منتخب تحریریں

آئین کی ’’بے توقیری‘‘ کا رونا 

Share

الیکشن کمیشن نے بالآخر 30اپریل کے دن پنجاب اسمبلی کے چنائو کے عمل کو یقینی بنانے کے حوالے سے اپنی معذوری کا اظہار کردیا ہے۔مذکورہ اظہار سپریم کورٹ کو کسی نہ کسی صورت متحرک ہونے کو اُکساسکتا ہے۔ دو آئینی اداروں یعنی سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے مابین تنائولہٰذامزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ دریں اثناء مجھ ایسے سادہ لوح حسب عادت ’’آئین کی بے توقیری‘‘ کا رونا روتے ہوئے خود کو جمہوریت کے پاسبان ثابت کرتے رہیں گے۔کالم نگاری کی دیہاڑی بھی یوں لگتی رہے گی۔

آئین کی بے توقیری کا دُکھ مجھے جولائی 1977سے لاحق رہا ہے۔پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے مگر اسے ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت ناگزیر قرار دیا تھا۔ آئین کی معطلی بھی اس کی وجہ سے واجب قرار پائی۔ 1973کے آئین کو وقتی طورپر بھلاکر عبوری آئین نافذ کردیا گیا۔اس کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ جیسے ادارے برقرار رہے۔’’تخریب کاروں‘‘ کو ’’فوری انصاف‘‘ فراہم کرنے کے لئے مگر ’’فوجی عدالتوں‘‘ کا متوازی نظام بھی قائم ہوگیا۔ 5جولائی 1977کا مارشل لاء لگانے کے بعد ’’نوے دنوں‘‘ میں انتخاب کروانے کا وعدہ ہوا تھا۔اس پر بھی عمل درآمد نہ ہوا۔آٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد بالآخر 1985میں انتخاب نصیب ہوئے۔ان کا انعقاد مگر ’’غیر جما عتی‘‘ بنیادوں پر ہوا تھا۔

مجھ سادہ لو ح کو گماں تھا کہ مذکورہ انتخابات کی بدولت جمہوریت کی ’’بحالی‘‘ کے بعد آئین کی مزید بے توقیری نہیں ہوگی۔ وطن عزیز مگر ’’بے توقیری‘‘ سے جند چھڑانے کے قابل نہیں رہا۔12اکتوبر 1999کی شب جنرل مشرف نے نواز شریف کی دوسری حکومت کو برطرف کیا تو مٹھائیاں  بٹیں۔ہمارے عوام اور خاص طورپر انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت نے سیاستدانوں کا روپ دھارے ’’چور اور لٹیروں‘‘ سے نجات پر اطمینان کا اظہارکیا۔سپریم کورٹ نے آئین کی بے توقیری والے اس عمل کو بھی ’’جائز‘‘ ٹھہرایا۔ جنرل مشرف کو بلکہ یہ اختیار بھی فراہم کردیا کہ ملک کو سیدھی راہ پر رکھنے کے لئے وہ 1973کے آئین میں روشن خیال دیدہ ور ہوتے ہوئے ازخود ترامیم متعارف کروائیں۔

ان دونوں ادوار کے دوران میں بے تحاشہ اداس وپریشان رہا۔ جنرل ضیا کے دور میں کئی برسوں بے روزگار رہا۔چھ سے زیادہ مہینوں تک اسلام آباد کے ایک مختصر گوشے میں بنائی ’’پریس کلب‘‘ میں بچھے صوفے پر سوتا رہا۔گھی کے خالی کنستر میں پانی ڈال کر تھوڑی دیر کو چولہے پر رکھنے کے بعد اسے نہانے کے لئے استعمال کرتاتھا۔جنرل مشرف کے دور میں لیکن ’’لاٹری‘‘ یہ نکلی کہ جس ادارے کے لئے کام کرتا تھا اس نے مجھے بھارت کی سیاست اور خارجہ پالیسی کی بابت رپورٹنگ پر مامور کردیا۔ میں تین ماہ وہاں گزارتا اور دو مہینوں کے لئے وطن آجاتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان معلق رہتے ہوئے اپنی کم سن بچیوں سے دوری بہت اداس رکھتی تھی۔ اس اداسی کا ازالہ مگر یہ پہچان ہوئی کہ میں بھارتی امور کا نام نہاد ’’ماہر‘‘ ہوں۔

پنجاب اسمبلی کے انتخاب کا مؤخر ہوجانا میری دانست میں آئین کی یقینا’’بے توقیری‘‘ ہے۔صوفی تبسم صاحب کا مصرعہ مگر یاد آرہا ہے  : ’’دیکھے ہیں بہت ہم نے …‘‘ – صوفی صاحب نے اس ضمن میں ہوئے ’’ہنگاموں‘‘ کے آغاز وانجام کو ’’رسوائی‘‘ بھی ٹھہرایا تھا۔ اس کے لئے گزشتہ کئی ہفتوں سے ذہنی طورپر تیار تھا۔ چند دن قبل ہم ٹی وی کی ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار صاحبہ نے اپنے ٹی وی شو کے لئے مدعو کررکھا تھا۔ وہاں جانے سے قبل مجھے یہ وہم لاحق رہا کہ ڈاکٹرصاحبہ مجھ سے یہ سوال یقینا پوچھیں گی کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات بروقت منعقد ہوپائیں گے یا نہیں۔

عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد میرے ’’کس بل‘‘ ناکارہ ہوچکے ہیں۔قنوطی ذہن ٹی وی شوز کے اینکرز کی جانب سے اٹھائے سوالات کا واضح جواب مہیا کرنے کے قابل نہیں رہا۔شہنشاہانہ آمریت کی نسلوں سے عادی رہی اقوام نے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے مگر ’’استعارہ‘‘ بھی ایجاد کررکھا ہے۔اس کی بدولت دل میں آئی بات کہہ دینے کے باوجود پنجابی محاورے کے مطابق ’’پکڑے جانے‘‘ کا خوف محسوس نہیں ہوتا۔

اپنے تئیں یہ فرض کرلینے کے بعد کہ ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار صاحبہ مجھ سے پنجاب اسمبلی کے انتخاب بروقت ہونے کے بارے میں سوال ضرور اٹھائیں گی، ذلتوں کا مارا یہ بزدل اس کا ’’استعارہ‘‘ کے ملاوٹ والا جواب ڈھونڈنے کو مجبور ہوگیا۔ اس ضمن میں کسی شعر کی تلاش تھی۔اچانک ذہن میں ایک ’’ردیف‘‘ کوندی…‘‘  نہیں آتا‘‘۔اس کے ساتھ شعیب بن عزیز نے بھی ایک شعر لکھ رکھاہے۔ ’’اب اداس پھرتے ہو۔سردیوں کی شاموںمیں۔اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں’’والا شعر لکھنے والے شعیب بن عزیز رشک آمیز تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔بدقسمتی سے سرکاری نوکری کی نذر ہوکر اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال نہ کرپائے۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تخلیقی ا ذہان کے ساتھ ایسے ہی المیے ہوتے ہیں۔

بہرحال ان کے ایک اور شعر کی ردیف تو یاد آگئی مگر پورا شعر یاد کی گرفت میں نہیں آیا۔گھبرا کر ’’انکل گوگل‘‘ سے مدد لی۔ وہاں بھی کئی بار مختلف لفظ لکھ کر سرچ کا بٹن دبانے کے باوجود مطلوبہ شعر دریافت نہ ہوپایا۔اس تجربے سے سیکھ یہ بھی لیا کہ ’’گوگل‘‘ ہر سوال کا ترنت جواب فراہم نہیں کرسکتا۔ وہاں سے مایوس ہوجانے کے بعد خیال آیا کہ اپناایک یار ہے-حارث خلیق-موصوف کو ’’ہر موقعہ کی غزل منہ زبانی- یاد ہوتی ہے۔ اسے ٹیلی فون کرکے اپنی مشکل بیان کی۔بھائی صاحب بھی فی الفور مطلوبہ شعر یاد نہ کرپائے۔بھائی کے ذہن کو مگر میں نے ’’چالو‘‘ کردیا تھا۔چندہی لمحوں بعد ان کا فون آیا۔اطلاع حارث نے یہ دی کہ میری لگائی ’’تیلی‘‘ یا انگیخت سے پریشان ہوکر انہوں نے بالآخر شعیب بن عزیز کو فون کیا اور مشکل کا حل ڈھونڈ نکالا۔اس کی مدد سے احسان مند محسوس کیا۔تاہم یہ قلق بھی مسلط ہوئی کہ شعیب صاحب کا فون نمبر میرے پاس بھی ریکارڈ میںموجود ہے۔میرے کند ذہن میں ان سے براہ راست رابطے کا خیال کیوں نہیں آیا۔

مشکل آسان ہوگئی تو ڈاکٹر صاحبہ کے شو میں چلا گیا۔حسب توقع انہوں نے انتخابات کے بروقت ہونے کی بابت سوال پوچھ ہی لیا۔میں نے شعیب بن عزیز کا شعر پڑھ کر جند چھڑالی اور وہ شعر ہے : ’’شب گزرتی دکھائی دیتی ہے-دن نکلتا نظر نہیں آتا‘‘۔ اس کے بعد مجھ سے تفصیلی ’’تجزیے‘‘ کی امید نہ رکھیں۔ کالم ویسے بھی اختتام کو پہنچ گیا ہے۔میری ’’دیہاڑی‘‘ لگ چکی ۔