یہ لمحہ فکریہ ہے

roqaiya gazal

پاکستان کو فسا دیوں سے پاک کر کے رہیں گے ،جناب آرمی چیف آف پاکستان قمر باجوہ کے جاری ہونے والے ویڈیو پیغام نے بہت سے سوالات اٹھا دئیے ہیں کیونکہ ایسا پیغام پہلے کبھی بھی سامنے نہیں آیا مگر یوم پاکستان پر یہ پیغام وائٹ کالر کرائم اوردہشت گردوں کے لیے کھلا پیغام ہے کہ اب یقیناًان کوراستہ نہیں ملے گا ۔ضرب عضب کے بعد’’ ردالفساد‘‘ کامیابی سے جاری ہے اور اسی ضمن میں سینیٹ نے اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں میں دو سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے پہلے سیاسی جماعتوں کو اس پر اعتراضات تھے مگر اب نیم رضامندی دکھائی دے رہی ہے ویسے ’’اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ ‘‘۔۔کہ ابھی ایوان بالا سے منظوری باقی ہے ۔
اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ جمہوری قوتیں کبھی بھی ملٹری دباؤ برداشت نہیں کر تیں مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں اکثر سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن)کی بڑھتی ہوئی ہٹ دھرمی،تشہیر پر مبنی منصوبہ بندی اور اپنوں پر کی جانے والی بے پناہ نوازشوں سے ناراض نظر آتی ہیں اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جو اب تک فرینڈلی اپوزیشن کا علم اٹھائے ہوئے تھی وہ بھی ان کے مخالف نظر آرہی ہے کہ جناب آصف علی زرداری کا انٹرویو بے انتہا غصہ اور لا تعلقی کا اظہار کر رہا ہے جس میں انھوں نے حکومت پر کڑی تنقید کی ہے اور نیب کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ایان علی کا نام لیکر مجھے بدنام کیا گیا جبکہ میرا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، چئیر مین نیب کی کیا مجال کہ وہ میرے خلاف کیس بنائے ،میں نے میاں صاحب کو نہیں جمہوریت کو سپورٹ کیا تھااوروہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ،میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ میرے خلاف کیا کیس بنائیں گے ایسا نہ ہو کہ وہ سیف الرحمن کی طرح میرے پیروں میں گر کر معافی مانگیں اپنی بات کو بڑھاتے ہوئے انھوں نے کہا یہ تھریٹ میں حکومت اور وزراء کو کر رہا ہوں کیونکہ میاں نواز شریف حکومت میں آنے کے بعد بہت تبدیل ہوگئے ہیں اور سیاسی شیر کا شکار کرنے کے لیے میں اور بلاول بھٹو پارلیمینٹ جائیں گے۔
بظاہران باتوں سے یہی گمان گزرتا ہے کہ دوست دوست نہ رہا ،پیار پیار نہ رہا ۔۔زندگی ہمیں ترا اعتبار نہ رہا! اور محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا جمہوری معاہدہ ٹوٹ چکا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے مطابق حکومت نیب کا ادارہ سیاسی انتقام کے لیے استعمال کر رہی ہے کیونکہ ان کے بقول نیب کا دائرہ کار اور ایکشن پیپلز پارٹی سے شروع ہو کر پیپلز پارٹی پر ختم ہوجاتا ہے جیسا کہ شرجیل میمن نے بھی کہا ہے کہ اگر میرا احتساب ہوگا تو میرے پیٹی بند بھائیوں کا بھی ہوگا کیونکہ حکومت نیب کو انتقامی کاروائی کے لیے استعمال کر رہی ہے ویسے پیپلز پارٹی اس معاملے میں کسی حد تک حق بجانب بھی ہے کیونکہ جب پنجاب میں نیب سرگرم ہوا تھا تو میاں صاحب نے آڑے ہاتھوں لیا تھا اور کہا تھا کہ پگڑیاں نہ اچھالیں یہ کسی کے لیے مناسب نہیں ہوگا تو نیب نرم پڑگیا مگر اب مسلم لیگ ن کا مؤقف یہ ہے کہ سب کا احتساب ہونا چاہیے اور جناب آصف زرداری کا کہنا ہے کہ وقت بدلنے والا ہے اور۔۔۔
تجدید عہد وفا میں یہ شرط رکھوں گا
کہ اب کہ بے وفا ئی میں کرونگا
ویسے احتسابی کاروائیاں ضروری ہیں مگر ان کاروائیوں کی حقیقت کیا ہے یہ بھی تا حال معمہ ہے کیونکہ ایان علی ملک سے باہر جا چکی ہیں اور مئیر کراچی وسیم اختر بھی تمام سنگین مقدموں سے بری ہو چکے ہیں ،ڈاکٹر عاصم بھی تمام الزامات سے تقریباًبری ہونے والے ہیں ایسے میں یہ تمام بیانات خان صاحب کو چکما دینے اور قوم کو لالی پاپ دینے کے مترادف ہیں مگر اب عوام باشعور ہو چکے ہیں اور ان سیاسی پینتروں کو سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب ہر کوئی کہتا ہے کہ ’’وہ آئیں تو سر مقتل تماشا ہم بھی دیکھیں گے ‘‘۔حالات اور اداروں کے محدود دائرہ کار کو بھانپتے ہوئے جماعت اسلامی نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے’’ ردالفساد‘‘ کے ساتھ ساتھ’’ ردالکرپشن‘‘ کا مطالبہ کر دیا ہے ان کے مطابق ملک سے نظریاتی کرپشن ،معاشی کرپشن اور جمہوری کرپشن ختم کرنے کی ضرورت ہے اور بلاشبہ اگر اس نعرہ کو عملی پیرائی نصیب ہو جائے تو بہت بہتر ہو سکتا ہے مگر یہ سب نعرے ہیں
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو پاکستانی سیاست میں دو پارٹیاں نمایاں نظر آتی ہیں اور یہ دونوں ہی ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں اور نمائشی طور پر کرپشن کیسسز سمیت لاتعداد مقدمات میں نامز د ہیں تاہم پیپلزپارٹی کی قیادت اور ن لیگ شروع دن سے تمام کرپشن کیسسز کو جھوٹا ۔من گھڑت اور سیاسی انتقامی کاروائی کا نتیجہ قرار دیتی آئی ہیں پیپلز پارٹی کے قائدین کا جو مؤقف 2013 میں تھا وہی آج ہے کہ آصف زرداری اور ان کے اہم رفقاء کے خلاف جھوٹے کیسسز کھولے جا رہے ہیں مگر مقدمات کھولنے والوں کو پھر شرمندگی ہوگی اور معافی مانگنا پڑے گی ۔جذباتی جوش خطابت کے معاملہ میں تو میاں صاحبان کا بھی کوئی ثانی نہیں ہے کہ زرداری صاحب نے قدموں پر گرانے کا کہا ہے تو خادم اعلیٰ نے سڑکوں پر گھسیٹنے کا عندیہ دیا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کا منشور بذات خود ان کی کار کردگی کی ضد ہے کہ بی بی شہید کے مطابق جمہوریت بہترین انتقام ہے اور میاں صاحب کہتے ہیں کہ اقتدار عوام کی امانت ہے ۔جس میں خیانت کا مقدمہ زیر التوا ہے ۔۔امانت سے یاد آیا کہ چند دن پہلے وزیراعظم پاکستان اپنے خطاب میں سابق جنرل پرویز مشرف کا تذکرہ کرتے ہوئے مکافات عمل کا بتا رہے تھے کہ آج ان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ان کے کیے کاہی بدلہ ہے اور دنیا مکافات عمل ہے ایسے میں سادہ لوح عوام سوشل میڈیا پر یہ شئیر کرتے دکھائی دئیے کہ
کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں
عجب اپنا سفر ہے فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں
وہ جس کی روشنی کچے گھروں تک بھی پہنچتی ہے
نہ وہ سورج نکلتا ہے نہ اپنے دن بدلتے ہیں
تو قصہ مختصر کہ رد الفساد کی کامیابی کا تو ہمیں یقین ہے کیونکہ ہمیں اپنی پاک افواج پر یقین ہے کہ اگر وہ ڈٹ جائیں تو دنیا کی کوئی قوت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی مگر ردالکرپشن پر تحفظات ہیں کہ ’’بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا ‘‘اول تو کرپٹ عناصر کی نشاندہی مشکل ہے اور دوئم ایسے تمام با اثر افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے کیونکہ اس تالاب میں سبھی ننگے ہیں اور یہ کرپشن کا زہر اوپر سے نیچے تک کینسر کی طرح اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے اور راقم نے پہلے بھی لکھا تھا اور آج بھی اس پر قائم ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کئی دہائیوں تک ناممکن ہے چونکہ جمہوری نظام شفافیت سے خالی ہے لیکن اگر اس کرپٹ نظام کی گھتیاں نہ سلجھائی گئیں تو اس قوم کو خسارے سے کوئی نہیں بچا سکتا کیونکہ کرپٹ سسٹم ظالم کو برتری دیتا ہے اور آئین سے استشنا حاصل ہوجاتا ہے جس میں غریب غریب سے غریب تر اور امیر امیر سے امیر تک ہوتا چلا جاتا ہے کہ ایسا ظالمانہ نظام ریاست کی موت ہوتا ہے ۔
حیران ہوں کہ جو بھی عدالتی فیصلہ التوا کا شکار ہوتا ہے یا ابھی سماعت چل رہی ہوتی ہے تو چند حکومت ہم خیال صحافی اور مبصرین فوراً الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیان داغ دیتے ہیں کہ فیصلہ ہوچکا ہے اور خان صاحب ہمیشہ کی طرح فیصلے کو الجھا رہے ہیں یا ماننے سے انکار کر رہے ہیں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں اچھا مؤثر اور احتسابی آئین نام کی بھی کوئی چیز ہے جو کہ ابھی فعال ہے یہ الگ بات کہ کبھی کسی طاقتور،سابق یا برسر اقتدارکو کبھی کوئی سزا ملی ہومگر جن کے ہاتھ میں ترازو ہے انھیں بھی آخرت میں جواب دینا ہے وہ بھی خوف خدا رکھتے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ ہرسچ مصلحتوں پر قربان ہوچکا ہے کیونکہ ایک مدت سے اگر ایسا ہی ہے کہ سپریم کورٹس میں خواص کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے والوں اور بے بنیاد مقدمات درج کر کے انتقامی تفتیش کرنے والے اداروں میں سے کسی ایک کو ذمہ دار ٹھہرا کر کونسی سزائیں ہیں جو اہم اور سنگین مقدمات میں دی گئی ہیں اگر یہ سب کچھ نمائشی ہے تو کیوں بلاوجہ ملک و ملت کے ذرائع ،وقت ضائع کر کے پاکستانیت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے یہ لمحۂ فکریہ ہے اور قوم کے ساتھ کھلا مذاق ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *