’’سہمے اور دبکے ہوئے ‘‘وزیراعظم کی قیادت میں

raufرؤف طاہر

 اہل سیاست اپنے ذاتی وجماعتی مفادات اور سیاسی و مسلکی تعصبات سے بالاتر ہوگئے۔ آٹھ دِنوں کے اندر دو آل پارٹیز کانفرنسیں، دونوں ہنگامی طور پر بلائی گئیں اس کے باوجود وہ سب کھنچے چلے آئے۔ 24دسمبر کی کانفرنس 11گھنٹے جاری رہی۔ فوجی افسروں کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام سے اتفاق آسان نہ تھا۔ جمہوری معاشروں میں ایسی عدالتیں پسندیدہ نہیں ہوتیں۔ کانفرنس میں ہر طرح کی جماعتیں موجود تھیں۔ وہ بھی جو آمریتوں کے مختلف ادوار میں مزاحمت کا شاندار ریکارڈ رکھتی ہیں،جو سول ملٹری ریلیشن شپ کے حوالے سے بھی بہت حساس رہی ہیں۔ آئین کی عملداری ، عدلیہ کی آزادی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے لئے ان کی جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے۔ خود وزیراعظم نے بھی ماضی میں اس کا خمیازہ بھگتااور اس کے باوجود وہ اپنے ’’آئینی مؤقف ‘‘ پر آہنی عزم کے ساتھ ڈٹے رہے لیکن غیر معمولی حالات میں معمول کے اقدامات کام نہیں آتے۔ ایسے میں غیر معمولی اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ، دُنیا کی باقی اقوام کے ساتھ امریکیوں کا رویہ جو بھی رہا ہو، وہ خود اپنے معاشرے میںاس حوالے سے بہت حساس رہے ہیںلیکن نائن الیون کے بعد کا امریکہ ایک مختلف امریکہ ہے۔ کسی دوسرے نائن الیون سے بچنے کے لئے انہوں نے ہوم لینڈ سکیورٹی کے حوالے سے غیر معمولی اقدامات کئے۔ وہ پیٹریاٹ ایکٹ لائے نائن الیون سے پہلے جس کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ذاتی زندگی(پرائیویٹ لائف)کا تحفظ امریکیوں کے لئے ’’مذہبی تقدس ‘‘ رکھتا تھا، لیکن پیٹریاٹ ایکٹ کے بعد امریکی ایجنسیوں کو پرائیویٹ لائف میں مداخلت کا حق بھی مل گیا۔ کبھی ’’واٹرگیٹ‘‘(صدارتی انتخاب کے دوران ڈیموکریٹس کی جاسوسی کا اسکینڈل )نکسن جیسے صدر کو لے ڈوبا تھا لیکن نائن الیون کے بعد ایجنسیوں کو امریکیوں کی ای میلز، ان کی ٹیلیفون کالز تک مانیٹر کرنے کا اختیار مل گیا۔ اب وہ ان کی ’’پرائیویٹ لائف‘‘ پر بھی نظر رکھ سکتی تھیں۔
25دسمبر کی دوپہر، خواجہ سعد رفیق لاہور ریلوے سٹیشن پر اخبار نویسوں کے درمیان تھے۔ اس موقع پر فوجی افسروں کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی بات بھی ہوئی، ’’آپ کے والدتمام عمر جمہوری آزادیوں کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور اسی میں اپنی جان سے گزر گئے۔ خود آپ کو بھی مشرف آمریت کے دور میں ابتلا و آزمائش کے مختلف مراحل کا سامنا رہا۔اب فوجی عدالتوں کے قیام پر آپ کا تبصرہ‘‘؟ ایک چبھتا ہوا سوال تھا لیکن خواجہ جذباتی نہیں ہوا۔ پُرسکون لہجے میں اس کا جواب تھا،’’فوجی ادوار کی خصوصی عدالتیں سیاسی مخالفین کے گرد شکنجہ کسنے کے لئے قائم ہوتی تھیں۔ جن عدالتوں کی آپ بات کررہے ہیںیہ ایک منتخب حکومت کے دور میں، تمام سیاسی قیادت کے اتفاق رائے سے وجود میں آرہی ہیں۔ محدود مدت کے لئے مخصوص مینڈیٹ کے تحت وجود میں آنے والی یہ عدالتیں، ماضی کی فوجی عدالتوں سے مختلف ہوں گی۔ یہ جمہوریت پسندوں کے لئے نہیں، دہشت گردوں کے لئے قائم کی جارہی ہیں‘‘۔
کانفرنس سے وزیراعظم کے افتتاحی خطاب کو میڈیا نے براہِ راست نشر کیا ۔اِن کا کہنا تھا: ساری قوم کی نظریں ہم پر لگی ہوئی ہیں۔ قوم کمزور اور لولے لنگڑے فیصلوں سے مطمئن نہیں ہوگی۔ ہمیں سخت فیصلے کرنا ہوں گے، ان کے خلاف جو پاکستان کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، جن کے سینوں میں دل نہیں پتھر ہے، جو معصوم لوگوں کی ، پھول سے بچوں کی جانیں لیتے ہیں۔‘‘
سیاسی قیادت تعصبات سے بالاتر ہوچکی تھی، قوم یکسو تھی، اہلِ دانش کی غالب اکثریت کو بھی اس فیصلہ کن مرحلے پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس تھالیکن ہمارے کچھ دوستوں کا رویہ مختلف تھا۔ وہ اہلِ سیاست کو بے عملی اور بے حسی کا طعنہ دے رہے تھے۔ وزیراعظم اِن کا خصوصی ہدف تھے۔ اِن کا کہنا تھا، اصل فیصلے تو جنرل راحیل کر رہے ہیں، ماضی میں جنرل کیانی کے خود ساختہ ترجمان اب جنرل راحیل کے ترجمان بننے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ خود جنرل راحیل اور ان کے رفقاء ، منتخب وزیراعظم سمیت قومی سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم چلنے کی بات کر رہے تھے۔
کوئی بھی جنگ ساری قوم کے خوش دلانہ تعاون اور اس کی پرجوش تائید و حمایت کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی اور دہشت گردی کی یہ جنگ تو ویسے بھی روایتی جنگوں سے مختلف ہے، پیچیدہ ہے، مشکل تر ہے، جس کا محاذ پورے ملک پر محیط ہے۔ جس میں دشمن صرف سرحد پر نہیں ہوتا، وہ کسی بھی گلی، کسی بھی بازار، کسی بھی دفتر ، کسی بھی تعلیمی ادارے، کسی بھی سرکاری تنصیب پر ہوسکتا ہے۔ یہ Initiative بھی اس کے پاس ہوتا ہے کہ اسے کب، کہاں اور کس قسم کا وار کرناہے؟ لیکن ہمارے ایک سینئر دوست نے لکھا: یہ جنگ صرف فوج کو لڑنا ہے۔ ہمارے پسندیدہ تجزیہ کار(اور منفرد کالم نگار) موجودہ قیادت کو ’’سہمی اور دُبکی ہوئی قیادت‘‘ قرار دے رہے تھے۔وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اس فیصلہ کن مرحلے پر سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے اور قومی اتفاق ِ رائے سے فیصلے کرنے پر ناخوش ہیں۔ ان کا استدلال ہے، کسی میگاپراجیکٹ کے بارے میں مشاورت کی جاتی ہے، نہ اعتماد میں لیا جاتا ہے، نہ قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی بکھیڑ میں پڑتے ہیں تو اب اس سب کچھ کا اہتمام کیوں؟ تو کیا فاضل کالم نگار دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بھی موٹروے، میٹروبس ، فلائی اوور اور انڈرپاس جیسا منصوبہ سمجھتے ہیں؟ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ اتنی آسان ہے کہ اس کے لئے قوم کی اجتماعی دانش سے استفادہ کرنے اور ساری سیاسی قیادت کو اس کی اونرشپ میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں؟
سانحہ ٔ پشاور سے اگلے ہی روز(17دسمبر کو) صوبہ پختونخوا کے گورنر ہاؤس میں منعقدہ قومی کانفرنس میں، پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تجویز خود عمران نے پیش کی تھی، کانفرنس کے سبھی شرکاء کو اس سے اتفاق تھا۔ کہنے والوں نے کہا، کمیٹیا ں تو وقت گزاری کے لئے، مسائل کو ٹالنے کے لئے ہوتی ہیں۔ اس کمیٹی کو صرف سات دن دیئے گئے تھے اور اس نے اِن سات دنوں میں اپنا کام مکمل کر دکھایا۔ وزیراعظم کے لئے یہ کانفرنس کتنی اہم تھی اور وہ اِسے کس سنجیدگی سے لے رہے تھے، اس کا اندازہ ، ایک روزقبل وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے خصوصی اجلاس سے کیا جاسکتاتھا۔ وزیراعظم نے معمول کی تمام سرگرمیاں معطل کر کے ، یہ سارادِن قومی ایکشن پلان کی تیاری کے لئے سیاسی و عسکری قیادت سے صلاح مشورے میں گزارا تھاجس میں وزیراعظم کے سیاسی رفقاء کے علاوہ جناب جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی سمیت اعلیٰ عسکری قیادت بھی شریک تھی۔ یہ دبکا اور سہما ہوا وزیراعظم نہیں تھا، نتائج سے بے پروا وزیراعظم کا کہنا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت میں خود کروں گا۔
24دسمبر کو گیارہ گھنٹے جاری رہنے والی کانفرنس کے فیصلوں سے قوم کو اور ساری دُنیا کو آگاہ کرنے کے لئے وزیراعظم رات گئے ٹی وی پر آئے جس کا ایک ایک لفظ عزم، اعتماد اور یقین سے بھرپور تھاجو قوم کو بھی ولولۂ تازہ دے گیا۔ 15جون کو آپریشن ضربِ عضب کے آغاز پر پارلیمنٹ سے وزیراعظم کے خطاب کو جوش و ولولہ سے عاری قرار دینے والے ہمارے دانشور دوست، وزیراعظم کے اس نشری خطاب کو بھی نیم دلانہ اور ٹھنڈا ٹھار قرار دے سکتے ہیں کہ اس میں ان کے منہ سے نہ کف نکل رہی تھی، نہ انہوں نے ایڑیاں اُٹھائیں، نہ میز پر مکے مارے، نہ بازو لہرائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *