مہارانی جودھا بائی ہندو نہیں بلکہ عیسائی تھیں ، بھارتی تاریخ دان کا دعویٰ

26

لاہور ۔ پرتگالی نژاد بھارتی تاریخ دان نے دعویٰ کیا ہے کہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کی اہلیہ جودھا بائی ہندو راجپوت شہزادی نہیں بلکہ ایک پرتگالی قیدی تھی ، جسے مغل اعظم کے دربار میں پیش کیا گیا اور وہ پہلی ہی نظر میں اس عیسائی لڑکی کے حسن کے اسیر ہو گئے۔
پرتگالی نژاد بھارتی تاریخ دان لوئس کورئیا نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ خونی جنگوں میں فتح کو گلے سے لگانے والے اکبر بادشاہ پہلی نظر میں جس کی زلفوں کے اسیر ہوئے وہ جودھا بائی نہیں بلکہ ایک پرتگالی قیدی ڈونا ماریہ تھی۔تاریخ دان کا دعویٰ ہے کہ بادشاہ اکبر کی مہارانی جودھا بائی ہندو نہیں بلکہ عیسائی تھیں ، جودھا کا اصل نام "ڈونا ماریہ " تھا وہ اپنی بہن "جولیانا " کے ساتھ سمندری سفر پر نکلیں ، جہاں ہندوستان کے پانیوں میں انہیں گجرات کے حکمران نے گرفتار کر لیا،اٹھارہ سالہ ڈونا اور اس کی بہن کو گجراتی حکمران نے بادشاہ اکبر کے حضور بطور تحفہ پیش کیا اور مغل اعظم پہلی ہی نظر میں اس پرتگالی لڑکی کو دل دے بیٹھے اور بیاہ رچا لیا۔
مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ عیسائیوں کو یہ منظور نہ تھا کہ انکی ہم مذہب ایک مسلمان کے حرم میں رہے ، مسلمانوں کو بھی یہ گوارہ نہ ہوا کہ ایک فرنگی انکی مہارانی کہلائے ، اسی لیے یورپی اور درباری مورخین نے ایک فرضی کہانی گھڑ دی اور ڈونا ماریہ کو جودھا بائی کا نام دے دیا۔پرتگالی مصنف نے تحریر کیا ہے کہ اکبرنامہ میں بادشاہ اکبر نے اپنی بیوی جودھا اور تزک جہانگیری میں بادشاہ جہانگیر نے اپنی ماں جودھا کا کہیں ذکر نہیں کیا ،مصنف نے اپنے دفاع میں مزید کہا اگر جودھا راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتیں توان کی شان میں کئی قصیدے لکھے جا چکے ہوتے لیکن مغل تاریخ میں مورخین نے ایسا کچھ نہیں تحریر کیا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *