شاید ہم اسی لائق تھے

Masoodپاکستان میں زیادہ تر چیزیں عقل و منطق کو چیلنج کرتی ہیں۔ کئی سالوں سے ہم ایک حقیقت ، جس نے ہماری زندگیوں کے ہر شعبے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے، کو تسلیم کر چکے ہیں کہ دنیا میں جوبھی خرابی واقع ہونی ہے، سو فیصد امکان ہے کہ اُس نے ہمارے ملک کا رخ ہی کرنا ہے۔ اس ’’قاعدے ‘‘ کو کسی بھی چیز پر لاگو کر کے دیکھیں تو اس کی صداقت سمجھ میں آجائے گی۔ ہم سب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں پیہم خرابیوں کی وجہ سے آج دنیا میں ہمارے ملک کی کوئی قدر نہیں ہے۔ یہاں بنائی گئی ہر پالیسی خوفناک ناکامی سے دوچار ہوتی ہے لیکن پھر بھی یک بعد دیگر ے ہر حکمران، جیسا کہ اُس کے ذہن کو کسی آسیب نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہو، دیوانہ وار اربوں ڈالر ادھار لے کر ایسے منصوبوں میں لگانا شروع کر دیتا ہے جو کسی پاگل خانے کے دائمی مقیم کو ہی سوجھ سکتے ہیں۔ ان حماقتوں پر کبھی کسی کو سز ا نہیں ملی ہے۔ امانت ، دیانت، صداقت کے روشن جملے ، جو یہاں دن رات ادا کیے جاتے ہیں ، زندگی کے تاریک حقائق کو روشن کرنے سے قاصر ہیں۔
ہم میں سے بہت سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے سامنے کوئی چوائس باقی نہیں رہی ہے۔ ہم سیسی پس (یونانی دیو مالائی کردار) کی طرح ایک بھاری پتھر پہاڑکی چوٹی پر پہنچاتے ہیں اور جب وہ نیچے جا گرتا ہے تو ہم پھر اُسے اوپر پہنچانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ یہی سعیِ لاحاصل عوام کی زندگی ہے، جبکہ خواص ان کے کندھوں پر پاؤں رکھ کر خوشحالی کی دنیا بسائے رکھتے ہیں۔ جب وہ جی بھر کر دولت اور وسائل کا انبار لگا لیتے ہیں تو پھر ’عوامی لیڈر ‘‘کہلاتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ ہم سب یہ بات جانتے ہیں۔
ہم اس قنوطیت نما رجائیت کو بھی تسلیم کرچکے ہیں ہمارے بڑے بڑے مسائل کا اب کوئی حل نہیں ہے۔ یہ دیکھ کر دل میں زنگ آلود خنجر اتر جاتا ہے کہ عام اور معمولی معاملات بھی ہماری پہنچ سے باہر ہوچکے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ معاشی مسائل ہماری دسترس میں نہیں ہیں، لیکن زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں کیوں بگاڑہے۔ اخلاقی رویے ، جن کے لیے بہت زیادہ دولت یا ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، وہ کہاں چلے گئے ہیں؟وہ تمام چھوٹی چھوٹی چیزیں جو زندگی کو خوشگوار بناتی ہیں، آج عنقا ہیں۔
دوسرے لاکھوں افراد کی طرح ، میں بھی پی آئی اے کو زندہ رکھنے کے حق میں نہیں ہوں۔ اس حکومت اور اس سے پہلی حکومتوں نے اس کی سانسیں جاری رکھنے کے لیے اس میں بے اندازہ رقم صرف کی ہے۔ عوام کی رقم کو اس طرح ’’ہوا میں اُڑا دینا ‘‘ انتہائی غلط، بلکہ سنگدلانہ فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کی انتظامیہ ایسے تبدیل کی جاتی ہے جیسا لوگ جرابیں بدلتے ہیں۔ ہر آنے والی انتظامیہ کی سفارش پر مزید رقم پانی کی طرح بہائی جاتی ہے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ عام طورپر ہوتا یوں ہے کہ اس ادارے کی رگوں میں تازہ خون داخل بھی نہیں کیا جاتا، صرف رقم مختص کرنے کا منصوبہ بن رہا ہوتا ہے، کہ خون آشام گدھ اس کا جسد نوچنے کے لیے آموجود ہوتے ہیں۔ اس طرح اس فضائی کمپنی کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے کے تمام حربے دھوئیں کی طرح ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ میراخیال ہے کہ جب ایک فضائی کمپنی اس قدر تباہی سے دوچار ہوچکی ہو تو اس کی بحالی کے لیے کام کرنے والے بھی حوصلہ ہار دیتے ہیں۔ پی آئی اے انتہائی خراب صورتِ حال سے دوچار ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم ناکامی کا سامنا کرنے کی بجائے اس پر اُس وقت تک پیسہ لگاتے رہیں گے جب تک آخری جہاز گراؤنڈ نہیں ہوجاتا اور پھر اس کباڑیوں کے ہاتھ فروخت نہیں کر دیا جاتا۔ میرا ایک دوست ، جس نے تمام زندگی پی آئی اے میں ملازمت کی تھی، ایک سفر کے دوران انتہائی بدبودار باتھ روم کو دیکھ کر براشت نہ کرسکا اور خود اس کی صفائی شروع کردی۔ اس پر بھی کیبن کا عملہ شرمندہ کا خائف نہ ہوا، الٹا اس کے خلاف رپورٹ کردی۔
مجھے شکایت اس بات پر نہیں ہے کہ ہمارے پاس جدید ترین طیارے کیوں نہیں ہیں بلکہ رونا اس بات کا ہے کہ چلیں مان لیا کہ ہمارے پاس پرانے جہاز ہیں اور آدھے سے زیادہ ہمہ وقت گراؤنڈ رہتے ہیں لیکن جو جہاز قابلِ استعمال ہیں ان میں مسافروں کو سروسز کیوں نہیں ملتیں؟ وہ تو کرایہ پورا ادا کرتے ہیں، چناچہ اُنہیں مطلوبہ سہولیات ملنی چاہیں۔ یہ بات بھی مسافر جانتے ہیں کہ دنیا میں جہاں ابھی تک پی آئی اے جاتی ہے، وہاں مسافروں، جن کی وجہ سے اسے ریونیوحاصل ہوتا ہے ، انتہائی تضحیک آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر دورانِ سفر کوئی مسلہ پیش آجائے اور جہاز کسی ائیر پورٹ پر رک جائے تو سب سے پہلے وہاں سے اس کے افسران غائب ہوجائیں گے۔ وہاں سینکڑوں مسافر حیران پریشان کھڑے ہوتے ہیں کہ اب کیا ہو گا اور وہ کہاں جائیں اور ...’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘... کی تصویر بنے کھڑے رہتے ہیں۔ اگر یہ کمپنی مسافر وں کو کسی ہوٹل میں ٹھہرائے تو یقین کرلیں کہ شہر کا ناقص ترین ہوٹل ہوگا اور اس کی طر ف سے دیا گیا کھانا کھانے کے قابل نہیں ہوگا۔مسافروں نے بھی دھینگا مشتی کی اچھی مشق کی ہوتی ہے۔ نہ کوئی قطار، نہ سلیقہ، جہاز کا دروازہ کھلتے ہی مسافر ایسے ٹوٹ پڑیں گے جیسے ٹائی ٹینک ڈوبنے والا ہے۔ بچے چلارہے ہوں اور ان کے والدین نے بھاری سامان، جس میں پانچ کلو مٹھائی کی ٹوکری لازمی ہوتی ہے، اٹھایا ہو گا اور وہ برق رفتاری سے جہاز سے باہر نکلنے کے لیے لپک رہے ہوں گے۔ ایک زمانہ تھا جب پی آئی اے کی طرف سے دیے گئے کھانے بہت اعلیٰ معیار کے تھے ۔ اب اس میں ملاوٹ در ملاوٹ اور خرابی در خرابی کا پہلو فزوں تر ہے۔ جہاز کا عملہ نہایت کرخت لہجے میں ماتھے تیوری چڑھا کر اس طرح بات کرتا ہے جیسا یہ خیراتی سفر ہو... خیر جہاز کی حالت دیکھیں تو شبہ بجا معلوم ہوتا ہے۔ پھر بھی کچھ لوگ یقین کرتے ہیں کہ اس حالت درست ہو جائے گی۔ کوئی معجزہ، کوئی جادو کی چھڑی حکومت کے پاس ہو تو واﷲ عالم، اس عالمِ آب و گِل میں تو یہ ممکن نہیں ہے۔
پی آئی اے کی اس خرابی کو سب جانتے ہیں لیکن انسان بندہ بشر ہے، غلطی ہوجاتی ہے۔ چناچہ میرا ایک کزن لند ن سے اسلام آباد آنے والی اس ’’لاجواب سروس ‘‘پر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد اس نے حلف اٹھا کر تمام آسمانی طاقتوں کو گواہ بنا کر وعدہ کیا کہ آئندہ یہ غلطی نہیں ہو گی۔ ہماے ہاں سول ایوی ایشن اتھارٹی ہے لیکن اس کے ساتھ لفظ ’سول‘ مناسب نہیں لگتا۔ پی آئی اے کی خرابیوں پر پہلے بھی لکھا ہے، آئندہ بھی لکھتا ہوں گا یہاں تک کہ اس کا آخری جہاز منزلِ مقصود، یعنی کباڑ خانے تک نہیں پہنچ جاتا۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *