ایک اور کنفیوژن

serl almedaسرل المیڈا

ایک نیا مبہم آپریشن، ایک غیر واضح عدالتی فیصلہ، اس ہفتے جو چیز واضح تھی وہ صرف خوف تھا۔ نقلی بم یا اصلی بم، لاہور کے واقعہ نے ثابت کر دیا کہ ملک ایک بار پھر بے چینی میں ہے۔ ریاست کے اندر ملک کی حفاظت کی قابلیت کا بھروسہ ایک بار پھر دم توڑ چکا ہے۔ اب ہم ان چیزوں کے بارے میں گفتگو کریں گے جو ہمیں معلوم ہے اور پھر کچھ معاملات کے بارے میں اپنا اندازہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ملٹری آپریشن فائدہ مند ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ریاست کی رٹ بحال کرنے میں تو وہ لازمی کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔ سوات اب محفوظ شہر بن چکا ہے اور شمالی وزیرستان بھی دہشت گردی کا مرکز نہیں رہا۔

جب آپریشن دہشت گردوں کو کھلے عام گھومنے سے روکنے کے لیے کیا جائے تو بھی یہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ باجوڑ ، مہمند ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں سے کوئی علاقہ بھی نارمل نہیں ہے  لیکن ایک دہائی قبل جو اس کے حالات تھے وہ بدل چکے ہیں۔ کئی مواقع پر ملٹری آپریشن فائدہ مند نہیں ہوتا۔ کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں آرمی نے آپریشن کیا ہو اور وہاں سے محفوظ طریقے سے نکل آئی ہو۔ وہاں موجود فوجیوں کی تعداد کم کی جاتی ہے، ایڈجسٹمنٹ کی جاتی ہے، مشن میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں لیکن نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ یہ بات سچ ہے۔ یہ ایک لمبی جنگ ہے۔

ہم یہ جنگ لڑنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ ضرب عضب آپریشن کاونٹر انسرجینسی  سے ہٹ کر کاونٹر ٹیررازم بن گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شمالی وزیرستان ایک مختلف جگہ ہے  یہ دہشت گردی کا مرکز بھی ہے  جہاں سے پاکستان بھر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے نقشے کو دیکھیں۔ این ڈبلیو اے سے لکی اور پھر   ٹانک سے ہوتے ہوئے  ڈی آئی خان  پہنچیں تو پورا پاکستان سامنے پڑا نظر آتا ہے۔ وہاں سے مرکزی اور جنوبی پنجاب اور پھر سندھ، بلوچستان اور پنجاب تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ دہشت گردوں کی خواہش تھی۔ این ڈبلیو اے سے نکلنے میں دو سال لگ گئے۔

وہاں جیٹ طیاروں کے ذریعے آپریشن کیا گیا اور دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ضرب عضب اس پلان کا اختتام تھا۔ کیانی، سوات اور جنوبی وزیرستان، یہی اس آپریشن کی آوٹ لائن تھی۔ ہچکچاتے ہوئے اس پلان کو انجام تک پہنچایا گیا۔ پھر وہاں سے ملی ٹینٹس کا رخ شمالی وزیرستان کی طرف مڑ گیا ۔ وہاں سے دہشت گردوں کو نکال باہر کرنے کے بعد وہ علاقے آ گئے جہاں سے وہ شہروں اور صوبوں میں داخل ہو سکتے تھے۔

یہ دس سال کا پلان تھا جس میں کیانی اور راحیل شریف کے دور کا اختتام ہو گیا۔ رد الفساد آپریشن ناکامی کا اعلان ہے۔ سوات سے لیکر نارتھ وزیرستان سے ہی آپ اس پلان کا آوٹ لائن دیکھ سکتے ہیں۔ اب ہم ایک بڑی اور زیادہ خطرناک  گلی میں پھنس چکے ہیں۔ نارتھ وزیرستان میں داخل ہونا ہے ایک مسئلہ تھا۔ کیونکہ یہ ایک متعلقہ  مسئلہ تھا  اس لیے اس کو زیادہ ڈسکس نہیں کیا گیا۔ یہ نہ دیکھا جا سکا کہ اگر شمالی وزیرستان سے نکل کر دہشت گرد افغانستان میں روپوش ہو گئے تو کیا ہو گا۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس بارے میں کیوں نہ سوچا جا سکا۔ ایسا کرنے سے ایک ہائیر لیول کی سٹریٹجک شفٹ کی ضرورت پڑ جاتی  اور ملٹری آپریشن کے لیے آئیڈیل حالات کا انتظار نہیں کیا جاتا۔ اب مسئلہ حقیقت میں بدل گیا ہے۔ فوجی قیادت کا کام تھا کہ ضرب عضب کو دوبارہ سے منظم کیا جاتا لیکن یہ مناسب نہیں معلوم ہو رہا تھا۔ نارتھ وزیرستان کے بعد اب معاملہ مشرقی افغانستان تک پہنچ گیا  جو اب پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے۔

لیکن ہم نارتھ وزیرستان کی طرح افغانی اڈوں کو اتنی آسانی سے نشانہ نہیں بنا سکتے۔ اس لیے فوجی قیادت نےد وسری بہترین چیز کا انتخاب کیا ہے۔ اس لیے ملک کے اندر نیا آپریشن شروع کیا گیا ہے ۔ اب ہم اس طرح سوچتے ہیں کہ ایک دہائی تک ہم قریب آ رہے تھے اب دور جا رہے ہیں اور اپنی انگلیاں پھیلا رہے ہیں۔ کیا اس میں کامیابی کی امید رکھی جاسکتی ہے؟ پلان کے حساب سے تو ایسا نہیں لگتا؟

رد الفساد کا مطلب ہے کہ ہم ایک بار پھر کنفیوژن کا شکار ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی میں آنے والی شدت بہت جلد کم ہو جائے گی۔ ایک پر عزم ملٹری اور ایک ایسا ملک جو دوسری طرف نظر رکھنے کا عادی ہو وہ نتائج آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ پہلے بھی  ہم نتائج برآمد کرتے رہے ہیں اور اب بھی کریں گے  لیکن اس بار گڑ بڑ بہت زیادہ ہے۔

ضرب عضب کے خاتمے پر یہ خیال نہیں رکھا گیا کہ اگر دہشت گرد افغانستان چلے گئے تو کیا ہو گا۔ اگر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں تین طرح کے دہشت گرد ہیں، انڈین دہشت گرد ، افغانی دہشت گرد اور پاکستان کے مخالفین۔ ہر گروپ کے بارے میں سویلینز اور فوج کے بیچ اختلافات ہیں۔ فوج چاہتی ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کا خاتمہ کیا جائے لیکن  سویلین حکومت ایسا کرنے سے ڈرتی ہے کہ اس سے فرقہ واریت پروان چڑھے گی۔

ن لیگ چاہتی ہے کہ انڈیا کی مخالفت کرنے والوں کو کنٹرول میں کیا جائے لیکن فوج ایسا نہیں چاہتی۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے گروپ کے بارے میں حکومت کا خیال ہے کہ شدت پسندی کا خاتمہ کیا جائے لیکن اس معاملے میں حکومت کے پاس کوئی واضح پلان نہیں ہے۔ لیکن اب ایک نیا آپریشن شروع ہو چکا ہے اور اس کے دوران مذاکرات کے راستے بلکل بند رہیں گے۔ کم از کم یہ سال تو ایسے ہی گزر جائے گا۔ اگلا سال الیکشن کا سال ہو گا اور اس وقت سویلین یا ملٹری کی سکیورٹی کے علاوہ دوسرے مسائل پر توجہ ہو گی۔ رد الفساد ایسا آپریشن ہے جو کسی واضح پلان کے ساتھ شروع نہیں کیا گیا ہے۔

خوف کی یادداشت تیز ہوتی ہے۔ دہشت گردی نے ہمیں تبدیل کر دیا ہے  اور پاکستان کو اس بات کا احساس ہونے لگا ہے۔ 2011-12 کے دہشت گردی کے واقعات کودیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ملک بہت بری حالت میں تھا۔ لیکن اس وقت ہم نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی تھی اس لیے اس ملک کی دہشت اور خوف میں ڈالنے کے لیے دہشت گردوں کو بہت زیادہ کاروائیاں کرنی پڑیں۔ اس بار صرف چند دھماکوں سے ہی پورا ملک لرز اٹھا ہے اور ملک میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ شاید دشمن کو اس چیز کا اندازہ ہو گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *