زارا اور زویا کو کھلا خط

پرنیا اعوانpurniya awan

پاکستان میں ہر روز 80 فیصد سے زیادہ خواتین کو کسی نہ کسی طرح تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستانی معاشرے میں عورتوں کو تنگ کرنا ایک عام معمول بن چکا ہے۔ عام طور پر ظالم مرد عورتوں کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سزا سے بچ جاتے ہیں۔ چونکہ عورتوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر آواز نہ اٹھائیں اور خاموشی سے برداشت کریں اس لیے بد کراد لوگ جب اور جہاں چاہے عورتوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں آپ کے چھیڑ چھاڑ کرنے والے مرد کے خلاف ہمت  اور جذبے سے مقابلہ کرنے پر آپ کی معترف ہوں۔ آپ نے ایک ایسے شخص کی عقل ٹھکانے لگائی ہے جسے لگتا تھا کہ وہ جب چاہے آپ کو آپ کی مرضی کے بغیر چھو لے۔ یہ مظاہرہ ایک ایسی لڑکی کی طرف سے دیکھنے کو ملا ہے جس نے آج تک بہت سے مردوں کی گھناونی حرکتوں کو دل پر پتھر رکھ کر برداشت کیا ہے۔

عام طور پر لڑکیوں کو ان کے والدین یہی سکھاتے ہیں کہ  لڑکوں کی بری حرکتوں کو نظر انداز کریں اور اپنی آواز دبائے رکھیں۔ اگر کوئی لڑکا انہیں چھیڑے یا تنگ کرے تو اسے بھی ایک کمپلیمنٹ سمجھیں۔ اگر کوئی لڑکی رشتہ میں نہیں بندھی ہوئی تو شرابی اور منشیات کے عادی لوگ اسے ایک موقع سمجھتے ہیں۔ اگر لڑکی دوستانہ رویہ رکھے تو مرد سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں اس بری حرکت کی دعوت د ے رہی ہے۔ اگر لڑکی لڑکوں کی دوستی کی کوشش کو یکسر مسترد کرے تو اسے مغرور  سمجھا جاتا ہے۔ ایک لڑکی کا منگنی یا شادی شدہ نہ ہونا اس بات کا بلکل ثبوت نہیں قرار دیا جا سکتا کہ آپ جیسے چاہیں اسے چھونے کی کوشش کریں خاص طور پر اس کے ایسے اعضا کو چھوئیں جو اسے پسند نہیں ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ لڑکوں کی خوبصورتی اور حیا کا اس بات سے اندازہ لگانے کا کہ انہیں کتنے لڑکے چھیڑتے اور دوست بنانا چاہتے ہیں کے کلچر کو ختم کیا جائے۔ عورتوں کو مغرور اور متکبر ہونے کا الزام دینا ترک کیا جائے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مردوں کی بات کو ہمیشہ عورتوں کی بات پر ترجیح دی جاتی ہے وہاں آپ کو اس واقعہ پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہو گا  اور مختلف لوگوں نے آپ کو ہدایات دی ہوں گی کہ آپ کو ایسے کرنا چاہیے تھا، ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا وغیرہ وغیرہ۔ یہ لوگ ایسے بات کرتے ہیں جیسے انہیں روزانہ جسمانی اور روحانی تکالیف سے گزارا گیا ہو اور انہیں ایسی باتیں برداشت کرنے کا بھر پور تجربہ ہو۔

مجھے  یقین ہے کہ لوگوں نے آپ کو ان مسائل پر گفتگو کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی ہو گی تا کہ آپ کے کردار پر سوال نہ اٹھے چاہے اس میں آپ بے قصور ہی کیوں نہ ہوں۔ بہت سے لوگوں نے کہا ہو گا کہ آپ کو گھر سے باہر جانا ہی نہیں چاہیے کیونکہ اگر عورت گھر سے باہر نہ نکلے تو ایسے واقعات ہو ہی نہیں سکتے۔ اگر عورت باہر نکلے تو اسے اچھا لباس پہننا چاہیے  تا کہ ایسے واقعات دیکھنے کو ہی نہ ملیں۔ کیا یہ سب باتیں درست ہیں؟

نہیں ایسا بلکل نہیں ہے۔

برقعہ پہننے والی عورتوں کو بھی اتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جتنا ان عورتوں کو جو برقعہ نہیں پہنتیں۔ اللہ نہ کرے کہ برقعہ نہ پہننے والی عورتوں کو سڑکوں پر سبق سکھانے جیسے واقعات ہوں۔ یہ بات بھی نہیں کہ عورتوں پر اس لیے حملہ ہوتا ہے کہ وہ برقعہ نہیں پہن ہی ہوتیں اور برقعہ پہننے والی عورتوں کو پاکستان میں مکمل تحفظ حاصل ہے۔ یہ لاجک بلکل درست نہیں ہے کہ اگر آپ کوئی خاص لباس پہنیں تو ایسے نہیں ہو گا اور آپ کو مکمل تحفظ ہو گا۔ کیا مرد برقعہ والی عورتوں کا پیچھا یا ان کو تنگ نہیں کرتے؟ کرتے ہیں۔ کیا یہ سچ ہے کہ اگر بچے برقعہ پہننے لگیں تو وہ مردوں کی زیادتی سے بچ جائیں گے؟ مجھے نہیں لگتا۔

مجھے معلوم ہے کہ  جہاں آپ کو معاشرے سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہو گا وہاں آپ کو سپورٹ بھی ملی ہو گی۔ جس بہادری کا آپ دونوں بہنوں نے مظاہرہ کیا ہے اور ایک ایسے شخص کو سبق سکھایا ہے جو زیادہ تر بدکردار مردوں کی ترجمانی کر رہا تھا  اس سے بہت سے لوگوں کو صدمہ پہنچا ہو گا۔ آپ نے مردوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اس ملک میں بہادر خواتین کی کمی نہیں ہے  اور آپ نے اس حقیقت کو رنگ دینے کے لیے اپنی جبلت کے مطابق عمل کیا ہے۔ آپ نے یقینا ایک انقلاب کی بنیاد رکھی ہے۔ اگلی بار جب میں لبرٹی مارکیٹ کی طرف جا رہی ہوں گی اور کوئی لڑکا مجھے چھیڑنے کی ہمت کرے گا تو مجھے فورا آپ کا واقعہ یاد آئے گا اور میں اس بدمعاش کو سبق سکھانے کے لیے تیار ہوں گی۔ اللہ آپ دونوں کو مزید ہمت دے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *