علی محمد خان اور پی ٹی آئی کو پاکستان کی اساس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں

رضا حبیب راجاraza habib

کچھ دن پہلے ٹی وی پر میں نے ایک پینل ڈسکشن دیکھی جس میں تحریک انصاف کے قدامت پسند ایم این اے  علی محمد خان نے پاکستان کی تخلیق کے بارے میں اپنا اور اپنی پارٹی کا موقف بیان کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے اور سیکولر حضرات کو یا تو اپنی سوچ بدلنی چاہیے یا پاکستان سے چلے جانا چاہیے۔ اسی دوران انہوں نے تقسیم ہند کے وقت ہونے والے فساد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سب قربانیاں ایک اسلامی ملک حاصل کرنے کےلیے دی گئی تھیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ سب اعلانات ایک مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے رہنما ڈاکٹر رامیش کمار ونکانی کے ساتھ پینل میں بیٹھ کر کیے جس سے ان کا منفی اثر مزید بڑھ گیا۔ ان کے ان دعووں کو سننے کے بعد میں چاہتا ہوں کہ کچھ نکات ان کے سامنے پیش کروں۔

پہلی بات یہ ہے کہ اس گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی ری ایکشن کی سیاست کرنے والی جماعت ہے جو پاکستان کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتی۔ اگرچہ پی ٹی آئی ااور ن لیگ دونوں کو قدامت پسند جماعتیں قرار دیا جاتا ہے لیکن دونوں جماعتوں میں ایک ہلکا س فرق ہے ۔ ن لیگ نظریاتی لحاظ سے 2008 کے بعد سے ایک قدامت پسند پارٹی نہیں رہی۔ معاشی قدامت پسندی کے باجود یہ پارٹی اب مرکزی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں ن لیگ کی طرف سے بہت ہی پروگریسو قسم کے قوانین کے بل منظور کیے گئے ہیں جن میں وومن پروٹیکشن بل اور ہندو میرج بل خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

 ایک قدامت پسند حلقے سےانتخاب جیتنے کے باوجود نواز شریف ہندو اور احمدی اقلیت کے لوگوں سے ملتے جلتے دکھائی دیے ہیں۔ کچھ دن قبل ہولی کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے  مذہبی شدت پسندی پر تنقید کی  اور کہا کہ پاکستان مذہبی اجارہ داری کے لیے نہیں بنایا گیا تھا  بلکہ اس کے قیام کا مقصد  مذاہب کے بیچ برابری قائم کرنا تھا۔ اس تقریر کی وجہ سے بہت سے مذہبی طبقات اور قدامت پسند نظریات رکھنےو الوں کی طرف سے انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور پی ٹی آئی کے علی احمد خان صاحب کے بیانات کو بھی اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ماضی جیسا بھی رہا ہو، ن لیگ نے حال میں بہت اہم معامات پر پروگریشن کا مظاہرہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ٹرول بریگیڈ جو ہرلحاظ سے صرف پانامہ لیکس میں کھویا ہوا ہے کے لیے شاید یہ اچھا قدم نہ ہولیکن پاکستان کے لیے جو پچھلی چند دہائیوں سے نظریاتی لحاظ سے پستی کی طرف جا رہا تھا، یہ اقدامات بہت ہی خوش آئند اور اہم تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ن لیگ اتنی لبرل نہیں جتنی پی پی ہے جس کو میں سپورٹ کرتا ہوں اور جو پاکستان کی سب سے زیادہ لبرل جماعت سمجھی جاتی ہے اس لیے ن لیگ ایک حد سے آگے جانے کی ہمت نہیں کر سکتی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پارٹی نے ترقی کی راہ لے لی ہے۔

اس کے برعکس پی ٹی آئی نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ نظریاتی لحاظ سے ریگریسو پارٹی ہے۔ اس کے رہنما عمران خان نے ماضی میں ہارڈ لائنر حضرات کا ساتھ دیا اور ان کا ناجائز طریقے سے دفاع کرتے نظر آئے ہیں ۔ پی ٹی آئی کا جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد بھی اس چیز کا گواہ ہے کہ یہ ایک ریگریسو پارٹی ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کے بیچ کے پی کے میں اتحاد بھی صرف پراگمیٹک نہیں بلکل نظریاتی ہے جیسا کہ آپ کے پی کے نصاب میں تبدیلی کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔

 پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی میں پیش ہونے والے وومن پروٹیکشن بل کی بھی سختی سے مخالفت کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آٓئی نے بیرونی دنیا کے خوف اور بعد اعتمادی پر مبنی قومیت پسندی کو بھی سختی سے مسترد کیا ہے۔ علی محمد خان کے تازہ ترین بیان سے پارٹی کی رائے  میں کسی تبدیلی کا  کوئی نشان موجود نہیں ہے  اور اس سے یہی خوف بڑھتا نظر آتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہو گئی تو ملک آگے جانے کی بجائے پیچھے چل پڑے گا۔

دوسری چیز یہ ہے کہ یہ واضح ہے کہ نہ تو محمد خان اور نہ ہی پی ٹی آئی جماعت کے کسی بھی شخص کو تاریخ کا علم ہے۔ یہ کہنا کہ جناح پاکستان کو ایک مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے  بلکل سچ نہیں ہے کیونکہ پاکستان کا بنیادی مطالبات مسلمانوں کی معاشی اور سیاسی مفاد کا تحفظ تھے۔ اسی وجہ سے جناح نے بھی کیبینٹ مشن پلان 1946 سےاتفاق کیا تھا  کیوں کہ اس میں مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی۔ جناح یہ مانتے تھے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں  لیکن وہ ایک مذہبی ریاست کے قیام کے حامی نہیں تھے۔ بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما لال کشن ایڈوانی اور جسونت سنگھ جیسے سیاستدان بھی یہ مانتے ہیں کہ جناح ایک سیکولرسٹ انسان تھے۔

 دوسرے الفاظ میں پاکستان ایک ایسا ملک تھا جس کا مقصد مسلمانوں کا تحفظ تھا۔ جناح نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں اپنا مقصد بہت واضح الفاظ میں بیان کیا تھا۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: تم لوگ آزاد ہو، تم اپنی عباد ت گاہوں میں جا سکتے ہو، اپنی مساجد  اور دوسری اہم عمارات میں جا سکتے ہو۔ آپ کا مذہب ، ذات اور طبقہ کوئی بھی ہو اس کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ " بد قسمتی سے ان کی موت کے بعد پاکستانی لیڈر شپ نے مذہبی ریاست کے قیام کا راستہ چن لیا اور قرار داد مقاصد منظور کر لی گئی لیکن یہ جناح کا خواب نہیں تھا۔

محمد خان نے چھپے الفاظ میں سکولر لوگوں کو اسلام اور پاکستان کا دشمن قرار دیا۔ ہمارے نقطہ نظر میں  سیکولر ازم کو اتھیزم کے ساتھ ملایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس معاملے میں مذاکرات کا کوئی  چانس نظر نہیں آتا۔ سیکولرزم کا الحادیت سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی اس کا مذہب سے کوئی تضاد ہے۔ سیکولرازم اورسیکولرائزیشن کے بیچ ایک فرق ہوتا ہے۔ سیکولرزم مذہب کو ریاست کے کام سے علیحدہ کرتی ہے اور سیکولرائزیشن  ایسا عمل ہے جہاں مذہب  معاشرے میں اہمیت کھو دیتا ہے۔ سیکولر سٹیٹ  لازمی طور پر سیکولر سوسائٹی کی ضمانت نہیں ہوتی۔

 ایک ایسے معاشرے میں جہاں مختلف مذہب کے لوگ رہتے ہوں وہاں سیکولرازم کا ہونا بہت ضروری ہے تا کہ ریاستی عوامل کو مذہب سے علیحدہ رکھا جا سکے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگرچہ پاکستان کی 95 فیصد آبادی مسلمان ہے  جہاں مختلف فرقوں میں عوام بڑے ہوئے ہیں۔ یہاں شریعت کے نفاذ کے لیے سب فرقوں کو ایک پیج پر لانا بہت ضروری ہے۔ ایک سیکولر سٹیٹ کا کام  غیر جانبدار رہ کر تمام فرقوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور اس کے لیے تمام مذہب کےلوگوں کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے قانون سازی کرنا ہے۔

بد قسمتی سے محمد خان کے جذباتی  بیانات سے سیکولرازم کے بارے میں عوام کی غلط فہمی بڑھی  ہے ۔ جب پی ٹی آئی 2011 میں ایک مضبوط الیکٹورل فورس کے طور پر سامنے آئی تو امید پیدا ہوئی کہ یہ پارٹی پروگریسو اصولوں پر ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دے گی۔ بہت ہی بڑے وائٹ کالر کلاس کے سیاستدانوں کی معیت میں یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ پارٹی ملک میں بہتری لائے گی۔ لیکن بد قسمتی سے پارٹی نے نظریاتی اختلاف اور مسائل بڑھانے کےعلاوہ کچھ نہیں کیا۔ یہ پارٹی تاریخ کے غلط سائیڈ پر ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس پارٹی کو اگلے الیکشن میں بھی مسترد کر دیا جائے گا۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *