مزارات۔۔ جنوبی ایشیا میں اسلام اور عیسائیت کی ترویج کا ذریعہ

ہارون خالدharoon khalid

ہر ماہ میں کم از کم ایک با ر لاہور سے براستہ موٹر وے اسلام آباد جاتا ہوں ۔ جہلم کے پاس پہنچ کر جہاں سالٹ رینج اور پوٹھوہار پلیچو ختم ہو کر پنجاب کے میدانی علاقے شروع ہوتے ہیں وہاں ایک چھوٹا سا مزار ایک پہاڑی پر کھڑا نظر آتا ہے۔ اس مزار پر جھنڈا لہرا رہا ہوتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اب بھی لوگ اس مزار کی زیارت کرنے آتے ہیں۔ پوٹھوہار پلیچو میں ایسے بہت سے مزارات ہیں جہاں اکثر زائرین آتے رہتے ہیں۔ سفر کی مشکلات انسان کی روحانی طریقہ کار کا حصہ ہیں۔ یہ رسم دوسری مذہبی عبادات کی طرح ہی ہے۔ یہاں سے شمال کی طرف ایک ایسا مزار ہے جسے تلا جوگیاں کہا جاتا ہے ۔

یہ پنجاب کے جوگیوں کا ایک مزار ہے جوتقسیم ہند کے وقت سے خالی پڑا ہے۔ وہاں پہنچنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔  لوگوں کو وہاں پہنچنے کے لیے پہاڑ پر بہت مشکل سے چڑھنا پڑتا ہے۔ زیادہ شمال کی طرف بڑھیں تو ہزارہ کےعلاقے میں ایک مسلم صوفی  ولی قندھاری کا مزا ہے جس نے گرو نانک سے مقابلہ کیا اور ہار گیا۔ گردوارہ پنجا صاحب اسی  پہاڑ کی دامن میں واقع ہے  جس کی چوٹی پر ولی قندھاری کا مزار ہے ۔ روزانہ اس پہاڑ پر بہت سے زائرین تشریف لاتے ہیں اور صوفی مزار پر پہنچنے کے لیے گھنٹوں سفر طے کرتے ہیں۔

 پمپ کے آنے سے قبل لو گ برتنوں میں پانی بھر کر وہاں لے جاتے اور اس چیز کو مذہبی فریضہ سمجھتے تھے۔ میرے ڈرائیور نے بتایا کہ اس مزار کا نام کھارا پیر ہے۔ میرا ڈرائیور اس مزار کے قریب ہی رہتا ہے۔ وہ اس مزار میں جانے میں تو مذہبی لحاظ سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا لیکم اسے صوفی مزاروں کے بارے میں  جاننے میں دلچسپی ہے ۔ میں یہ سن کر حیران نہیں ہوا۔ پوری پہاڑی سالٹ رینج دنیا کی سب سے بڑی چٹانوں والی رینج کہلاتی ہے۔ پنجاب میں کھارا نمکین کو کہتے ہیں۔

موراں والا  مزار

یہ صوفی مزاروں کی ایک خاص خوبی ہے۔ کلر کہار سے کچھ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑ پر ایک اور مزار ہے جسے موراں والی سرکار کے مزار  کا نام دیا جاتا ہے۔ سورج نکلتے وقت جب زائرین اس مزار کی طرف بڑھتے ہیں تو درجنوں مور اس مزار کے ارد گرد منڈلا رہے ہوتے ہیں ۔ کلر کہار کا پورا آبادی والا علاقہ اس مزار کےچاروں طرف  موجود ہے۔

بہت سے لوگ ان موروں کو کھانا دیتے ہیں اور مزار پر دعا مانگتے ہیں  اور دعا کرتے ہیں کہ یہ مور ہمیشہ وہاں موجود رہیں۔ کچھ سال قبل موٹر وے کی تعمیر سے قبل بہت سے زائرین اس مزار پر آنے لگے اس دوران بہت سے مور اس مزار کے ارد گرد پورا دن دیکھے جاتے تھے ۔زائرین کی کثرت اور ان کی موروں میں دلچسپی کی وجہ سے یہاں سے موروں کی تعداد کم  ہونا شروع ہو گئی۔  اس  مزار کے پاس موروں کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ رسم و رواج علاقائی تھے جنہیں مذہب کا حصہ بنا دیاگیا۔ اس سے مزاروں کا ارد گرد کے علاقوں پر انحصار بھی واضح ہوتا ہے۔

قریب ہی پہاڑی پر کیبل کے ساتھ جوڑا گیا اور ایک صوفی مزار ہے۔ یہ بہت سادہ ہے اور یہاں کم زائرین آتے ہیں۔ دیوار پر لگی تختی سے پتہ چلتا ہے کہ اسے روری پیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہاں روڑی یعنی چھوٹی چٹانوں کے سوال کوئی خاص چیز نہیں ہے۔ دریائے چناب کے کنارے واقع ایک گاوں کا نام تخت ہزارا ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پنجاب کے تاریخی کردار رانجھے کا گھر ہے۔ اس گاوں کے آس پاس کچھ گھروں کو اپل موری کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

یہ جگہ یہاں کے ایک بنیان نامی درخت کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے ۔ یہ جگہ ایک جنگل جیسی ہے ۔ اس درخت کی ٹہنیاں زمیں میں دھنس جاتی ہیں اور پھر نئے درخت کی صورت میں نکلتی ہیں، وہاں موجود درخت کا ایک تنا نہیں بلکہ کئی ہیں، درخت کے بیچ میں ایک صوفی کی قبر ہے جسے لوگ بہت مقدس مانتے ہیں۔یہ قبر صرف لوگوں کو درخت کی پوجا کرنے پر آمادہ کرتی ہے ۔ یہ درخت ساوتھ ایشیا کے تمام ممالک میں مقدس سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ اسلام میں بھی اسے مقدس مانا جاتا ہے۔ دوسرے مزاروں کی طرح یہ قبر بھی جیوگرافی کی پوجا کا ایک بہانہ ہے۔

 اہم علامات

ان سب کو اکٹھا کریں تو یہ ساری مذہبی رسومات اہم علامات کہلاتی ہیں۔ ہندو اسلام کے خلاف جو الزامات لگاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ رسومات اس سے قبل برصغیر میں موجود نہیں تھیں اور مسلمانوں کی وجہ سے وجود میں آئیں۔ 1300 سال بعد بھی ہندو کا یہ ماننا ہے کہ یہ مذہب یہاں مہمان ہے اور مقامی نہیں ہے۔ اس طرح کی تنقید کے اندر برصغیر میں مذہب کی کلچرل ڈویلپمنٹ کی سمجھ کا فقدان پایا جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ مذہب بھارت کے آس پاس کے گاوں میں پہنچا، لوگوں نے اسے قبول کرنا شروع کردیا۔ اس مذہب کے پھیلنے کے دوران اوپر دیے گئے مزارات بھی مذہبی لحاظ سے اہمیت اختیار کرتے گئے۔ ہر کسی مزار کو جغرافیائی لحاظ سے اہمیت ملتی تھی۔

نہ صرف اسلام بلکہ عیسائیت کا بھی یہی سلسلہ رہا ہے۔ لاہور سے 100 کلومیٹر دور ایک ٹاون کا نام مریم آباد ہے جو مریم  نامی عورت کی قبر کے ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ تقسیم ہند سے کچھ عرصہ قبل لوکل عیسائیوں نے کہا کہ انہوں نے یہاں مریم علیہا السلام کی روح کو ظاہر ہوتے دیکھا۔ یہاں ایک مزار بنا دیا گیا۔ 80 کی دہائی میں ایک بار پھر کچھ لڑکوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے یہاں مریم علیہا السلام کی روح کو دیکھا۔

 جیسے ہی ان مناظر کی داستان دوسرے علاقوں میں پھیلی، زائرین کی تعداد بڑھتی گئی۔ تب سے یہاں کئی بار مریم کی روح کی دیکھے جانے کا دعوی کیا جا چکا ہے۔ جس طرح اسلامی صوفیا کے مزاروں نے جغرافیہ سے مذہبی اہمیت اختیار کی اسی طرح عیسائیت میں بھی مزاروں کو جغرافیائی سے مذہبی روحانیت کی طرف لے جایا گیا۔ یہ عیسائی دربار اسلام کے مقابلے میں قائم کیے گئے۔ مریم آباد میں مریم کا ایک پتلا نصب کیا گیا  اور اس کے گرد ایک مزار تعمیر کر دیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *