پاکستان

خاتون جج دھمکی کیس: آج عمران خان نہیں آتے تو وارنٹ جاری کردوں گا، جج

Share

خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینےکے کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ آج اگر عمران خان نہیں آتے تو وارنٹ جاری کردوں گا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام میں عمران خان کے خلاف خاتون جج زیباچوہدری کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت سول جج رانامجاہدرحیم نے کی جہاں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ پیش ہوئے۔

سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ آج اگر عمران خان نہیں آتے تو وارنٹ جاری کردوں گا، عمران خان نہ آئے تو آج عدالتی اوقات میں تو ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردوں گا۔

عدالت نے ساڑھے 12 تک سماعت میں وقفہ کردیا، عمران خان کو کیس کی کاپیاں دینے کے لیے عدالت نے آج طلب کر رکھا ہے، عمران خان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج ہے۔

توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے توشہ خانہ ریفرنس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

آج عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک استدعا کرنا چاہتا ہوں، عمران خان آج پیش نہیں ہو سکتے، ایسا نہیں ہے کہ عمران خان جان بوجھ کر پیش نہیں ہورہے، عمران خان کو سکیورٹی تھریٹس ہیں، ہم نے اسلام اباد اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان پر حملہ ہوا عمران خان زخمی ہوئے، اس موقع پر خواجہ حارث نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخوات دائر کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی شکایت کو نا قابل سماعت قرار دینے کی استدعا کی۔

خواجہ حارث نے استدعا کی کہ عدالت وارنٹ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے پہلے کیس کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرے، عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہو سکتے، ‏شکایت بھیجنے کی مجاز اتھارٹی نے شکایت بھیجی ہی نہیں۔

خواجہ حارث نے الیکشن کمیشن کی شکایت پر اہم قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‏الیکشن کمیشن کس صورت میں شکایت بھیج سکتا ہے؟ شکایت کنندہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن ہے ہی نہیں۔

اس دوران خواجہ حارث نے الیکشن کمیشن کی شکایت میں دستخطوں کے حوالے سے نقطہ اٹھایا، انہوں نے مؤقف اپنایا کہ بھیجی گئی شکایت کے آخری صفحہ پر شکایت کنندہ کے دستخط موجود ہیں، اس سے اگلے صفحہ پر حلف نامہ موجود ہے،شکایت کے حوالے سے بھیجی گئی درخواست پر موجود دستخطوں میں فرق ہے، الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانون کی مختلف مختلف جہتیں ہیں۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں استدلال کیا کہ نامزدگی فارم جمع کرانے کے 120 روز میں ہی کرمنل کارروائی کر سکتے ہیں، کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز کے تحت اگر کارروائی کرنی ہے تو 120 میں ہی کرنی ہے، میں نااہلی یا دیگر کی بات نہیں کر رہا ہے، میں صرف کرپٹ پریکٹیسز کی بات کر رہا ہوں، کرمنل پروسیڈنگز نامزدگی فارم جمع کرانے کے 120 کے اندر ہی کر سکتے ہیں، ہائیکورٹ نے لکھا کہ عمران خان کے وارنٹ حاضری یقینی بنانے کے لیے جاری کیے گئے تھے۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے لکھا 13 مارچ کو عمران خان نہیں آتے تو عدالت قانون کے مطابق کاروائی آگے بڑھائے ، فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے عدالت پہلے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ان کا رویہ عدالت کے سامنے بڑا مناسب تھا اسے پہلے ان کے جو وکیل پیش ہوتے رہے ان کا رویہ مختلف ہوتا تھا ، عمران خان کے وارنٹ گرفتاری ابھی بھی آن فیلڈ ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی درخواست وارنٹ کے حوالے سے خارج کی ، صرف عدالت نے کچھ وقت ان کو دیا کہ وہ متعلقہ عدالت کے سامنے ہوں ، صرف چند روز کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے آرڈر معطل کیا تھا۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہائیکورٹ نے کہا اگر عمران خان نہیں آتے تو عدالت قانون کے مطابق دیکھے، قانون کے مطابق دیکھنے کا مطلب ہے عدالت قابل سماعت ہونے کا معاملہ بھی دیکھے، عدالت کا وارنٹ کا حکم آن فیلڈ ہے وہ کسی وقت بھی عمل درآمد کرا سکتے ہیں، میں نے آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے، عمران خان پر اس وقت ملک بھر میں 40 کے قریب فیک مقدمے درج ہو چکے ہیں، محترمہ بینظیر بھٹو نے قتل میں کیا ہوا تھا؟

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ محترمہ بے نظیر کو وہ سیکورٹی نہیں دی گئی تھی جو ملنی چاہیے تھی، لیاقت علی خان کے ساتھ کیا ہوا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے، سکیورٹی کے حوالے سے ہم نے یہاں بھی اور ہائیکورٹ میں بھی پٹیشن فائل کی، ہم نے ہائیکورٹ میں ویڈیو لنک کی درخواست بھی دی ہوئی ہے، اگر میری ایک درخواست استثنی کی خارج بھی ہو تو دوسری بھی عدالت کے سامنے ہے، الیکشن کمیشن نے کمپلیننٹ فائل کی تھی تو یہ دیکھتے کہ کیا 120 روز کے بعد فائل کر سکتے ہیں۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جب تک عدالت کوئی فیصلہ نہیں کرتی تب تک کیس قابل سماعت ہے، وارنٹ جاری ہیں تو حاضری سے استثنیٰ کیسے دیا جاسکتا ہے؟

خواجہ حارث نے کہا کہ انہوں نے تو ثابت ہی کر دیا کہ الیکشن کمیشن کی اتھرائزیشن ہے ہی نہیں ، الیکشن کمیشن نے خود یہ اتھرائزیشن دینی ہے جو موجود ہی نہیں، جب کمپلیننٹ فائل کی ، بیان ریکارڈ کرایا ، پیروی کر رہے ہیں الیکشن کمیشن اتھرائزیشن کی دیکھا دیں، اتنا بڑا سقم ہے یہ درخواست تو آج ہی خارج ہونی چاہیے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے والی درخواست پر وقت چاہیے ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی مجھے کچھ وقت چاہیے، خواجہ حارث نے کہا کہ جس نے کمپلیننٹ فائل کی وہ تو مجاز ہی نہیں تھا ان کو تو اتھارٹی ہی نہیں تھے، عدالت آج ہی سن لے اور درخواستوں پر فیصلہ کرے۔

وکیل الیکشن نے کہا کہ میں آفس نوٹنگ سے ثابت کر دوں گا الیکشن کمپلیننٹ کے لیے مجاز کیا گیا تھا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آفس نوٹنگ نہیں یہاں آپ نے حلفیہ بیان دیا ہے، الیکشن کمیشن کا مطلب سیکرٹری نہیں نا چیف الیکشن کمشنر بلکہ پانچ ممبران ہیں، انہوں نے سیکرٹری کی کاپی ریکارڈ کے ساتھ لگائی ہوئی ہے وہ مجاز ہی نہیں، عدالت نے قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرنا ہے یہ تو کمپلیننٹ فائل کرنے کے مجاز ہی نہیں۔

ایڈیشل ڈائریکٹر الیکشن کمیشن نے کہا کہ پورے الیکشن کمیشن کی منظوری ہے جس کے بعد یہ کرمنل کمپلیننٹ فائل ہوئی، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کہاں ہے عدالتی ریکارڈ پر کہ یہ کمپلیننٹ فائل کرنے کے مجاز تھے ، اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں وقت دیں تو پھر یہ کاروائی کیسے آگے بڑھ سکتی ہے ، جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ یہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں تو کاروائی آگے نا بڑھائیں۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے جج ظفر اقبال نے کہا کہ فیصلہ سوا تین بجے سنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ 7 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی سماعتوں سے مسلسل غیر حاضری پر توشہ خانہ ریفرنس میں مقامی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو منسوخ کرنے کی درخواست پر انہیں پیشی کی مہلت دیتے ہوئے 13 مارچ کو سیشن عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا تھا۔

توشہ خانہ ریفرنس

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیج دیا تھا جس میں عدم پیشی کے باعث ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں۔

گزشتہ برس اگست میں حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

چنانچہ 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔