پانی سروں سے اونچا نہ ہوجائے

Ata ullah wadood

لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد سے وطن عزیز دہشت گردوں کے نشانے پر ہے آئے روز نہ تھمنے والے دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے ، جس روز لاہور میں دھماکہ ہوا اسی روز کوئٹہ میں بھی دھماکہ کیا گیا اس کے بعد پشاور میں ججز کو نشانہ بنایا گیا پھر سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکہ کر کے دہشت گردوں نے بالوضاحت پورے پاکستان میں اپنی موجودگی سے آگاہ کر دیا ہے ، اس سے قبل بھی لا تعداد مرتبہ حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع یہ دعوی کر چکے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور ان کے قلع قمع تک چین سے نہیں بیٹھیں گے لیکن ان حالیہ دھماکوں سے کچھ اور ثابت ہو یا نہ ہو یہ بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ دہشت گرد انتہائی ڈھیٹ ہیں اور ٹوٹی ہوئی کمر کے باوجود وطن عزیز میں جہاں وہ چاہیں دھماکہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
سیہون شہر میں ہونے والا دھماکہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے جیسے سانحہ اے۔پی۔ایس کے بعد قوم وقتی طور پر متحد ہوئی تھی اور دہشت گردی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے دعوے کئے گئے تھے اسی طرح لعل شہباز قلندر کے مزار کے ساتھ ہونے والے دھماکے نے پوری قوم کو لرزا کر رکھ دیا ہے اور اس دھماکے کے باعث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قوم میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ، جو گڈ کالعدم اور بیڈ کالعدم کی گردان کر نے والے تھے وہ بھی اس دھماکے کے بعد خاموش ہیں اور کسی بھی قسم کی توجیح پیش کرنے سے قاصر ہیں بلکہ ان میں سے بعض تو اب ایسے ہیں جو بر ملا طور پر دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کو سپورٹ کر رہے ہیں ، سیہون دھماکے میں اسوقت تک شہید ہونے والوں کی تعداد 80ہے اور 347افراد زخمی ہیں پچھلے کچھ دنوں میں یہ دہشت گردوں کی آٹھویں کاروائی ہے اور ان دھماکوں کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کا ایک کلپ بھی بڑی تیزی سے وائرل ہو گیا ہے جس میں جماعت الاحرار نامی تنظیم نے آپریشن غازی کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کے علاوہ کئی حکومتی اداروں ،بعض سیاسی جماعتوں اور بعض مذہبی فرقوں کوٹارگٹ کرنے کا عندیہ دیا ہے اور سیہون میں ہونے والے دھماکے کے علاوہ تمام دیگر دھماکوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے ۔
حالیہ رونما ہونے والے واقعات ہماری لئے قدرت کے اشارے ہیں جن سے ہمیں بر وقت سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے اگر اب بھی ہم روایتی لیت و لعل سے کام لیتے رہے تو خاکم بدہن پانی ہمارے سروں سے اونچا نہ ہو جائے ، اگر ہم اپنے گھر میں سانپ پالیں گے اور توقع کریں گے کہ وہ صرف ہمارے دشمن کو ڈسیں تو سانپ سے ایسی توقع رکھنے والا ہی کم عقل کہلائے گا اگر بعض تنظیموں کے بغیر وطن عزیز کا دفاع ممکن نہیں ہے تو بہتر ہو گا کہ ان تنظیموں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا جائے تاکہ وہ کسی ضابطے اور قانون کے دائرہ اختیار میں آ جائیں ، افسوس کا مقام ہے کہ ملک کے وفاقی وزیر داخلہ کالعدم تنظیموں کے ساتھ نہ صرف رابطے میں ہوتے ہیں بلکہ انھیں اسلام آباد میں جلسے کی اجازت بھی با آسانی مل جاتی ہے اس کے بالکل بر عکس ایک سیاسی جماعت نے بھی جلسے کی اجازت مانگی تو موصوف نے سیاسی جماعت کو اجازت دینے کی بجائے دفعہ 144نافذ کر دی اور خود ہی کالعدم تنظیم کو جلسے کی اجازت دے کر اس دفعہ کی دھجیاں اڑا دیں ۔
اگر ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر عملدرآمد کرنا ہو گا اور ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کو اہمیت دینی ہو گی ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور دونوں اپنی ذمہ داریاں احسن طور پر سر انجام دینے سے قاصر رہیں ان کمیوں اور کوتاہیوں پر جن کی نشاندہی اس رپورٹ میں کی گئی دور کئے بغیر دہشت گردی سے جنگ جیتنا ناممکن ہے ۔
ہمارا پڑوسی ملک سری لنکا آج سے دس سال قبل دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف عمل تھا اور بالآخر سری لنکا نے دہشت گردی پر قابو پالیا اور آج تیزی سے ترقی کر رہا ہے ہمیں سری لنکا کے ماڈل کو اپنانا ہوگا کہ کیسے وہاں پر حکومت نے عوام کے دلوں میں دہشت گردوں کے خلاف نفرت پیدا کی اور کوئی ایک بھی تامل دہشت گردوں کا سہولت کار عام عوام میں سے موجود نہیں رہا ، دہشت گرد اس وقت تک کھل کھیل کر اپنی سرگرمیاں سر انجام نہیں دے سکتے جب تک کہ انھیں مقامی سہولت کاروں کی مدد اور حمایت حاصل نہ ہو اور اسوقت تک وہ دلیری سے شہری علاقوں میں اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کر سکتے گنجان آباد شہری علاقوں میں کاروائی کے لئے دہشت گردوں کو مقامی سہولت کاروں کی ازحد ضرورت ہوتی ہے جو انھیں علاقے کے تعارف سے لے کر مطلوبہ ٹارگٹ کی ریکی تک ہر ممکنہ مدد فراہم کرتے ہیں ، بعض دوست ہر سانحے کے بعد واویلا کر نا شروع کر دیتے ہیں کہ اس میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ اور امریکی خفیہ ادارے سی ۔آئی ۔اے ملوث ہے اور بعض دوست دور کی کوڑی لاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہود و ہنود کی سازش ہے ۔ حضور یہ عاجز آپ کی رائے سے اختلاف کی ذرا بھی جسارت نہیں کرتا یقیناًاس واقعہ میں را اور سی آئی اے ہی ملوث ہوں گے لیکن ان کے مدد گار تو مقامی سہولت کار ہی ہیں جو کہ پاکستانی شہری ہیں ، جب تک دہشت گردوں کے لئے مقامی ہمدردی کے جذبات ختم نہیں کئے جائیں گے اسوقت تک دہشت گردی کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، آمر ضیاء الحق نے جس اسلحہ اور دہشت گردی کے کلچر کو پاکستان میں پروان چڑھایا اور ڈالرز کے عوض پوری قوم کو یرغمال بنوایا اس کا خمیازہ بھگتنا ہو گا اور اسوقت تک بھگتنا ہو گا جب تک من حیث القوم متحد اور متفق نہیں ہوں گے۔ قانون کو کسی بھی نام پر ہاتھ میں لینے والے مجرم ہیں اور یہ مجرم اپنے مذموم مقاصد پورے کر نے کے لئے اپنے ایجنڈے کو مذہبی بنا کر پیش کرتے ہیں جس سے سادہ لوح عوام گمراہ ہو جاتی ہے دہشت گردوں کے اس پراپگینڈے کا جواب صرف متحد ہو کر ہی دیا جاسکتا ہے ، مقتدر حلقوں سے انتہائی عاجزانہ سوال ہے کہ سوشل ایکٹوسٹ تو اپنے سوشل میڈیا پیجز کی وجہ سے غائب ہو جاتے ہیں کیا آپ دہشت گردوں کے سوشل میڈیا پیجز اور اکاؤنٹس کے ذریعے سے ان کا سراغ نہیں لگا سکتے ؟خبر ہے کہ سیہون سانحے کے بعد سے اب تک کومبنگ آپریشن میں 100سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دئیے گئے ہیں آخر کیوں ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے لئے ہمیں 8دھماکوں کا انتظار کرنا پڑا ؟؟ لاہور سے خبر ہے کہ مال روڈ دھماکے کا سہولت کار گرفتار کر لیا گیا ہے صرف نمائشی گرفتاریوں سے کام نہیں چلے گا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اور جامع لائح عمل اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *