اسلامی جمعیت طلبہ، افکار وکردار

abdul-rauf-khan

جب میں اسلامی جمعیت طلبہ میں ہوتا تھا تو یہ نعرہ بہت مقبول تھا کہ وحدت کا پرچار جمعیت، سید کا کردار جمعیت(سید کے کردار سے مُراد مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ہیں)۔ مودودی افکار  جمعیت، شجر سایہ دار جمعیت وغیرہ وغیرہ۔

جمعیت میں یہ بات اچھی طرح سے سکھائی جاتی تھی کہ آپکی مخالف طلبہ تنظیم وہ چاہے، انجمن طلبہ اسلام ہو، مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن ہویا پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن ہویا کوئی اور یہ سب کی سب جماعتیں صرف اور صرف اللہ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کا راستہ روکنے والی جماعتیں ہیں۔ نام چاہے انکا اسلام سے شروع ہوکر اسلام پہ ہی ختم کیوں نہ ہوتا ہویہ سب کی سب استعماری ایجنٹس ہیں اور انکے خلاف کام کرنا عین شریعت اسلامی کی اصل روح کے برابر ہے۔ لہٰذا ہم جمعیت والے طرح طرح کے حربوں کے ذریعے انکے پروگرامات کو تباہ وبرباد کردیتے تھے۔ اگر یہ سیرت کانفرنس کرواتے تو ہم درس قرآن کی آڑ میں اپنی جماعتی سیاست کو چمکاتے تھے۔ بے شک پروگرام میں درس قرآن بھی ہوتا تھا لیکن جماعتی تڑکے کے ساتھ ہوتا تھا۔ درس قرآن میں کہیں بھی یہ بات نہیں بتانے کی کوشش کی جاتی تھی کہ وہ جو باقی طلبہ تنظیمیں ہیں وہ بھی ہماری طرح کی سچی اور پکی اسلام پسند جماعتیں ہیں اور ساری کی ساری اُسی طرح سے ہی محب وطن ہیں جیسا کہ ہماری اپنی اسلامی جمعیت طلبہ۔

یہ سارے باتیں مجھے 21 مارچ کو پنجاب یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہونے والے ایک جھگڑے کی خبر پڑھنے کے بعد یاد آئیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ کچھ پشتون طلبہ نے 21 مارچ کو پشتون کلچر کے نام سے ایک چھوٹا سا پروگرام منعقد کررکھا تھا۔ لیکن ان پشتون طلبہ نے پنجاب یونیورسٹی کی اصل قابض اسلامی جمعیت طلبہ سے نہ تو اجازت طلب کی اور نہ ہی کوئی ایسا موقع دیا کہ وہ انکے پروگرام کو ہائی جیک کرلیں۔ کچھ دوستوں کے لئیے یہ ہائی جیک کی اصطلاح بالکل نئی ہوگی لیکن ہم جماعتئیے اس اصطلاح سے نہ صرف بخوبی واقف ہیں بلکہ ہمیں اس فن میں خاص مہارت حاصل ہے کہ کسی کے بھی پروگرام کو ہم اپنی ایک تقریر سے ہائی جیک بھی کرلیتے ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں دوریاستیں قائم ہیں۔ ایک ریاست یونیورسٹی انتظامیہ ہے جبکہ دوسری ریاست اسلامی جمعیت طلبہ ہے۔ ہاسٹل انکے قبضہ میں ہیں جہاں پر مختلف غیرقانونی ساتھی بھائی بھی رہتے ہیں۔ بلکہ پچھلے چند سالوں میں تو القاعدہ سے لیکر تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد بھی انہی ہاسٹلز سے پکڑے جاچکے ہیں۔ یونیورسٹی کے اکثر ڈیپارٹمنٹ پر انکا قبضہ ہے۔ جان بوجھ کر مختلف کالجز سے اور یونیورسٹیوں سے اپنے نظریاتی ارکان کے داخلے کروائے جاتے ہیں اور اس طرح سے قبضہ کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ ہر نئے آنے والے ساتھی بھائی کے ساتھ ہی یہ قبضہ آئندہ دوسے چار سالوں تک مزید پکا ہوجاتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں جب بھی کبھی کسی مخالف طلبہ تنظیم نے اپنا پروگرام منعقد کرنے کی کوشش کی ہے تو اُن کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ وجہ صرف یہی ہے کہ یونیورسٹی کے اندر جمعیت کی صورت میں ایک ریاست قائم ہے جسے کسی بھی مُخالف طلبہ تنظیم کا وُجود ہی منظور نہیں ہے۔ اس جمود کو توڑنے کی باربار کوشش کی گئی لیکن جمعیت کی طرف سے بہت سخت مزاحمت ہوئی ہے۔ ایک دفعہ تو تحریک انصاف کے چئیرمیں عمران خان بھی جزباتی ہوکر انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے پروگرام میں شرکت کے لئیے چلے گئے لیکن فوری طور پر جمعیت کے ریاستی عناصر حرکت میں آئے جن میں تحریک انصاف کے موجودہ میڈیا پرسن فیاض الحسن چوہان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے عمران خان کو تھپڑ مارے، گریبان سے پکڑا اور گھسیٹے ہوئے آئی ای آر کے ڈیپارٹمنٹ میں لے گئے اور ایک کمرہ میں لے جاکر بند کردیا۔ انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے جتنے کارکنان تھے سب کو انہوں نے مارا اور بھگادیا۔ اُس واقعے کے بعد میڈیا میں جمعیت کی اس بدمعاشی کو بہت لتاڑا گیا اور انکے غلط اقدام کی وجہ سے امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب قاضی حُسین احمد مرحوم کو باقاعدہ معذرت بھی کرنی پڑی۔ اس کے ساتھ ہی قاضی صاحب نے کہا کہ جنہوں نے یہ احکامات دئیے ہیں اُن کو بھی جمعیت سے فارغ کیا جائے۔ لیکن اندر کی کہانی یہ ہے کہ عمران خان کا آپریشن کرنے کا حُکم اُس وقت کے اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ نے دیا تھا۔ لیکن ناظم اعلیٰ کو بچانے کے لئیے یونیورسٹی کے ناظم کو ہٹا دیا گیا اور چند ایک چھوٹے عہدیداروں کو بھی فارغ کردیا گیا۔ اتنا کچھ ہوگیا لیکن افسوس اُس واقعے سے آج بھی انہوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

22 دسمبر 2011 کو جب امامیہ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن نے حضرت امام حُسین ریلی نکالنے لگے تو اسلامی جمعیت طلبہ نے اُن ہر حملہ کردیا اور اُن کے آٹھ کارکنان کو شدید زخمی کردیا گیا۔

اسی طرح سے ایک دفعہ جماعت الدعوہ کے طلبہ ونگ نے پروگرام کرنا چاہا تو اُن کے پروگرام کو بھی نیست ونابود کردیا گیا اور ایک دوسرے پر سنگ باری کرتے رہے۔

11 دسمبر 2015 کو ایک طالبہ اور اُس کا کلاس فیلو اکھٹے بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ جمعیت کے ساتھی بھائی آگئے اور اُنہیں کہا کہ آپ اس طرح سے اکھٹے نہیں بیٹھ سکے یونیورسٹی کا ماحول خراب ہورہا ہے۔ لڑکا اپنی ضد پر اڑ گیا اور وہ جمعیت کے کارکنوں کے ساتھ لڑپڑا۔ اس طرح سے اُس طالب علم کے بہت سے کلاس فیلو بھی حمایت میں آگئے اور یوں پوری یونیورسٹی میں ایک واقعے کی بنیاد پر ہر طرف سے ٹولیوں کی صورت میں طلباءوطالبات جمعیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور کئ گھنٹے سینکڑوں طلباء وطالبات نے جمعیت کی اس غنڈہ گردی کی بھرپور مذمت کی۔ یقینی طور پر یہ پہلا واقعہ تھا جہاں جمعیت  کو ہر طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور اتنے سخت ردعمل کی جمعیت کو بالکل بھی اُؐمید  نہ تھی۔

اگر اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان واقعی وحدت کا پرچار کہلوانا چاہتی ہے تو مجھے یہ حق ہے ان سے پوچھنے کا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جب بھی یونیورسٹی میں داخلے شروع ہوتے ہیں تو کسی اور طلبہ تنظیم کو خوش آمدید کے بینرز اور طلبہ کی رہنمائی کے کیمپ لگانے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟

اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کے لئیے اگر یونیورسٹی کے اساتذہ رکاوٹ بنے تو اُنہیں بھی دھو ڈالا گیا۔ مرداساتذہ تو دُور کی بات خواتین اساتذہ کے ساتھ بھی سخت بدتمیزی کی جاتی تھی جنکی مثال شعبہ فلسفہ کی ایک اُستاد سحرین بخاری ہے۔ جس کے رد عمل میں شعبہ فلسفہ کے طلباء نے سخت احتجاج کیا۔ لیکن اُسی رات احتجاج کرنے والے طالب علموں کو یونیورسٹی کے ہاسٹل نمر7 سے باہرنکال کر پیٹا گیااور ساتھ ہی ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس کی زد میں ایک اسٹنٹ سپرٹنڈٹ آکر شدید زخمی ہوگئے جبکہ ہاسٹل کے سپرٹنڈنٹ شاہد گل پر بھی ریوالور تان کر ڈرایا اور دھمکایا گیا۔ اساتذہ کی مختلف جمعیت مخالف پریس ریلیز آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

میں نے اپنے مضمون کے شروع میں چند نعرے لکھے ہیں یقین مانئیے اسلامی جمعیت طلبہ اِن نعروں کے اُلٹ چلتی ہے۔ وحدت کا پرچار نعروں کی گونج میں باقی ہے اس وحدت میں مخالف طلبہ تنظیم بالکل بھی شامل نہیں ہے۔ سید کا کردار  جمعیت کا نعرہ بھی اُسی جوش کے ساتھ لگایا جاتا ہے لیکن افسوس اس طرح کا طرز عمل تو مولانا مودودی کے کردار میں تھا اور نہ ہی افکار میں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ مولانا کوثر نیازی مرحوم نے مولانا مودودی کی بیٹیوں کے بارے میں ایک مضمون میں انتہائی نازیبا کلمات لکھے تھے۔ لیکن جواب میں مولانامودودی نے صرف صبر کیا اور اُنکی اُس دشنام طرازی کو نظر انداز کیا۔

جمعیت کو شجرسایہ دار بھی کہا جاتا ہے۔ شجر سایہ دار کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے نیچے کسی دوسرے اُگنے والے پودے کو کبھی بھی بڑھنے نہیں دیتا۔ پتہ نہیں کہاں سے یہ نعرہ لے لیا جو جمعیت کی روح کے بالکل اُلٹ ہے۔

جہاں جمعیت میں بے شمار خامیاں ہیں وہاں اس طلبہ تنظیم میں کچھ خوبیاں بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں اور انکی ان خوبیوں کا ذکر نہ کرنا تعصب سے خالی نہ ہوگا۔  جمعیت نے یونیورسٹی اور کالجز میں نئے آنے والے طلبہ کو فولنگ کرنے کی بجائے اُنہیں خوش آمدید کہا ہے اور داخلہ فارم بھرنے سے لیکر داخلے اور ہاسٹل کے کمرے کی الاٹمنٹ تک یہ ساری سروسز فری مہیا کرتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی مین شاپنگ سنٹر اور جہاں جہاں بھی مختلف فروٹ شاپس، سٹیشنری وغیرہ کی دُکانیں ہیں وہ بہت سستی ہیں اور قیمتیں مارکیٹ سے بہت کم ہوتی ہیں جس کا فائدہ طلباء وطالبات کو بہت ذیادہ ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ بہت سے سپورٹس گالا بھی منعقد کرواتی ہے اور جیتنے والوں کو انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ ہر سال ایک بہت بڑے کتاب میلے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں شہریوں کی ایک کثیر تعداد بھی شرکت کرتی ہے۔

یونیورسٹی میں فیسوں کے اضافے کے خلاف جمعیت ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ یونیورسٹی میں کسی طالب علم یا طلباء کے کسی گروہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ کسی بھی طالبہ کو چھیڑ سکے۔ اس لحاظ سے طالبات کے لئیے ایسا محفوظ ماحول بہت آئیڈیل ہے۔

میں آخر میں یہ وضاحت ضرور دینا چاہوں گا کہ میں جمعیت کے سبھی لوگوں کا دل سے احترام کرتا ہوں اور مجھے جمعیت کے توسیع پسندانہ خیالات سے اختلاف ہے۔ مجھے جمعیت کے قانون کو ہاتھ میں لینے پر اختلاف ہے اور اپنے مطالبہ کو بزورطاقت منوانے سے اختلاف ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *