منی پور کی بہادر مائیں

hussain-javed-afroz

سدا بہار بھارتی اداکار اور ہدایکار امول پالیکر نے ہندوستانی تہذیب کی رنگا رنگی کے متعلق درست ہی کہا ہے کہ ہمیں فلمیں بنانے کیلئے باہر سے موضوعات مستعار لینے کی کیا ضرورت ہے. ہمارے اپنے ملک میں الگ الگ ریاستوں کے چپے چپے پر ہی کئی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔لیکن ذرا رکیے ۔آج ہم کسی فلم پر گفتگو کرنے نہیں جارہے بلکہ ہم حقیقت میں بھارت کے اندر موجود ’’ منی پور‘‘ ریاست کے اندر ہونے والے ایک دلخراش واقعے کو موضوع سخن بنائیں گے جس کو معروف بھارتی صحافی ٹریسا رحمان نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’’Mothers of Manipure The ‘‘میں نہایت ہی درد سے بیان کیا ہے ۔جی ہاں بھارت کے شمال مشرق میں سات چھوٹی ریاستوں کا ایک سلسلہ موجود ہے جن میں آسام ،ناگا لینڈ،میگالیہ،منی پور ،تری پورہ،اگرتلا،میزورام اور اروناچل پردیش شامل ہیں۔ان ریاستوں کی سرحدیں ،بھوٹان،چین اور میانمار سے ملتی ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ریاستوں کے متعلق دنیا کی بات تو چھوڑئیے خود بھارت میں بھی بہت کم جانکاری پائی جاتی ہے ۔ان ریاستوں کا کلچر،زبان ،فنون لطیفہ ابھی تک دنیا کے سامنے کھل کر پیش نہیں کیا جاسکا ۔اس کی وجہ بہت سادہ ہے کیونکہ ان سات میں سے اکثر ریاستوں میں بھارتی تسلط اسی طرح قائم ہے جس طرح کی مثال ہمیں جموں و کشمیر میں دکھائی دیتی ہے ۔پچاس برس سے ان ریاستوں خصوصاٰ منی پور میں دلی سرکار کے خلاف ایک لاوا مسلسل پکے جارہا ہے ۔یہاں لوگ بھارتی دستور کے تحت رہنے کے بجائے کامل آزادی کے خواہاں ہیں۔منی پور کے راجہ بدھا چندرانے آزادی کے بعد 15 اکتوبر1949 کو ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ کردیا۔حالانکہ کشمیر کی طرح راجہ کا یہ فیصلہ عوامی حمایت سے یکسر عاری تھا ۔یوں 1964 سے بھارتی سرکار کے خلاف ریاست میں مزاحمتی مسلح سرگرمیوں نے جڑ پکڑ لی ۔منی پور میں اکثریتی آبادی ’’میتی‘‘ قومیت سے تعلق رکھنے والے گروہ کی ہے جو کہ کامل آزادی کے حامی ہیں ۔جبکہ ریاست میں دوسرے نمبر پر’’ ناگا‘‘ قومیت کے لوگ سرگرم ہیں جو منی پور کو گریٹر ناگا لینڈ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ۔تیسرے نمبر پر’’ کوکی‘‘ قومیت کا حامل گروہ ہے جو ایک الگ کوکی ریاست بنانے کی جدوجہد میں مگن ہے ۔گویا پچھلے پچاس برس سے منی پور ایک اکھاڑے کی صورت اختیار کرچکا ہے جہاں بھارتی فوج 1980 سے نافذ ’’افسپا‘‘ (آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ)کے ظالمانہ قانون کے تحت مزاحمتی سرگرمیوں کو کچلنے کی تگ و دو میں جٹی ہوئی ہے ۔اس وقت 34 کے قریب چھوٹے بڑے گروپس ریاست میں فعال ہیں جن میں ’’منی پور پیپل لبریشن فرنٹ،یونائٹیڈ نیشنل لبریشن فرنٹ اور پری پاک‘‘ نمایاں ہیں۔منی پور کے پسے ہوئے عوام کو دلی سرکار سے شکوے یہ ہیں کہ دلی ان کے قدرتی وسائل پر حریصانہ نظر جمائے بیٹھا ہے ۔افسپا کی آڑ میں منی پور کے عوام کے حقوق کی نہایت ہی بیدردی سے خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ریاست پسماندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھنستی جارہی ہے اور اس کا اس روز افزوں ترقی ،جس کا آئے روز بھارتی حکمران ڈھول پیٹتے رہتے ہیں، سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔یہاں تک کہ جب منی پور یا کسی اور شمال مشرقی ریاست سے روزگار یا تعلیم کے لئے مقامی لوگ ،ممبئی ،دلی یا بنگلور جاتے ہیں تو ان کو غیر ملکی باشندے متصور کیا جاتا ہے ۔ٹریسا رحمن نے جس دلدوز واقعہ کو بنیاد بنا کر یہ کتاب تحریر کی اس نے ہندوستانی فوج کی قلعی کھول کررکھ دی ہے ۔یہ دس جولائی 2004 کا واقعہ ہے جب رات گئے درجن بھر بھارتی فوجی ایک گھر میں داخل ہوئے اور ایک 32 سالہ عورت ’’منو تھنگ جام منوراما‘‘ کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور جیپ میں ٹھونس کر لے گئے ۔اگلی صبح جنگل میں اس کی کٹی پھٹی لاش لوگوں کو ملی ۔منوراما پر بے دردی سے تشدد کرنے کے بعد آسام رائفلز کے فوجیوں نے اس کا گینگ ریپ کیا اور اور اس کے بعد اسے گولیوں سے بھون ڈالا۔فوجی رپورٹس میں اسے پیپل لبریشن آرمی کی دہشتگرد قرار دیا گیا جو کہ کئی بم دھماکوں میں ملوث رہی تھی ۔اس واقعے نے منی پور میں زندگی کا پہہیہ جام کر کے رکھ دیا۔اور چار روز بعد 15 جولائی کو بارہ عورتوں نے جن کی عمریں پچاس برس سے اوپر کی تھیں امپھال شہر میں آسام رائفلز کے ہیڈ کواٹرر کانگلا قلعے کے سامنے منوراما سانحہ پر احتجاج شروع کر دیا ۔کچھ ہی لمحوں بعد ان خواتین نے خود کو برہنہ کر کے بھارتی فوج کے خلاف شدید نعرہ بازی شروع کردی ۔women

وہ چیخنے لگیں ’’Indian army come rape us ,take our flesh ‘‘۔(بھارتی فوجیوں آؤ ہمارا ریپ کر دو ہمارے جسموں کو نوچ لو )ساتھ ہی عورتوں نے افسپا ہٹانے کا مطالبہ بھی کردیا ۔احتجاج کے اس انداز نے بھارت میں کھلبلی مچا دی۔آسام رائفلز کو کانگلا قلعہ خالی کرنا پڑا اور یہ قلعہ منی پور کے عوام کو سونپ دیا گیا۔ٹریسا رحمن کے مطابق اس واقعے نے اسے ہلا کر رکھ دیا ۔کچھ عرصے بعد جب اس کو پتہ چلا کہ ان احتجاجی خواتین میں شامل ایک خاتون چل بسی ہے تو اس نے سوچاکہ منی پور جا کر باقی گیارہ عورتوں سے بات چیت کرنی چاہیے۔ تاکہ ان کے اندر کا کرب اور منی پور میں موجود گھٹن باہر آ سکے ۔ٹریسا لکھتی ہیں کہ ان انٹرویوز کے دوران اس نے محسوس کیا کہ ان خواتین کو اس بات کا بہت ملال تھا کہ ہماری آواز سننے آج تک کوئی نہیں آیا ۔منی پور جس تباہی سے گزر رہا ہے کیا باہر کی دنیا کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ہم سب منوراما کی مائیں ہیں ۔وہ ہماری بیٹیوں کی طرح تھی ۔وہ کسی طور پر بھی دہشتگردی میں ملوث نہیں تھی ۔ہمارے برہنہ احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کو بتائیں کہ یہ منوراما کا نہیں ہمارا ریپ کیا گیا ہے ۔ٹریسا کے مطابق منی پور میں لڑکیاں اس بات کو بہت شدت سے محسوس کرتی ہیں کہ جب ان کو بازار میں دوران خریداری فوجی سنتری پوچھ گچھ کرتے ہیں ان سے شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے ۔وہ لڑکیاں پھٹ پڑتی ہیں کیا ہم اپنے علاقے میں بھی اپنی شناخت دکھانے کے پابند ہیں ؟بھارتی فوج کے افسپا (آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ)کے خلاف ایک تاریخ ساز احتجاج منی پور کی بہادر خاتون’’ اروم چانو شرمیلا ‘‘نے بھی کیا ہے ۔جو افسپا کے ظالمانہ اثرات کے خلاف 2000 سے بھوک ہڑتال پر ہے ۔اسے دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی بھوک ہڑتال بھی مانا جاتا ہے ۔ٹریسا کے مطابق کشمیر اور منی پور میں حالات ایک ہی ڈگر پر چل رہے ہیں ۔کشمیر میں 24 سال سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کسی افسر یا جوان کو سزا نہیں دی گئی۔خود بھارتی سپریم کورٹ بھی بھارتی فوج کے رچائے گئے جعلی مقابلوں سے سخت نالاں رہی ہے۔ لیکن پھر بھی افسپا کشمیر اور شمال مشرقی بھارت میں انسانی حقوق کو بندقوں کی سنگینوں تلے روندے جا رہا ہے منی پور میں یومیہ بنیادوں پر لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے اور پھر کسی جعلی مقابلے میں مار دیا جاتا ہے ۔ بھارتی دفاعی تجزیہ نگار جنرل بخشی کے مطابق فوج کو شمال مشر قی بھارت اور کشمیر میں low intensity conflict میں ملوث رہنا پڑتا ہے اور دھیرے دھیرے چلنا پڑتا ہے اسی لئے ان ریاستوں میں آپریشنز کئی دہائیوں تک چلتے ہیں ۔ہم بھی افسپا کے حمایتی نہیں لیکن مستقبل قریب میں افسپا ہٹانے کا ماحول ابھی بنا نہیں ہے ۔ شمال مشرقی بھارت اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کی نفسیاتی حالت کی عکاسی فلم ’’کافر کی نماز ‘‘میں خاصی مہارت سے کی گئی ہے ۔ جس میں بھارتی فوجیوں کو دوران آپریشنز راشن کی کمی ،ہم جنس پرستی اور اجتماعی آبروریزی جیسے مسائل میں ملوث دکھایا گیا ہے ۔ٹریسا رحمن کہتی ہیں منی پور کا لفظی مطب land of jewels ہے ۔مگر یہاں منوراماکے سانحہ کے بعد سے اب تک میں نے ایک خون آشام کرب محسوس کیا ہے ۔کرب کا یہ ماحول کب تک منی پور کا مقدر رہے گا ؟اس سوال کا جواب فی الحال میرے پاس نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *