ایک زوال پذیر نظام

رسول بخش رئیسrasool

فیصل آباد میں پیش آنے والے واقعات اور جنم لینے والی سیاسی محاذآرائی ہمارے ملک میں تیزی سے ختم ہوتے ہوئے سیاسی استحکام، ڈگمگاتے ہوئے سماجی نظم اور دم توڑتے ہوئے امنِ عامہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ یہ دلیل پیش کریں یہ چیزیں ہمارے ہاں تو موجود ہی نہ تھیں اور اگر تھیں تو بھی ہم بہت دیر پہلے ان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ بظاہر دکھائی دینے والا سکوت درونِ خانہ کھولنے والے جذبات کو چھپائے رکھتا ہے۔ ہمارا ملک کہنے کو ایک سیاسی اور سماجی نظام رکھتا ہے لیکن اس کے اندر تعصبات اور مخاصمت کا الاوہ کھول رہا ہے۔ جب آپ شہری علاقوں سے دور دیہاتی علاقوں میں وقت گزاریں تو آپ کو احساس ہوگا کہ پاکستانی ریاست کے ادارے کس طرح زوال پذیر ہیں اور ان کا اثر کس حدتک تحلیل ہوچکا ہے۔ انصاف، قانون کی حکمرانی، منصفانہ گورننس اور امن وامان ماضی کی باتیں لگتی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک حکومت کے محکمے کام کررہے ہیں، افسران اپنی شان و شوکت کے ساتھ اپنی اپنی سیٹ پر موجود ہیں جبکہ لوگ بھی جیسے تیسے عرصۂ زیست گزار رہے ہیں ۔ نچلے طبقے کے لوگ بدترین مسائل کا شکار ہیں۔ جیسے جیسے آپ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سے دور ہوتے جائیں، حالات کی سنگینی بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام کا حکومت اور اپنے سیاسی نمائندوں سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ اُنہیں ووٹ ڈالنا ایک خانہ پری دکھائی دیتی ہے، تبدیلی نہیں ۔ وہ کسی سیاسی اور جمہوری نظام کو ان کے مسائل کا ادراک کرتے اور ان کے حل کی سنجیدہ کوششیں کرتے نہیں دیکھتے۔
سرکاری افسران اور صوبائی اور مرکزی حکومت کے درمیان وسیع خلیج حائل رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے کوئی نظام نہیں بن پاتا، بس وقتی اور ہنگامی اقدامات ہی اٹھائے جاتے ہیں۔ مقامی اور ضلعی سطح پر نظام بھی قانون کے مطابق کام نہیں کرتا۔ آپ نچلی سطح پر بھی کسی سرکاری محکمے سے اپنا کام نہیں کراسکتے ہیں تاوقتیکہ آپ کا تعلق طاقت کے مراکز سے نہ ہو۔ یہ طاقت کے مراکزسیاست، بیوروکریسی اور دفاعی ادارے ہیں۔ ان کے بغیر آپ اپنا حق نہیں لے سکتے ہیں۔
اگر کوئی شہری اپنی انفرادی حیثیت میں کوئی کام کرانا چاہتا ہے تو پھر اُسے معقول رشوت کا اہتمام کرنا پڑے گا۔ مختصر یہ کہ سیاسی اختیار اور رشوت نے اُس نظام کی جگہ لے لے ہے جو ایک جمہوری عمل کے ذریعے طے پانا تھا۔ جب لوگ اس حقیقت کو جان چکے ہیں تو پھر وہ جمہوریت اور سیاسی عمل پر یقین کیوں کریں؟آپ کہیں بھی لوگوں سے بات کریں اور پوچھیں کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں یا کرنے پر مجبور ہیں تو اُن کا جواب ہوگا...’’یہ پاکستان ہے، یہاں سب چلتا ہے۔‘‘ ذرا تصور کریں کہ ریاستی قوانین کا ہم نے کیا حشر کردیا ہے کہ ہم یقین نہیں کرسکتے کہ یہاں قواعد کے مطابق بھی زندگی کے امور طے پاسکتے ہیں۔ افسوس، یہاں قواعد و ضوابط پر مبنی نظام موجود نہیں، اس لیے آپ عام آدمی کو موردِ الزام نہیں ٹھہراسکتے۔
میرے نزدیک سیاسی قوت سے سماج کی علیحدگی کی وجہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ زمینی حقائق سے دور رہ کر زندگی بسر کرتا ہے۔ ان کے منصوبے، افعال اور تصورات خطے کے افراد کے لیے نہیں بلکہ اپنی من پسندزندگی کے مطابق ہوتے ہیں۔ حکمران طبقے کا زمینی حقائق سے رابطہ ٹوٹنے کا سبب وہ خوشامدی ہوتے ہیں جو ہر وقت اُنہیں گھیرے رہتے ہیں۔ ان کی خوشاپسند طبیعت پررعونت اور کج فہم ہوجاتی ہے۔ اُنہیں یقین ہوجاتا ہے کہ ان کی ہر منشا پوری ہوسکتی ہے ، وہ جوچاہے کرسکتے ہیں، قانون اُن کا کچھ نہیں بگاڑسکتا ہے ،چنانچہ وہ نظام کی اصلاح کرنے اور اس میں موجود خامیاں دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ درحقیقت ناکام نظام ان کے لیے سازگار ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی احتساب کے بغیر کچھ کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔ اس دوران عوام کی مایوسی گہری ہوتی جاتی ہے، جبکہ خوشامدی زبان حکمرانوں کے کانوں میں رس گھولتی رہتی ہے ، یہاں تک کہ ان کے پاؤں تلے ریت سرکنے لگتی ہے لیکن وہ خود کو سمندر کا ملک سمجھتے رہتے ہیں۔
یہ صورتِ حال کسی بھی معاشرے کے لیے انتہائی غیر فطری ہے ، لیکن پاکستان جیسے ملک، جس میں نوجوان آبادی کی اکثریت ہے، یہ صورتِ حال خطرناک ہے کیونکہ نوجوان فطری طور پر جذباتی اور گرم مزاج ہوتے ہیں۔ اگر مایوسی کے ساتھ اشتعال کی آمیزش ہوجائے تو خون آلود داستانیں رقم ہوتی ہیں۔ پاکستان میں توقعات اور خواہشات کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے۔ عوام کو اس ناقص نظام سے کوئی توقع نہیں ہے ، لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی کچھ نہ کچھ توقعات توضرورہیں۔ اگر وہ دنیا میں کہیں بھی ہوتے اور اُن کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا تو ان کی حالت اس سے مختلف نہ ہوتی ۔
میرے خیال میں اس مایوسی کی وجہ سے عوام کی نچلی سطحوں پر ایک انقلاب جنم لے رہا ہے۔ یہ صرف پنجاب میں ہی نہیں ، بلکہ کراچی کے ساحلوں سے لے کر گلگت بلتستان کی وادیوں تک اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اب پہلے سے زیادہ اپنی شناخت کے بارے میں حساس ہوتے جارہے ہیں۔ آپ کو قبیلے، زبان، لباس اور خاندانوں کی اجاگر ہوتی ہوئی شناخت دکھائی دے گی۔ یہ انقلاب کے بیج ہیں جو بوئے جاچکے ۔ اس انقلاب کو اپنے اندر ضم کرکے قومی پیرائے میں ڈھالنے کے لیے ایک نظام چاہیے ، لیکن اس وقت کوئی نظام پنپتا دکھائی نہیں دیتا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ مایوسی سے جرائم اور انتہا پسندی پھیلتی ہے ۔ اس کے دامن تشدد اور خونریزی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *