ڈاکٹر احسن کے کوہ نورد اور فیصل آباد لٹریری فیسٹیول کا افتتاح

مستنصر حسین تارڑMHT

فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کی محبتوں نے مجھے تھکا دیا تھا۔ یہ تھکن عمر کی تھی جس میں سکت کم ہوتی جاتی ہے۔ میں سرینا ہوٹل پہنچ کر لٹریری فیسٹیول کی متحرک اور مہربان روح سارہ حیات کو یقین دلانا چاہتا تھا کہ میں واقعی فیصل آباد پہنچ گیا ہوں کہ اُن کے فون پہ فون چلے آ رہے تھے۔ اب وہاں پہنچے ہیں تو ہوٹل کا پورا عملہ جن میں کچھ شکل ’’عملیاں‘‘ بھی تھیں پھولوں کے گلدستے ہاتھوں میں لیے استقبال کے لیے باہرکھڑا تھا۔۔۔ پہلے تو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ وہ کونسا وی آئی پی ہے جس کے لیے اتنا تردد کیا جا رہا ہے اور پھر جب وہ سب میرا نام پکارتے خوش آمدید کہنے لگے تو ہم تو خوش ہو گئے۔ اس سے قطع نظر کہ فیسٹیول میں شمولیت کے لیے آنے والے تمام مہمانوں کا اسی طور استقبال کیا گیا یہاں تک کہ عطاء الحق قاسمی کا بھی لیکن اس کے باوجود ہم تو خوش ہو گئے۔ ازاں بعد یہ تمام خواتین اور حضرات مجھے اپنے کمرے تک لے گئے اور ایک ایک سہولت کے بارے میں آگاہ کیا کہ سر۔۔۔ یہ ٹیلی ویژن ہے۔۔۔ ادھر سے بٹن دبائیں تو تمام روشنیاں گل ہو جاتی ہیں، اور یہ واش روم ہے اور یہ۔۔۔ کموڈ ہے۔۔۔ بڑی مشکل سے وہ سب پیارے لوگ رخصت ہوئے۔ وہ رخصت ہوئے تو میں کمر سیدھی کرنے کی خاطر بستر پر دراز ہوا تو ڈاکٹر احسن نازل ہو گئے۔ اکیلے نہیں دور دراز کے شہروں سے آنے والے کم از کم پچاس ساٹھ کوہ نوردوں کے ساتھ نازل ہو گئے جو اُن کے بقول پاکستانی شمال کے میرے درجن بھر سفرنامے پڑھ کر آوارہ ہو گئے تھے۔ شمال کی کوہ نوردیوں کے جنون میں مبتلا ہو گئے تھے۔ سرینا کے ایک ہال میں اُن سب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ دراصل میرے سفرنامے محض بہانہ تھے۔ یہ ڈاکٹر احسن کی کرشمہ ساز شخصیت تھی جس نے اُنہیں آداب کوہ پیمائی سکھائے۔۔۔ اور وہاں کیسے کیسے لوگ تھے۔۔۔ آوارہ گرد، بلند پہاڑوں کے عشق میں مبتلا۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے جمال کی قربت میں جانے والے۔ ڈاکٹر چاولہ کے نوجوان بیٹے سے لے کر ستر برس کے بزرگ حضرات تک۔۔۔ وہ مجھے اپنی کوہ نوردیوں کی داستانیں سناتے رہے اور میں حیرت سے سنتا رہا۔ ان میں نہایت باریش لوگ بھی تھے اور قدرے نٹ کھٹ حضرات بھی۔۔۔ اور کم از کم ایک صاحب ہری پگڑی باندھے ہمیں پہاڑوں کے قصے سناتے تھے۔ وہ سب بہادر اور بڑے دل والے لوگ تھے اور اُن میں ایک نوجوان اظہر علی نام کا ایسا تھا جو ایک ٹانگ سے معذور بیساکھیوں کے سہارے مجھے ملنے چلا آیا تھا۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ یہ نوجوان اظہر علی ایک ستر سی سی کے موٹر سائیکل پر سوار جڑانوالہ سے تن تنہا نہ صرف گلگت اور سکردو تک گیا بلکہ درہ خنجراب تک جا پہنچا۔۔۔ اپنی بیساکھیاں موٹر سائیکل کے ساتھ باندھے اُس نے ایسے پر صعوبت پہاڑی سفر کیے۔ میں اُس کی عظمت کو سلام کرتا ہوں کہ وہ نہ نواز شریف، نہ زرداری اور نہ ہی فضل الرحمن، یہ وہ ہے جو پاکستان کی ناقابل شکست روح اور نظریے کی ترجمانی کرتا ہے، اور یہ روح ڈاکٹر احسن نے پھونکی تھی جنہوں نے شاید پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کوہ نوردی کی ہے، اس کے باوجود کہ پولیو کی بیماری کی وجہ سے اُن کی ایک ٹانگ میں خم آ گیا ہے اور اُن سے پیار کرنے والے اُنہیں لارڈ بائرن کے نام سے پکارتے ہیں۔
ہم جب فیصل آباد میں داخل ہوئے تھے تو ادیب حضرات ہر کھمبے پر ٹنگے تھے، یعنی ہماری تصویروں کے پوسٹر اُن پر آویزاں تھے۔۔۔یہاں تک کہ
میں نے جانے کہاں کہاں کے لٹریری فیسٹیول دیکھ رکھے ہیں، دلّی، برلن، کراچی، اسلام آباد وغیرہ کے لیکن۔۔۔ فیصل آباد کا یہ ایک روزہ فیسٹیول ذوق جمال اور آرائش کے حوالے سے اُن پر حاوی ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ جتنی بھی انتظام کرنے والیاں تھیں وہ سب کی سب خوش لباس، خوش گفتار اور خوش شکل تھیں۔
نصرت فتح علی خان آڈیٹوریم میں اس فیسٹیول کا افتتاحی اجلاس پر ہجوم ہوا۔۔۔ اور وہ سٹیج بھی ایک خوابناک انداز میں سجی ہوئی تھی، ہر سو چراغ جلتے تھے۔ سلیمہ ہاشمی نے اپنے ابا جی کو یاد کیا جنہیں ملنے کے لیے وہ اپنی امی کے ہمراہ فیصل آباد جیل آئی تھیں۔ کشور ناہید، وہ ڈھلتی عمر کی میری دوست عورت مائیک پر آئی تو اُس نے اپنی تقریر سے اہل فیصل آباد کو مسخر کر لیا۔ اُس کے انقلابی جذبے ابھی تک جوان تھے۔ عبداللہ حسین نے اٹکتے ہوئے فیصل آباد میں اپنے قیام کے شب و روز کو یاد کیا اور احتجاج کیا کہ آخر اس کا نام ایک شہنشاہ کے نام پر کیوں رکھ دیا گیا مجھے شاید خبر بھی نہ ہو گی کہ پاکستان میں کہیں کوئی شہر ہے۔ جس شخص نے اسے آباد کیا، یونین جیک کے نقشے کے مطابق ترتیب دیا۔ اُس لائل صاحب کو کیوں بے وجہ رخصت کر دیا گیا۔ صرف اس لیے کہ ہم ہمیشہ شاہوں کے غلام ہونے پر ہی فخر کرتے ہیں۔۔۔ اس ۔۔۔ افتتاحی تقریب کی میزبانی پر جوش، کسی زمانے میں میرے دوست اصغر ندیم سید نے کی جو ملتان سے اٹھا تو سیدھا میری دکان پر آیا تھا اور اُس نے ایک بڑے کا لروں والا چیک کوٹ پہن رکھا تھا۔
آڈیٹوریم لبریز تھا اور سارہ حیات بھاگتی پھرتی تھیں کہ اب گنجائش باقی نہیں رہی۔۔۔ چنانچہ وہ سینکڑوں لوگ جو نہ صرف فیصل آباد بلکہ آس پاس کے شہروں اور قصبوں سے اس تقریب میں شمولیت کے لیے آئے تھے باہر کھڑے رہ گئے کہ دروازے بند کر دیے گئے تھے، گنجائش نہ تھی۔
افتتاحی تقریب کے فوراً بعد مجھے پکارا گیا۔۔۔ اب جگر تھام کے بیٹھو میری باری آئی، مجھے اپنے ناول ’’اے غزال شب‘‘ کے حوالے سے کچھ کلام کرنا تھا۔۔۔ اس یادگار نشست کی تفصیل بیان کرنے کے لیے ایک کالم کا دامن تنگ ہے۔ یوں کہہ لیجیے کہ یہ نشست فیصل آباد کے اہل ذوق نے مجھ سے میرے اس ناول اور دیگر ناولوں کے بارے میں جو سوال کیے ایسے سوال جو آج تک کسی نے مجھے سے نہ پوچھے تھے اُن کی وجہ سے یہ نشست یادگار ہوئی۔
بہت سے لوگ ایک صدمے میں چلے گئے جب مجھ سے سوال ہوا کہ آپ کے ناولوں کے بیشتر یادگار کردار عورتوں کے ہیں جن میں، پاسکل، ہارونی، سکلا۔۔۔ شاہ، ماگرٹیا، صاحبان وغیرہ شامل ہیں تو ایسا کیوں ہے تو میں نے اقرار کیا کہ میرے اندر صرف ایک مرد نہیں، ایک عورت بھی ہے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *