۔ شاید موجودہ دور نعروں کی مقبولیت کا دور ہے۔ پاکستان میں بھی حکمران جماعت کے لیے ناپسندیدہ نعرے گونج رہے ہیں۔
واشنگٹن میں بات کرتے ہوئے صد ر اُباما نے کہاکہ نیویارک اور میسوری میں ہونے والے فیصلوں نے امریکی باشندوں اور افریقہ نژاد سیاہ فام امریکی باشندوں کے درمیان تصادم کی فضا قائم کرتے ہوئے ماضی میں جانبداری برتنے والے عدالتی فیصلوں کے زخم ہرے کردیے ہیں۔ اُنھوں نے کہا،’’اگر کسی شخص کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ نہیں کیا جائے گا تو مسائل پیداہوں گے۔ بطور صدر یہ میرا فرض ہے کہ ان مسائل کوحل کرنے میں اپنا کردار ادا کروں۔‘‘ امریکہ کا لبرل میڈیا ان احتجاجی واقعات کی رپورٹنگ کررہا ہے ، لیکن فاکس نیوز موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلتی پر تیل گرانے سے باز نہیں آرہا۔ یہ چینل صدر اوباما، اٹارنی جنرل اور ہر اُس شخص کونشانہ بنارہا ہے جو سیاہ فام امریکیوں کے حقوق اور انصاف کی بات کرتا ہے۔
میں گزشتہ پندرہ برس سے زیادہ تر وقت امریکہ میں گزار رہی ہوں۔ یہ کہنا کہ اس ملک میں نسل پرستی کے جراثیم مرچکے ہیں ، خود کو دھوکہ دینے اور زمین حقائق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس ملک میں سیاہ فام افراد کی ایک اپنی دنیا ہے اور سفید فام کی اپنی۔ اس دوران ایشیا اور ہسپانوی باشندے بھی اپنی جلد کے رنگ کے مطابق گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ میں نے ایسا بہت کم دیکھا ہے کہ مختلف رنگوں کی جلد رکھنے والے آپس میں سماجی طور پر گھل مل کر رہتے ہوں۔ سرکاری زندگی میں تمام رنگ یکساں ، لیکن دفتر کے اوقات کے بعد ان میں حائل تفاوت نمایاں ہونے لگتی ہے۔ دراصل امریکہ ایک بہت بڑے کنٹینر کی مانند ہے جس کا درجہ حرارت ایک حد سے نہیں بڑھنا چاہیے ورنہ رنگ و نسل کی ہم آہنگی دھواں بن کر اُڑنے لگتے ہے۔ اس کے بعد آتشیں مواد رگوں میں بجلیاں بھرنے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں مقیم سیاہ فام باشندے بہت مختلف افراد ہیں۔ امریکہ کے سفید فام باشندوں کے نزدیک ’’نیگروز‘‘ پر تشدد کرنا ایک مقبول کھیل ہوا کرتا تھا۔ یہ بھی دیکھا گیا تھا کہ کسی بھی سفید فام شخص کے مقابلے میں سیاہ فام کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کسی سفید فام شخص کے الزام لگانے پر سیاہ جلد والے کو درخت سے باندھ دیا جاتا ۔ اُسے کوئی نہیں کھولتا تھا یہاں تک وہ مرجاتا۔ سفید فام مہذب افراد اُس کی موت کا ’’مزہ ‘‘ لیتے تھے۔ اب ایک صدر کو منتخب کرلینے سے یہ ماضی ختم نہیں ہوگا۔
اب سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا سیاہ فام انسان نہیں ہیں؟ کہنے کی حد تک ہیں، لیکن سفید فام افراد کا عملی رویہ جواب نفی میں دیتا ہے۔ آج امریکہ انسانی حقوق کا چمپئن کہلاتا ہے لیکن اس کے معاشرے کے تاریک پہلو اس سے جواب مانگتے ہیں۔ اگر دیگر ممالک امریکی طاقت سے دبے رہتے ہیں تو کیا انسانی ضمیر بھی امریکہ سے ڈرتا ہے؟ایمنسٹی انٹر نیشنل کی جاری کردہ رپورٹس کو امریکی میڈیا میں جگہ نہیں دی جاتی۔ ہر رپورٹ میں یہ بات وضاحت سے کی گئی ہوتی ہے کہ امریکی پولیس مین جیل میں سیاہ فام افراد کو بہت بے رحمی سے زد کوب کرتے ہیں۔ اُنہیں گرم سلاخوں سے داغا جاتا ہے، الیکٹرک شاک لگائے جاتے ہیں اور ان کے جسم کو نازک حصوں پر ضربیں لگائی جاتی ہیں۔
اس پسِ منظر میں سیاہ فام افراد کا سرعام پولیس مین کے ہاتھوں قتل ہوجانے کو 1955 میں سفید فام افراد کاسیاہ فام باشندوں کے خلاف ووٹ دینے کے مترادف دیکھا جارہا ہے۔ ایک کالم نگارکے نزدیک پہلی مرتبہ میسوری، فرگوسن اور دیگر علاقوں میں ایسے واقعات دیکھنے میں آرہے ہیں جو مل کرایک طوفان کا روپ دھار سکتے ہیں۔ یہ تمام واقعات ایک ہی کہانی سناتے ہیں... سیاہ فام افراد کے استیصال کی داستان۔ یہ داستان ابھی اپنے انجام تک نہیں پہنچی ہے۔ کم و بیش پانچ دہائیاں پہلے چودہ سالہ لڑکی سیاہ فام لڑکی Emmett Till کو صرف اس لیے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا کہ اُس نے ایک سفید فام عورت کو دیکھ کر سیٹی بجائی تھی۔ امریکی معاشرے کا یہ پہلو ایشیائی باشندوں کی نگاہوں سے اوجھل رہ گیا تھا، لیکن یہ دو قتل اسے منظرِ عام پر لارہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *