پاکستان کی سیر ایک غیر ملکی کی نظر سے۔۔

will haitanوِل ہیٹن

پاکستان میں مختلف جگہوں کی سیر کرنا ایک بڑا خوبصورت تجربہ ہے۔ یہ ایسا ملک ہے جو بہت سوں کو حیران کرتا ہے اور بہت سے دلوں کو چھو لیتا ہے۔ پاکستان میں اس تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے اور ایک دن ہمیں یہ سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔

جب میں پاکستان کی سیر کے لیے نکلنے والا تھا تو  مجھے نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ کس چیز کی توقع کی جائے۔ میرے ملک سے پاکستان میں سفر کرنے کے لیے ہدایات بہت مایوس کن ہیں اور ہر طرف سرخ رنگ کا  کراس نظر آتا ہے۔ میڈیا نے اس ملک کو بہت خطرناک بنا کر پیش کیا ہے اور پاکستانی اس بات سے باخبر ہیں۔ میں جہاں بھی جاتا ہنستے کھیلتے چہرے اور مددگار لوگ میرا استقبال کرتے۔ سستے سفری ذرائع، بہت سے پیدل چلنے کے راستے، خوبصورت پہاڑ یہ سب چیزیں بہت  اچھے تجربے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی صورتحال اب بہت بہتر ہو چکی ہے۔ افغانستان کے بارڈر پر موجود علاقوں کے علاوہ  زیادہ تر علاقے محفوظ ہیں۔ کہیں کہیں مفت میں پولیس اہلکار بھی ساتھ بھیج دیے جاتے ہیں ۔ یہ لوگ تو اور بھی زیادہ دوستانہ طبیعت کے ہوتے ہیں۔

کبھی کبھار نئے علاقے میں پہنچ کر پولیس مشورہ دیتی ہے کہ ہوٹل میں رکا جائے۔ پاکستان کے زیادہ تر ہوٹل مہنگے ہوتے ہیں اور بہتر ہوتا ہے کہ ان سے بچا جائے۔ میں نے اس ملک میں خود اپنے راستے ڈھونڈے ۔ دی کراکرم کلب کے کچھ دوستوں نے مجھے وہ علاقے بھی دکھائے جہاں کبھی بم دھماکے ہوئے تھے۔ پاکستان کے لوگ بہت سخی ہیں اور آپ کو بہت کھانے اور چائے پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں جو میں نے دوست بنائے وہ میرے بہت قریبی ساتھی ہیں ۔ پاکستانیوں میں حس مزاح بہت زیادہ ہے  اور بہت سے pakistan 3لوگ  ایڈوینچر کے بہت شوقین نظر آتے ہیں۔

پاکستان جانے میں سب سے بڑی مشکل ویزا کا حصول ہے۔ زیادہ تر ممالک کے لوگ متعلقہ سفارت خانے سے ویزا حاصل کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ روڈ پر سے ویزا حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کا ویزا مہنگا بھی ہے ۔ برطانوی شہریوں کے لیے پاکستانی ویزا 100 پاونڈ میں ملتا ہے۔ ویزا کی درخواست کرنے سے پہلے پاکستان کی ٹور ایجنسی سے دعوت نامہ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس خط میں پاکستان ٹور  ایجنسیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ آپ کی حفاظت کی ضمانت دے رہی ہیں۔ بہت سی پاکستانی کمپنیاں آن لائن بھی خدمات فراہم کرتی ہیں لیکن یہ کمپنیاں بہت مہنگی ہیں ۔

pakistan 1پاکستان کی ٹرانسپورٹ

پاکستان میں سفری ذرائع کی کمی نہیں ہے۔ لوکل ناردرن ایریا ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں بہت اچھی ہیں لیکن اگر آپ زیادہ آرام دہ سفر کرنا چاہتے ہیں توڈیوو بس میں جا سکتے ہیں۔ میں نے ایک ڈیوو منی بس کے اندر جا کر دیکھا تو اسے بہت ہی آرام دہ پایا۔ پاکستان میں پیدل سیر کرتے وقت جو مسئلہ درپیش آتا ہے وہ پولیس چیک پوائنٹ ہیں۔ جب آپ  دور دراز کا سفر کر رہے ہوتے ہیں خاص طور پر اسلام آباد سے گلگت جا رہے ہوں راستے میں 11 بار شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی جمع کروانی پڑتی ہے۔ اگر آپ کے
پاس کاپی نہ ہو تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور آپ کو رکنا پڑ سکتا ہے۔

 کسی خاص جگہ کی سیر کے لیے کار اور ڈرائیور کی خدمات لینی پڑ سکتی ہیں جو پاکستان میں بہت مہنگی ہیں۔ ہنزا اور چین کے بارڈر کی سیر کے لیے کار اور ڈرائیور کو ایک دن کے لیے بک کیا جائے تو 80 سے 90 ڈالر کا خرچہ آتا ہے۔ میری رائے میں بہتر یہ ہے کہ موٹر سائیکل کرایہ پر اسلام آباد سے لی جائے تو یہ 1500 روپے یومیہ اخراجات تک محدود  رہتی ہے۔ پاکستان میں اسلام آباد سے گلگت تک فلائیٹ لی جائے تو 80 ڈالر خرچہ آتا ہے اور راستے میں پیش آنے والے  مسائل سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے۔

رہائش

پاکستان میں زیادہ تر رہائشی خدمات بہت مہنگی ہیں اور ایک کم بجٹ والے شخص کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑت سکتا ہے۔ کئی بار پولیس مجھے خود کسی ہوٹل میں لے جاتی اور وہیں رہنے کی تاکید کرتی۔ کئی بار اس چیز سے بچ بھی جاتا لیکن زیادہ تر ایسا نہیں کر پاتا تھا۔ آف سیزن میں کئی جگہوں پر ہوٹل صرف 500 روپے میں بھی رہائش دینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ میری رائے ہے کہ  پاکستان میں جہاں ممکن ہو بس پر سفر کریں وہاں آپ کو بہت اچھے لوگ ملیں گے۔ اپنے ساتھ ٹینٹ بھی رکھیں تو بہتر ہو گا۔

مصروفیات

پاکستان میں خوبصورت پہاڑی علاقوں میں داخلہ بلکل فری ہے۔ اگر آپ شہر کی یادگار جگہوں کی سیر کریں تو ایک غیر ملکی کو 250 روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اگر آپ کو کسی گائیڈ کی ضرورت ہو تو 500 سے 1500 میں ایک دن کے لیے آپ یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ مجھے اس چیز کی ضرورت اس لیے نہیں پڑی کہ مجھے کچھ اچھے لوگ مل گئے جنہوں نے خود میری مدد کی اور ساری اچھی جگہوں کی سیر کروائی۔

pakistan 2اکیلے سیر کرنا اور گروپ کے ساتھ سفر کرنا

پاکستان میں اکیلے سیر کرنا بھی اچھا تجربہ ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ تکلیف دہ ہو سکت اہے۔ پاکستان کو اوپن اپ کرنے کےلیے میں نے 'بروک بیک پیکر اینڈونچر ٹور' پروگرام کا آغاز کیا ہے  تا کہ یہاں آنے والے لوگوں کو خوبصورت علاقوں کی سیر کروائی جا سکے۔

رابطے میں رہنا

پاکستان میں وائی فائی کی عدم موجودگی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے  خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں موجودگی کے وقت انسان اکثر لوگوں سے رابطہ رکھنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ اس مشکل سے بچنے کےلیے بہتر ہے کہ پاکستانی سم کارڈ خرید لیں اور میری رائے میں زونگ کی سم خریدیں اور اس پر زیادہ سے زیادہ ڈیٹا رکھ لیں۔ اپر ہنزہ وادی کے علاقہ میں ٹیلینار سب سے بہترین کام کرتا ہے۔

پاکستان کے کن علاقوں کی سیر کی جائے؟

لاہور

پاکستان کا پیرس اور سب سے بہترین اور خوبصورت شہر لاہور ہے۔ یہاں کے رنگ، آوازیں، خوشبوئییں، بائیک پر سواری، دوستوں کی معیت یہ سب چیزیں بہت ہی مزیدار ثابت ہوتی ہیں۔ لاہور کی سیر کرتے وقت بادشاہی مpakistan 4سجد کو دیکھنا مت بھولیں۔ یہ دنیا کی ساتویں بڑی مسجد ہے جہاں 100000 کے قریب لوگ اکھٹے نماز پڑ سکتے ہیں۔ پاس ہی لاہور میوزیم ہے جہاں حضور ﷺ کے زمانے کی بہت سی اہم چیزیں موجود ہیں۔ بادشاہی مسجد بہت ہی خوبصورت ہے۔ یہ بہت خاموش اور پرامن جگہ ہے۔ شام کو یہاں روشنیاں جگمگاتی ہیں۔ میری رائے میں یہاں شام کو جانا بہتر ہوتا ہے۔ لاہور فورٹ بھی بہت خوبصورت جگہ ہے۔ شام کو اگر آپ صوفی ڈانس سے لطف اندوز ہونے کی خواہش رکھتے ہوں تو  ہر جمعرات کو بابا شاہ جمال کے دربار پر ایک ایسی ہی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ لاہور میں دیکھنے کی ہر چیز ہے۔

اگر لاہور میں رہائش اختیار کرنی ہو تو وہاں کوچ سرفنگ ہوسٹ کی خدمات لی جا سکتی ہیں جو میرا کراکرم کلب کا دوست ہے۔ یا آپ lets go to Pakistan کا رخ کریں جو ایک ایسا گھر ہے جو پردیسیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ لاہور بیک پیک ہاسٹل بھی ایک اچھی جگہ ہے جہاں آپ صرف کچھ روپے خرچ کر کے وقت گزار سکتے ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد پہنچنے کےلیے بس میں 5 گھنٹے
کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

pakistan 5قلعہ روہتاس

یہ بہت بڑا قلعہ لاہور سے اسلام آباد کے راستے میں آتا ہے۔ آپ ایک دو گھنٹے میں اس قلعے کی خوبصورتی سے لطف انداز ہو سکتے ہیں۔ میں وہاں کیمپ لگانے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن وہاں کے سکیورٹی گارڈز نے کسی صورت مجھے اجازت نہیں دی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہاں میں جنگلی جانوروں کی خوراک بن سکتا ہوں۔ میں نے کچھ لوکل پاکستانیوں سے لفٹ مانگی جنہوں نے مجھے ڈنر کروانے کے بعد گیسٹ ہاوس پہنچا دیا۔

اسلام آباد

پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد بہت ہی صاف ستھرا اور خوبصورت شہر ہے۔ یہاں آپ صرف 3000 روپے میں ہاروے گیسٹ ہاوس میں سکونت اختیار کر سکتے ہیں۔ سینٹارس شاپنگ مال سے آپ ہر چیز خرید سکھتے ہیں ۔ اگر آپ اسلام آباد ائیر پورٹ پر اتریں تو 800 روپے میں ٹیکسی آپ کو شہر پہنچا دیتی ہے۔ اسلام آباد کے قریب بہت ہی سر سبز علاقےpakistan 6 ہیں جہاں پک نک کے بہت سے مواقع اور جگہیں ہیں۔ یہاں کی سیر آپ کسی بھی ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد سے آپ شمال کی طرف چلیے ۔

 اس علاقے میں بہت ہی خوبصورت پہاڑ ، درخت اور دوسرے مناظر ہیں۔ ان علاقوں میں گرمیوں میں بھی موسم معمول کے درجہ حرارت میں رہتا ہے اور گرمی نہیں پڑتی۔ اسلام آباد سے گلگت پر بس کا ٹکٹ 1300 روپے ہے اور 18 گھنٹے کا سفر ہے۔ اپنے ساتھ شناختی کارڈ کی بہت ساری کاپیاں رکھنا مت بھولیے۔ کوشش کریں کہ آپ کو فرنٹ پر دائیں سائیڈ والی سیٹ ملے تا کہ آپ قراقرم ہائی وے کی خوبصورتی  سے لطف اندوز ہو سکیں۔

pakistan 8گلگت

گلگت پہنچتے ہی آپ کو پولیس سے پالا پڑے گا  جو آپ کو ایک خاص ہوٹل میں رکنے کا کہے گی۔ میں نے 200 میں ٹیکسی لی جس نے مجھے شہر کے بیچ ایک اچھے ہوٹل پر اتارا جہاں مجھے وائی فائی کی سہولت والا کاکمرہ بھی 1000 روپے میں مل گیا۔ وہاں اس سے سستے کمرے بھی دستیاب تھے لیکن مجھے وائی فائی کی بہت ضرورت تھی  تا کہ میں سکائپ کے ذریعے انڈین ویزا حاصل کر سکوں۔

پاس ہی موجود اوکے ریسٹورینٹ میں بہت مزیدار تکے دستیاب تھے۔ گلگت میں اگر آپ کے ساتھ کوئی دوست نہ ہو تو آپ زیادہ دیر نہیں گزار سکتے ۔ مجھے ایک دوست مل گیا جس سے مجھے پورا دن علاقوں کی سیر کروائی اور شام کو اپنے دوستوں کےساتھ اچھا  وقت گزارنے کےلیے کہا۔ گلگت سے بس کے ذریعے بہت سے شہروں تک سفر کیا جا سکتا ہے۔ کہیں بھی جانے کےلیے البتہ آپ کو گلگت سے ہی گاڑی پکڑنی ہو گی۔ مجھے گلگت کا علاقہ پسند نہیں ہے۔ یاد گار چوک میں ایک ویزا آفس ہے ۔ یہاں سے آپ اپنا ویزا تین دن تک بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو اپنا پاسپورٹ دو تصاویر، اور گیسٹ ہاوس سے ایک لیٹر مہیا کرنا ہو گا۔ گلگت میں ایک ایئر پورٹ بھی ہے۔

گلگت میں پیدل سیر کرنے کے لیے آپ قاسم علی کی مدد لیجیے جو بہت اچھی انگریزی بولتا ہے۔ وہ آپ کو سکردو تک سفر کرنے کی سہولت بھی مہیا کرسکتا ہے۔ انہوں نے مجھ سے ایک دن گائیڈ کرنے کے بعد بھی کوئی رقم نہیں لی۔ میں نے اس کو اس کے بدلے ڈنر کی پیش کش کی ۔ پاکستان کے لوگ اس قدر مہربان ہیں کہ انہیں کسی بھی چیز کے لیے ادائیگی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گلگت میں بہت سے کوچ سرفر ملتے ہیں۔

خوبصورت سر سبز میدان

گلگت سے رائیکوٹ جانے کے لیے منی بس 200 روپے لیتی ہے ۔ وہاں پولیس آپ کا استقبال کرتی ہے اور آپ کے کاغذات کی چیکنگ ہوتی ہے۔ وہاں سے پہاڑی علاقے کی سیر کےلیے جیپ لینا پڑتی ہے جو  ایک دن کے سات ہزار روپے لیتی ہے اور اس میں 6 سواریاں سفر کر سکتی ہیں۔ وہاں کےجیپ مالکان اصرار کرتے ہیں کہ غیر ملکی لوگ مقامی لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہوں۔ پولیس کی مدد سے مجھے ایک جیپ میں جگہ مل گئی۔ آپ ہمیشہ بائیں سائیڈ پر بیٹھیں تو آپ کو زیادہ مزیدار سفر لگے گا۔ وہاں سے تین گھنٹے چل کر آپ فئیر میڈو میں پہنچ سکتے ہیں۔ اگر آپ فٹ ہیں تو پیدل جانا بہتر ہے ورنہ 1000 روپے میں گھوڑے پر بھی جا سکتے ہیں۔ فئیر میڈو پاکستان کی سب سے خوبصورت جگہ ہے اور یہاں آپ سستے داموں کیمپنگ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن یہاں کمرے بہت مہنگے ہیں اور ایک رات گزارنے کےلیے 2 ہزار سے 7 ہزار روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ نانگا پربت ایک بہت ہی pakistajn 19خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے۔ یہ دنیا کا 9واں سب سے اونچا پہاڑ ہے۔

گل محمد کی مدد سے آپ جیپ اور ہوٹل میں جگہ باسانی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں کمروں کا کرایہ 2 ہزار روپے تک ہے۔ فئیر میڈو میں آپ کم سے کم قیمت کا کھانا بھی 500 روپے میں خرید سکتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ آپ سامان ساتھ لائیں اور خود کھانا بنا لیں۔ یہاں آپ کئی دن گزار سکتے ہیں۔ میں یہاں فروری کے ماہ میں گیا تھا اس لیے وہاں بہت ٹھنڈ تھی۔ یہاں آنے کا بہترین وقت مارچ یا نومبر کا مہینہ ہوتا ہے۔ یہاں زیادہ تر بجلی نہیں ہوتی۔ صرف ایک جگہ پر موبائل کے سگنل آتے ہیں۔ یہاں اکثر ایک پولیس افسر آپ کے ساتھ موجود ہو سکتا ہے۔ وہ آپ کو گائیڈ بھی کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں 500 روپے کی ٹپ دینی پڑتی ہے۔ میں اگست 2016 میں ایک بار پھرpakistan 11 فئیر میڈو دیکھنے گیا ۔ فوٹو گرافی کے شوقین افراد کےلیے بہتر ہے کہ بیال کیمپ میں رک جائیں۔

کریم آباد گلگت سے 2 سے ڈھائی گھنٹے کی بس مسافت پر واقع ہے۔ یہاں رکنے کےلیے پرانی 'ہنزا اِن ' بہترین جگہ ہے جہاں سے خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہاں ڈبل روم 800 روپے میں مل سکتا ہے۔ کریم آباد میں آپ الطیت فورٹ اور بلطیت فورٹ کی سیر کر سکتے ہیں۔ یہاں سے چین جانے والی شاہراہ ریشم بھی واضح نظر آتی ہے۔ یہاں آپ کئی دن تک خوبصورت مناظر دیکھ سکتے ہیں۔

pakistan 10ایگلز نیسٹ

ہنزہ کی ایک خوبصورت جگہ ایگلز نیسٹ ہے جہاں آپ اپنا ٹینٹ لگا سکتے ہیں۔ یہاں آپ اپنا ٹینٹ 2000 روپے یومیہ کرایہ پر بھی دے سکتے ہیں۔ یہاں پہنچنے کےلیے 25 منٹ لگتے ہیں اور 1500 روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ وہاں آپ میرے دوست رحمان کے پاس  گلکِن نامی گاوں میں رکیں۔ یہ بہت خوبصورت جگہ ہے اور قریب بھی ہے۔ یہاں کیمپنگ کی بے تحاشا جگہیں موجود ہیں اور گلیشیرز بہت خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں۔ گلکِن گاوں گلگت سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہاں جاتے ہوئے راستے میں آپ عطا آباد جھیل کا نظارہ بھی کر سکتے ہیں جو دنیا کی سب سے نیلی جھیلوں میں سے ایک ہے۔ رحمان کے خاندان کے لوگ بہت اچھے طریقے سے مہمان نوازی کرتے ہیں ۔ یہاں آپ ہر شخص کو 10 سے 20 ڈالر ڈونیشن دے کر 4 دن گزار سکتے ہیں۔ یہاں کی خشک خوبانی چکھنا مت بھولیے گا۔

خنجراب پاس

دنیا کا سب سے اونچا بارڈر اور انسانی انجینیرنگ کی سب سے اعلی مثال پاکستان اور چین کے بpakistan 9ارڈر پر موجود سڑک ہے  جو بہت سی پہاڑیوں پر سے گزرتی ہے ۔ یہاں کی سیر کےلیے کار کرائے پر لینا بہت مہنگا پڑتا ہے ۔ ایک دن کے لیے کار 8 ہزار روپے میں دستیاب ہوتی ہے۔ یہاں کوئی پبلک ٹراسپورٹ بھی نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ آپ اپنی ٹرانسپورٹ کا پہلے سے خود بندوبست رکھیں۔ میری رائے میں آپ سوسٹ کو چھوڑ کر حسینی برج، پاسو برج اور پاسو گلیشیر پر رکنے کو ترجیح دیں۔

پاسو بیس کیمپ

اس علاقے کی سب سے بہترین جگہ پاسو بیس کیمپ ہے یہاں جانے کےلیے آپ کو گائیڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس لیے میری رائے میں رحمان کو ساتھ لے جائیں۔

سکردو

پاکستان کے بہت سے سیاح سکردو میں سیر کرنے آتے ہیں۔ یہ بہت خوبصورت جگہ ہے۔گلگت سے 5 گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد یہاں پہنچا جا سکتا ہے  جس پر 500 خرچ آتا ہے۔ سکردو میں ایک ہوائی اڈہ بھی ہے۔ یہاں مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ یہ پہلی جگہ ہے جہاں مجھے لگا کہ مقامی لوگ غیر ملکیوں کو لوٹنے کے لیے یہاں جمع ہیں۔ یہاں جتنا ہو سکے کم وقت گزاریں۔ رکنا ہو تو دیوان خاص ریسٹورینٹ میں رکیں ۔ یہاں صرف 18 سو روپے میں ایک دن گزارا جا سکتا ہے۔ آس پاس کچھ سستے ذرائع بھی ہیں لیکن یہ ہوٹل pakistan 13سب سے بہتر ہے۔ مباشرم ہوٹل مہنگا اور گندا ہے لیکن یہاں سے بہت خوبصورت مناظر نظر آتے ہیں۔

یہاں پہنچ کر کھپلو فورٹ اور اپر کچورا لیک کو دیکھنا مت بھولیں۔ یہاں کے لوکل ریسٹورینٹ میں آپ مچھلی سے لطف اندو ز ہو سکتے ہیں۔ سکردو بہت خوبصورت پتھروں اور کرسٹل مائن کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ ان میں سے کچھ کانوں میں جانا بھی ممکن ہے اور یہاں قیمتی پتھر بہت کم قیمت پر ملتے ہیں۔

کے ٹو ٹریک

اگر آپ کے ٹو کے بیس کیمپ کا رخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو  اس کے لیے کم سے کم 4 دن مختص کریں۔ یہاں سے آپ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ یہ لطف آپ صرف ڈیڑھ لاکھ میں کر سکتے ہیں لیکن  زیادہ تر کمپنیاں اس سے بھی زیادہ پیسے مانگتی ہیں۔ ایڈوانس بکنگ سے گریز کریں  اور سکردو پہنچ کر ہی اس کے انتظامات کریں تو آپ کو بہتر قیمت پر سہولیات مل سکتی ہیں۔

دوسائی نیشنل پارک

جولائی اور اگست کے بیچ آپ دوسائی نیشنل پارک کی سیر کر سکتے ہیں اور اس موسم میں یہ سارا علاقہ خوبصورت پھولوں سے ڈھانپا نظر آتا ہے۔ یہ دنیا کا ایک خوبصورت ترین علاقہ ہے اور یہاں رات گزارنے سے سیر کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ کیمپ لگانے سے پہلے جگہ دیکھ لیں کیونکہ میں جب یہاں رکا تھا تو میرے کیمپ کے صرف 3 میٹر کے فاصلے پر  4 ریچھ موجود تھے۔ دوسائی میں داخل ہونے کے لیے 800 روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔اگر آپ کی اپنی ٹرانسپورٹ ہو تو خرچ کم ہو سکتا ہے۔ جیپ والے بہت زیادہ پیسے لوٹتے ہیں۔ میں نے تین دن اور دو رات کےلیے جیپ لی جو 18 ہزار روپے کے عوض مل سکی۔ ہم نے سکردو سے دوسائی  تک تین گھنٹے کا سفر کیا ایک رات کےلیے وہاں کیمپ میں ٹھہرے اور پھر راما جھیل کا رخ کیا جہا ں ایک بار پھر ہم نے کیمپ لگایا۔ اگلے دن ڈرائیور ہمیں استور لے گیا جہاں سے بس کے ذریعے ہم رائے کوٹ برج پہنچے  اور وہاں سے جیپ لے کر فئیری میڈوز کی طرف چل پڑے۔

وادی ء استور

بہت خوبصورت  پہاڑیوں میں گھرا ہوا وادی استور کا  یہ علاقہ پاکستان کا سوئیزر لینڈ کہلاتا ہے۔ یہاں کی سب سے خوبصورت جگہ راما جھیل اور نانگا پربت ہے۔ نانگا پربت دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑوں میں سے ہے۔ یہاں آپ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ہوٹل کے سامنے کیمپنگ کر سکتے ہیں۔ یہ راما جھیل سے 4 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ اس کیمپنگ کے کوئی اخراجات بھی ادا نہیں کرنے پڑتے۔ چار کلو میٹر فاصلے میں سے دو کلو میٹر جیپ کے ذریعے طے کیے جا سکتے ہیں  لیکن اس کے لیے روڈ کی حالت پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ میری جیپ راستے میں بے حد کیچڑ کی وجہ سے پھنس گئی تھی  اس لیے میں یہی مشورہ دوں گا کہ جیپ کا انتخاب نہ کریں۔

چترا ل اور قلاش کے لوگ

قلاش کے لوگ پاکستان کی سب سے چھوٹی مذہبی کمیونٹی کہلاتے ہیں۔ ہر سال یہ لوگ کچھ رنگ برنگے تہوار مناتے ہیں۔ گلگت سے ناٹکو بس کے ذریعے 14 گھنٹے کے سفر کے بعد سوات پہنچا جا سکتا ہے۔ اس سفر کے دوران pakistan 14آپ خوبصورت علاقے شندور پاس اور مستوج سے گزرناپڑتا ہے۔ مستوج سے آگے جیپ کا 4 گھنٹے کا سفرہے جو چترال تک لے جاتا ہے اور وہاں سے آپ کلاش ویلی کی سیر کرنے کے علاوہ وہاں انجینیر خان اور کلاش گیسٹ ہاوس میں قیام کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ مذہب کی رسومات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کمیونٹی الیگزینڈر دی گریٹ کی آرمی کی نسل میں سے ہے۔

pakistan 17اپ ڈیٹ اب آپ  سوات سے چترال بذریعہ جیپ اور وہاں سے گلگت بذریعہ ناٹکو بس جا سکتے ہیں۔

وادی سوات

پاکستان کی سب سے زیادہ قدامت پسند آبادی والا خوبصورت علاقہ سوات کی وادی ہے۔ یہ ایک بہت خوبصورت وادی ہے اور دنیا بھر کے سیاح یہاں آنا پسند کرتے ہیں۔ یہاں کی تمام خواتین برقعہ پہنتی ہیں  اور زیادہ تر مرد خواتین کا چہرہ نہیں دیکھ پاتے۔ یہاں کے اہم علاقے منگورہ اور سیدو شریف ہیں۔ زیادہ خوبصورتی یہاں کے جنگلات میں ہے۔

ایک وقت تھا جب یہ ویلی بدھ مت مذہب کا مرکز ہوا کرتی تھی اور یہاں آج بھی اس مذہب کی بہت سی علامات موجود ہیں۔ طالبان نے 2009 میں اس شہر پر حملہ کیا اور کچھ ہی عرصہ میں بدھ مت مذہب کے مجسمے توڑ دیے۔ چھ ماہ یہاں رہنے کے بعد پاکستانی فوج نے بہت زیادہ شدت سے لڑ کر طالبان سے اس علاقہ کو آزاد کروایا۔ آج کل یہاں ہر طرف فوجی گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر علاقہ اب محفوظ سمجھا جا رہا ہے۔ یہاں بد مت مذہب کا سب سے بڑا مجسمہ جہان آباد pakistan 18سٹیچو کے نام سے مشہور ہے۔   شام کے وقت اس کو دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے۔

منگورہ جاتے وقت اڈگرام کو دیکھنا مت بھولیں جو ایک پرانی مسجد ہے ۔ اس کے علاوہ مالم جبہ بھی بہت خوبصورت جگہ ہے۔ یہاں آپ برف پر سکنگ کر سکتے ہیں۔ سوات جانے کےلیے آپ کو اپنی ٹرانسپورٹ کی ضرورت پڑے گی  کیونکہ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا فقدان ہے اور ٹیکسیاں حد سے زیادہ مہنگی ہیں۔

سوات میں بہت سےایسے علاقے ہیں  جہاں آج تک کوئی سیاح نہیں گیا ہو گا۔ یہاں میں نے بہت خوبصورت لمحات گزارے اور بہترین مناظر دیکھے۔ بیشگرام جھیل پر میں نے ایک رات وہاں کے مقامی گڈریوں کے ساتھ گزاری۔ وہاں کا سب سے خوبصورت نظارہ کالام اور درال جھیل پیش کرتی ہیں۔ البتہ یہاں فوج کی موجودگی کی وجہ سے ہائیکنگ بہت ہی مشکل ہو جاتی ہے۔

سوات جانے کے لیے این او سی کی ضروت پڑتی ہے اس لیے بہت کم اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔یہاں پہنچنے کےلیے ایک پاکستانی ساتھی کا ساتھ بہت ضروری ہے۔ یہاں سکیورٹی بہت ہی سخت ہے اور ہر طرف مشین گن اور آرمی افسران کی تعداد بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی فوٹو نہیں لے سکتے۔ سوات ویلی بیک پیکرز کے احسان آپ کو این او سی دلوا سکتے ہیں اور آپ کو وہاں رہائش اور سفری سہولیات بھی مہیا کر سکتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ 4 دن رہا۔ احسان ایک کنزرویٹو مسلمان ہیں۔ سوات وادی میں بہت خوبصورت نظارے، سبر سبز گھاس اوررنگ برنگے پھول   کےعلاوہ دل موہ لینے والی جھیلیں بھی ہیں۔

اسلام آباد سے سوات تک ڈیوو بس پر 600 روپے کرایہ اور 6 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ سوات سے براستہ کالام چترال بھی جا سکتے ہیں۔ جیپ اس 10 گھنٹے کے سفر کا 20000 روپے لیتی ہے۔ اگر آپ کا گلگت جانے کا ارادہ ہو تو واپس اسلام آباد مت جائیں  بلکہ pakistan 15منگورہ سے بیشم کی طرف جائیں اور وہاں سے گلگت جانے والی بس پر بیٹھ جائیں۔ اس سے آپ کے 10 گھنٹے بچ سکتے ہیں۔

پاکستان کے کچھ علاقوں جن میں سوات سر فہرست ہے مہذب اور پرانی طرز کا لباس خریدنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ خواتین کو چاہییے کہ اپنے جسم کے ہر حصے کو ڈھانپیں اور مرد شلوار قمیض پہنیں ۔ یہ بہت آرام دہ اوراچھا لباس ہے ۔ یہ صرف سوات کےلیے ہے۔

ویزا کی میعاد بڑھانے کے طریقے

پاکستان کے بہت سے علاقوں میں ویزا میں 2 ہفتے کی مدت بڑھائی جا سکتی ہے۔ میں نے گلگت میں اس سہولت کا فائدہ اٹھا یا اور ایسا کرنے میں صرف 4 گھنٹے لگے۔ لاہور اور سکردو میں بھی ویزا کے دفاتر موجود ہیں۔ آپ باسانی چھ ماہ کی مدت تک کا ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں پہنا جانے والا لباس

پاکستان میں آپ جو چاہیں پہن سکتے ہیں لیکن میرا مشورہ ہے کہ ٹیٹو چھپا کر رکھیں تو بہتر ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ اپنے ساتھ ہیڈ سکارف رکھیں۔ زیادہ تر وقت انہیں یہ پہننا نہیں پڑے گا لیکن پھر بھی احتیاط ضروری ہے۔ سوات میں البتہ آپ کو تھوڑا کنزرویٹو ہونا پڑتا ہے۔ وہاں مرد شلوار قمیض پہنیں یہی سب سے بہتر ہے۔

پاکستانی خواتین

پاکستان میں غیر ملکی خواتین کو بہت عزت دی جاتی ہے ۔ اگر کوئی مسئلہ آئے تو ایک سین پیدا کر دیں۔ ہر طرف سے لوگ آپ کی مدد کےلیے دوڑے چلے آئیں گے۔ اس ملک میں عورتوں سے سلوک کے بارے میں بہت جلد میں ایک آرٹیکل بھی شائع کروں گا جو غیر ملکی خواتین کے انٹرویوز اور آرا پر مشتمل ہو گا۔

مہمان نواز پاکستانی

پاکستانی بہت اچھے اور مہمان نواز لوگ ہیں وہ آپ کو ہر وقت چائےکھانا اور دوسری چیزیں پیش کر کے خوش رکھنے میں ماہر ہیں۔ آپ وہاں کے مقامی لوگوں سے دوستی کرنے کی کوشش کریں۔ میں نے کچھ دوست بنائے اور مجھے اندازہ ہوا کہ پاکستان میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ یہاں لوگ ٹپ نہیں مانگتے لیکن اگر آپ کسی گائیڈ کو ٹپ دینا چاہیں تو  ضرور دیں لیکن اتنی زیادہ نہ دیں کہ دوسرے لوگوں کے لیے مسائل پیدا ہوں۔ کل رقم کا دس فیصد کافی ہو گا۔

پاکستان کی فلائٹس

بہت سے شہروں میں فلائٹس کے ذریعے جا کر وہاں کے خوبصورت پہاڑی علاقوں کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔گلگت اور سکردو جانے والی فلائٹس اکثر تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں اور کئی بار کینسل بھی ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ موسم کی خرابی ہوتی ہے۔ پائیلٹ حضرات کے پاس خوبصورت اے آئی اکوپمنٹ موجود نہیں ہوتے۔

پاکستان کی سکیورٹی

پاکستان دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے اور یہاں کے لوگ بہت ہی دوستانہ،اچھے اور مہمان نواز ہیں۔ یہاں کی آرمی اور پولی آفیسر بھی بہت اچھے اور مددگار ہیں۔ اگر آپ کو کوئی مسئلہ پیش آئے تو قریب ترین کسی فوجی کی مدد لیجیے  ۔ زیادہ تر فوجی انگریزی بولنا جانتے ہیں۔

گاڑیاں کرائے پر لینا

اسلام آباد میں سائیہ رائیڈرز سے 1500 یومیہ پر موٹر بائیک حاصل کی جا سکتی ہے۔ بائیک پاکستان میں سب سے آسان اور سہولت مند طریقہ ء سفر ہے۔ بسوں میں آرام دہ سفر نہیں کیا جا سکتا اور ٹیکسیاں بہت مہنگی ہیں۔ کچھ شکی پولیس افسران اور آرمی حضرات بھی غیر ملکیوں کو دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں اور بار بار روکے جانے کے خدشات رہتے ہیں۔ کئی جگہوں پر آپ جیپ کرائے پر لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ جیپ والے کو پہلے بتائیں کہ جو آپ پیسے دیں گے ان میں پٹرول بھی شامل ہے۔

پاکستان ٹریول گائیڈ، ملک میں داخلے اور نکلنے کی جگہ

پاکستان چار  ممالک کے ساتھ بارڈر شئیر کرتا ہے۔ جن میں بھارت، ایران، چین اور افغانستان شامل ہیں۔

ذیل میں میں آپ کو وہ سب بتاوں گا جو میں جانتا ہوں۔

پاکستان سے ایران بارڈر کراسنگ آسان لیکن طویل معاملہ ہے۔اس معاملے میں میرے دوستوں الیکس اور سبیسشین نے ایک اہم رپورٹ  تحریر کر رکھی ہے جس  کا عنوان ہے 'لاسٹ وِد پرپوز'۔

پاکستان اور بھارت کے بیچ بارڈر کراسنگ بہت آسان ہے۔ میں نے اس مقصد کےلیے واہگہ بارڈر کا انتخاب کیا تھا۔ پاکستان سے بھارت کا ویزا حاصل کرنا بہت مشکل اور جان جوکھوں کا کام ہے۔ میں نے 6 ماہ کے ویزہ کی درخواست دی لیکن صرف 6 ہفتے کا ویزا مل سکا۔تین دن سفارت خانے کے چکر لگانے کے بعد مجھے پاسپورٹ واپس ملا ۔ پہلے لاہور سے اپلائی کرنا پڑتا ہے وہاں سے آپ کا پاسپورٹ اسلام آباد بھیجا جاتا ہے ۔ اسلام آباد میں بھارت کے ویزے کےلیے درخواست نہیں دے سکتے۔ میری رائے میں آپ پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے بھارت کا ویزا لیں تو بہتر ہے ۔ پاکستان میں موجود بھارتی سفارت خانے میں سارے احمق بھرتی کیے گئے ہیں۔

اگر آپ کے پاس چین کا ویزا ہے تو پاکستان سے چین جانا بلکل مشکل نہیں ہے۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ پاکستان میں موجود ہوتے ہوئے چین کا ویزا حاصل کرنا کتنا آسان یا مشکل ہے لیکن چونکہ دونوں ممالک کے بیچ تعلقات بہت اچھے ہیں اس لیے مجھے لگتا ہے کہ زیادہ مشکلات پیش نہیں آتی ہوں گی۔

پاکستان اور افغانستان کے بیچ بارڈر کراسنگ واضح نہیں ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا لیکن معلوم ہوا کہ آج کر سکیورٹی اہلکار بارڈر پار کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور اگر آپ پار نکل بھی جائیں تو وہاں آپ خطرے میں ہی رہیں گے کیونکہ وہاں استحکام نہیں ہے۔ اگر آپ افغانستان جانا بھی چاہیں تو بہتر ہے تاجکستان والی سائیڈ سے جائیں۔

مزید معلومات کے لیے میں تجویز دوں گا کہ آپ کاروانستان کی طرف بڑھیں ۔ جب میں خود بارڈر کراسنگ اور ویزا کے حصول کی خواہش رکھتا ہوں تو اس ویب سائیٹ کا انتخاب کرتا ہوں۔

پاکستان میں ٹریول انفارمیشن اکثر بدلتی رہتی ہے۔ میں 2017 میں واپس اپنے ملک جاوں گا اور اس پیج کو اپ ڈیٹ کرتا رہوں گا۔

ابھی تک آپ کو یقین نہیں آیا؟ مندرجہ ذیل 10 وجوہات آپ کو پاکستان کی سیر پر مجبور کر دیں گی۔

اگر آپ اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ پاکستان کی سیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو 'بروک بیک پیکر ایڈونچر ٹورز' سے رابطہ کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *