مذہبی شدت پسندی (۱)

عطاء الحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے سانحہ پشاورکے پس منظر میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے جتنے کم وقت میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے اور عمران خان اور جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی قائدین نے جس طرح بلاحیل و حجت وزیراعظم کی آواز پر لبیک کہا، اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ تمام قائدین ان تمام نکات پر متفق ہوگئے ہیں جو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے وزیراعظم نے پیش کئے۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ دہشت گردوں اور دوسرے جرائم پیشہ افراد کے لئے پھانسی کی سزا صرف بحال نہیں ہوئی بلکہ ابتدائی طور پراس پر عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ چنانچہ آنے والے دنوں میں تقریباً 50دہشت گردوں کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا جائے گا۔ اسی طرح ہمارے قابل فخر آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان وزیراعظم کی ہدایت پر افغانستان گئے اور افغان صدر کو وہ شواہد پیش کئے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ معصوم بچوں کو گولیوں سے چھلنی کرنے کا منصوبہ ملّا فضل اللہ نے افغانستان میں بیٹھ کر تیار کیا تھا، چنانچہ ملاقات میں جناب ِ صدر سے ملّا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ افغان صدر نے جواب میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ افغانستان سے واپسی پر جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم کو اس ملاقات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ہماری فوج کا سیاسی قیادت سے یہ آئینی تعلق ایک اور خوش آئند امر ہے۔
یہ سب کچھ بہت اچھا ہے مگر دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ہمیں مذہبی شدت پسندی کا خاتمہ بھی کرنا ہے کہ یہ شدت پسندی بالآخر دہشت گردی کی طرف لے جاتی ہے یا اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے لئے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرتی ہے۔ پاکستان میں مذہب کو مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیاجارہا ہے چنانچہ انسان کو ہلاکت کی طرف لے جانے والی ادویات تیار کرنے والے کئی ادارے کسی مقدس نام یا مقدس ملک کے حوالے سے اپنے ادارے کی پہچان کراتے ہیں کہ ہم لوگ کئی ممالک کو بھی مقدس مقامات کی وجہ سے تقدس کا درجہ دیتے ہیں۔ بہت سے بدکردارلوگ خود کو نہائے دھوئے اور پاک صاف ظاہر کرنے کے لئے شرعی وضع قطع بنا لیتے ہیں۔گناہ کے اڈوں پر یہ تختی بھی لٹکائی ہوتی ہے ’’یہ سب تمہاراکرم ہے آقا ؐ کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے‘‘ ضرورت ہے کہ اس طرح کے سب ریاکاروں پر توہین رسالت کا مقدمہ قائم کیا جائے!اب چونکہ دہشت گردی کا پانی سروں پر سے گزر رہا ہے، لہٰذاہم پر لازم ہوگیا ہے کہ اسلام ایسے خوبصورت مذہب کی خوبصورت شکل پیش کی جائےاوراس ضمن میں کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کھل کر بات کی جائے۔ اس کے لئے ذیل میں کچھ معروضات پیش کی جارہی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ انہیں اسی اسپرٹ میں لیا جائے جس اسپرٹ سے میں یہ معروضات پیش کررہا ہوں۔
مذہبی جماعتوں کے تبلیغی اجتماع
پاکستان میں ہر سال مذہبی جماعتوں کے عظیم الشان تبلیغی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جن میں حکمرانوں، سیاست دانوں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے علاوہ عام مسلمان بھی لاکھوںکی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ یہاں نہایت رقت آمیز لہجے میں اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر اور زار و قطار روتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے..... لیکن کیا یہ معافی ان گناہوں کے حوالے سےمانگی جاتی ہے جن کا تعلق صرف ان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے یا اس معافی میں وہ گناہ بھی شامل ہوتے ہیں جو معاشرتی گناہ ہیں اور جن کے سبب ہمارا معاشرہ مکروہ ترین معاشرہ بنتا چلاجارہا ہے۔ کیااللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگنے کےبعد ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے ہیں ، لہٰذا اب آئندہ دنوں کے لئے گناہوں کا نیا اکائونٹ کھول لیا جائے؟ یقین کریں اکثریت ایسا ہی سمجھتی ہے کیونکہ ان اجتماعات میں ہونے والی تقریروں میں سارازور ِ بیان حقوق اللہ پر صرف ہوتا ہے اور حقوق العباد کے ذکر کی حیثیت رسمی سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ بات میں پورے تیقن سے اس لئے بھی کہہ رہا ہوں کہ میں خود ان آہ و زاری کرنےوالوں میں شامل رہا ہوں۔ تاہم ان اجتماعات میں یقیناً کچھ لوگ اچھے مسلمان بن کر بھی نکلتے ہیں مگر ایک بہت بڑی تعداد اس ذہن کی حامل بن جاتی ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی سے لے کر دیگر معاشرتی جرائم تک کے مرتکب افراد کےلئے دلوں میں وہ نفرت پیدا نہیں ہوتی جو ایک سچے مسلمان کے دل میں ایسے افراد کے لئے پیدا ہونی چاہئے۔
حوروں کا تذکرہ
تبلیغی اجتماعات کے علاوہ ہر جمعہ کو مسجدوں میں ہونےوالے خطبات میں جہاں کچھ فسادی قسم کے ’’علما‘‘ فسادی قسم کی تقریریں کرتے ہیں وہاں دل میں حسرت ِ گناہ لئے کچھ واعظ ایسے بھی ہوتے ہیں جو چسکے لے لے کر حوروں کا لذت آمیز بیان طویل سے طویل تر کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ ان حوروں کے سر سے لے کر پائوں تک کے سراپے اور ایک ایک عضو کا بیان کچھ ایسے انداز میں کرتے ہیں کہ جی چاہتا ہے انہیں ابھی جنت میں بھیج دیا جائے۔ صرف یہی نہیں اردو بازار کی دکانیں ان لغویات سے بھری پڑی ہیں جنہیں اسلام کے غلاف پوش میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتابیں پڑھ کر ایک صحیح الفکر مسلمان کے دل میں کراہت پیدا ہوتی ہے اور دوسری طرف یہ کتابیں دہشت گرد تیار کرنے والوں کےبہت کام آتی ہیں۔ افسوس میں وہ تفصیل بیان نہیں کرسکتا جو ان کتابوں میں حوروں اور جنتیوں کی مردانگی کے حوالے سے دی گئی ہوتی ہیں۔ یہ تفصیل پڑھ کر صرف توبہ توبہ کا وِرد ہی کیا جاسکتا ہے۔ اردو بازار میں فضائل کی کتابیں بھی وافر تعداد میں دستیاب ہیں۔ یہ سب کمزور اور وضعی حدیثوں سے اخذ ہیں۔ ان کے مطابق بڑے سے بڑاگناہ بھی فلاں عبادت سے معاف کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ہم قتل کرتے جاتے ہیں، ملاوٹ کرتے جاتے ہیں، قبضے کرتے چلے جاتے ہیں اور عبادت کرتے چلے جاتے ہیں۔
چلتے چلتے ’’شوکت رضا شوکت‘‘ کا ایک شعر:
پھول دیکھے تھے جنازوں پر ہمیشہ شوکتؔ
کل میری آنکھ نے پھولوں کے جنازے دیکھے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *