آفریدی سے نفرت ہو یا محبت ، اب ان کو خدا حافظ کہنا ہوگا

منیب فرخ
muneeb farukh

بیس سال تک شاہد آفریدی کا نام پاکستان کرکٹ کا اہم حصہ رہا  اور ایسا لگتا ہے جیسے  شاہد آفریدی کے کردار کے بغیر پاکستان کرکٹ کی تاریخ نا مکمل رہے گی۔ دنیا کے بہترین کرکٹرز کو بھی پوزیشن پر قبضہ جمائے رکھنا اتنا آسان معلوم نہیں ہوا لیکن آفریدی کے لیے یہ عام سی بات رہی۔ جس طرح سے انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنے آپ کو منوایا وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے ایک ون ڈے میچ میں سری لنکن بولرز کی درگت بناتے ہوئے صرف 37 بالز پر سینچری بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ ریکارڈ 20 سال تک قائم رہا۔ اپنی جوانی اور فارم کے دنوں میں شاہد آفریدی ایک کامیاب آل راونڈر بنے رہے۔

وہ ایک اچھے بیٹسمین اور لیگ سپنر تھے اور فیلڈنگ میں بھی مثالی کارکردگی دکھا رہے تھے۔ کبھی کبھار وہ غلط شاٹ کھیل کر شائقین کو مایوس بھی کر دیتے ہیں ان کی ناقابل فراموش کارکردگی کی وجہ سے ایسے واقعات بہت جلد بھول جاتے تھے۔ پاکستان کی کئی فتوحات میں بوم بوم آفریدی نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ہم 2009کے ورلڈ ٹی 20 کے ناک آوٹ مراحل میں ان کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ 2014 کے ایشیا کپ کے میچ میں روی چندرن ایشون کو انہوں نے جو چھکے لگائے وہ کوئی بھی پاکستانی بھول نہیں پائے گا۔

آفریدی جانتے تھے کہ ون ڈے کرکٹ میں دنیا بھر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے۔ 2013 میں انہوں نے یہی مقصد حاصل کرتے ہوئے 12 رنز دے کر ویسٹ انڈیز کے 7 بیٹسمینوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ابھی ان کے کیریر کے خاتمہ کا وقت بہت دور ہے۔ انہوں نے اپنے لیے بہت بڑے عزائم بنا رکھے تھے ۔

 انہیں کبھی بھی ایک اچھا اور مستحکم بیٹسمین نہیں تسلیم کیا گیا ۔ انہوں نے 400 ون ڈے میچز میں صرف 23 کی اوسط سے سکور بنا رکھے ہیں۔ اپنے کیریر کے دوسرے حصے میں آفریدی کو ایک بولر مانا جانے لگا ۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک لیگ سپنر ثابت کیا اور اس مقصد کے لیے بہت محنت کی۔، وہ اپنی ٹیم کو اہم مواقع پر وکٹ دلوا کر دوسری ٹیم کے سکورنگ کے سلسلہ کو روکنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنا آخری ٹی ٹوینٹی میچ 2016 کے ولڈکپ میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا۔ 

حیرت کی بات ہے کہ آفریدی نے اپنے آخری ٹیسٹ اور ون ڈے میچ بھی آسٹریلیا کے خلاف ہی کھیلے ہیں۔ وہ اس وقت ٹیم کے کپتان تھے اور پاکستان کو 4 میں سے تین میچوں میں شکست ہو گئی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ولڈ ٹی ٹوینٹی کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے لیکن بعد میں انہوں نے کرکٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں بین الاقوامی میچز کے لیے پاکستان کی ٹیم میں منتخب نہیں کیا گیا۔ کراچی کنگز کے خلاف پاکستان سپر لیگ میں انہوں نے جو جارحانہ اننگز کھیلی اس کے بعد انہوں نے کرکٹ سے دور رہنے کافیصلہ سنا دیا اور کہا کہ ایک دو سال تک اب وہ صرف پی ایس ایل میں کھیلا کریں گے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا: 

میں اپنے مداحوں کے لیے کھیل رہا ہوں اور ایک دو سال مزید کھیلنا چاہوں گا لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اب میرے لیے میری فائونڈیشن بہت اہم ہے۔ میں نے اپنے ملک کے لیے سنجیدگی  سے ایک پروفیشنل طریقے سے کرکٹ کھیلی ہے۔ جس طریقے سے آفریدی نے اپنی ریٹائرمنٹ کے مسئلے کو ہینڈل کیا وہ میری رائے میں بہت مایوس کن تھاانہیں اس سے بہتر اور معزز طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا اور صحیح موقع پر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ اس طرح انہیں فئیر ویل میچ کی اپیل کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ 

وہ بہت سے کرکٹرز کے لیے رول ماڈل ہیں اور ایسا رویہ ایک رول ماڈل کو ذیب نہیں دیتا۔ ہر چیز کو ایک طرف رکھ کر ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی کہ بوم بوم کے بہت زیادہ مداح اور فالوورز رہے ہیں اور اس کا ایک ثبوت گراونڈ میں ان کی آمد پر شور سن کر ہی مل جا تا ہے ۔اگرچہ بہت سے لوگ ان کے ناقد بھی تھے لیکن وہ بھی میچ کے دوران شاہد آفریدی سے بہت امید رکھتے تھے ۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جتنی تعریف آفریدی کو پاکستان سے ملی اتنی کسی اور کھلاڑی کو نہیں ملی۔ ہماری  پاکستانی ٹیم میں اب شاید ہی کوئی ایسا کھلاڑی آئے جو شاہد آفریدی کا متبادل ثابت ہو سکے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *