کیا ہم وہی پاکستانی ہیں؟

جویریہ ندیم 

javairia nadeem

ہماری اصل پہچان کیاہے؟کیا ہم واقعی پاکستانی کہلانے کے لائق ہیں؟ ہم اپنے آپ کو بغیر کسی ہپکچاہٹ کے بڑے فخریہ انداز سے دوسروں کے سامنے پاکستانی تو کہتے ہیں پر کیا ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کی بنیاد کن اہم باتوں پر رکھی گئی تھی؟ پاکستان بنانے کی اصل وجوہات کیا تھیں؟ قائداعظم نے ۸ مارچ ۱۹۴۴ کوعلی گڑھ یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ :
’پاکستان تو اسی روز وجود میں آگیا تھا جس روز پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا‘
بات تو بجا فرمائی گئی تھی کہ جب برصغیر میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا تو دراصل وہ ایک قوم سے نکل کر دوسری قوم کا فرد بن گیا تھا .اور اسی روز برصغیر میں دوقومیں بن گئیں تھی ایک ہندو اور دوسری مسلمان .اور یہی دو قوموں کا تصور پاکستان کے قیام کی اصل وجہ بھی ہے.اور اسی تصور کو ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایک قرارداد کی صورت میں پیش کیا گیا.جس کو قرارداد پاکستان یا قرارداد لاہور کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے. دو قومی نظریے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا.جو ایک حقیقت پر مبنی ہیں کہ ہندو اور مسلمان کئی ہزار سال تک ایک ساتھ رہے پر ان کے درمیان مذہبی ، معاشرتی اور ثقافتی اقدار ہمیشہ سے الگ رہے ہیں. ہمارے بزرگوں نے کئی صدیوں ان ہندوؤں کے ساتھ اپنی زندگیاں گزاریں ہیں اور ان کے رویوں اور پیٹ پیچھے وار کی خصلت سے اچھی طرح واقف بھی تھے. تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہندوؤں کو موقع ملا انہوں نے مسلمانوں پر وار کیا.
مسلمان اور ہندو ایک ہی ندی کے دو کنارے ہیں جو کبھی نہیں مل سکتے. جب بھی ہندوؤں کو اقتدار یا طاقت ملی انہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا.انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کئی تحریکیں چلائی جس میں مسلمانوں کو جبری طور پر اپنا مذہب تبدیل کر کے ہندو مت میں شامل ہونا ، اردو زبان کی جگہ ہندی مقرر کرنا، قربانی پر پابندی لگادینا غرض کہ تعلیم کا میدان ہو ،تجارت کا میدان ہو یا سیاسی میدان ہر جگہ مسلمانوں کو دبایا گیا.یہی وہ وجوہات تھی جن کے باعث برصغیر کے مسلمانوں میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ ہزار سال تک بھی ہندؤں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے باوجود بھی ان کی نفرت اور تعاصب کا شکار بن رہے ہیں تو انہیں ایک قوم سمجھنا بہت بڑی غلطی ہوگی. اور اب کشمیر کو ہی دیکھ لیں انڈیا جو کچھ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے اس سے پوری دنیا واقف ہے . مگر ہم ہیں جنہیں کچھ نظر نہیں آتا یا یوں کہیے کہ ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے .
ہمارے بزرگوں نے ہندوؤں کے ساتھ رہ کر ان کے رویے دیکھنے کے بعد ایک الگ ملک کا خواب دیکھا اور اپنی انتھک محنت اور جدوجہد کے بعد اس خواب کو تعبیر میں بدلنے میں کامیاب ہوئے. لیکن افسوس کہ آج ہم اپنی آزادی کی قدر کھو بیٹھے ہیں. جہاں ہمارے بزرگوں نے ہندؤوں کے متعصبان رویے کے بعد دو قومی نظریہ پیش کیا اور آج ہم دو قومی نظریے کی نفی کرتے ہوئے انہی لوگوں کے سامنے محبت اور دوستی کے لیے ہاتھ پہلاتے ہیں. آج ہمارے نوجوان اردو سے نا آشنا ہیں جب کہ ہندی اور رومن زبان کو ملا کر اپنی زبان کا بیڑہ غرق کردیا ہے. دوسروں سے متاثر ہو کر ڈراموں اور پراگراموں میں فحاشی عام کردی گئی ہے . آج کی نسل اپنی قوم کی رسومات کے بارے میں کم اور باقی قوموں کے ثقافت و روایات سے ذیادہ اچھے طریقے سے واقف ہے. اور بد قسمتی سے اسے قوم کی ترقی سمجھا جا رہا ہے.
قاعداعظم نے ایک خطاب میں یہ بھی فرمایا تھا : ’ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایک ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں.‘
مگر ہم کس کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں اس کا جواب ہم سب جانتے ہیں پر اقرار کرنے کی ہمت نہیں رکھتے . آج ہی کا واقعہ ہے ایک طرف مسجد میں مولانا صاحب اللہ اکبر کی صدائیں دے رہے تھے اور دوسری جانب ساتھ ہی گھر سے گانوں کی زور دار آوازیں سنائی دے رہی تھیں.
کیا انہی سب کے لیے آزادی حاصل کی گئی تھی ؟ کیا یہی ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان؟
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی اصلاح کریں اور مل کر اپنے وطن عزیز پاکستان کیخلاف دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنائیں.
’خدا کرے کہ میرے ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *