قیادت اور پالیسی سے تہی داماں بے سمت قوم

Photo-Ayaz-Amir-sb-2
مذہبی نعرے بازی ایک طرف رکھیں تو ہماری قومی کہانی میں کیا باقی رہ جاتا ہے؟ ہم اپنے آپ کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ بطور قوم ہماری سمت کیا ہے؟ ہم کس قسم کی ریاست کی تعمیر چاہتے ہیں؟ ان معاملات پر کوئی مربوط بیانیہ موجود نہیں، صرف بے ہنگم، بے ربط اور وقتی پالیسیاں ہیں، جیسا کہ (1) ہمار ا ایٹمی طاقت بننا ہمارے بچائو کے لیے ناگزیر تھا، (2) ہمیں بھارت کے بارے میں چوکس رہنا ہے کیونکہ ہماری قومی سلامتی کو بھارت سے خطرہ ہے، (3) ہمیں قرض لینے اور لیتے چلے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم بیرونی قرضوں کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتے، (4) ہمیں اپنی حفاظت کے لیے کسی بیرونی سہارے کی ضرورت ہے، پہلے یہ امریکہ تھا، اب چین ہے۔ کیا ان کے علاوہ کوئی اور قومی مقصد کسی کے ذہن میں ہے؟
تعلیم پاکستان کی ترجیح نہیں، یہ کبھی بھی نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک تعلیمی نظام درمیانے طبقے اور اشرافیہ کے لیے ہے، دوسرا دیہی طبقات کے لیے اور تیسرا مدرسوں کی صورت میں۔ صحت پاکستان کی ترجیح نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھاری جیب والوں کے لیے صحت کی بہترین سہولیات، اور باقی آبادی کے لیے خستہ حال سرکاری ہسپتال۔ ہم اپنا کوڑا کرکٹ تک اٹھانے سے قاصر ہیں، چنانچہ مہنگے داموں بیرونی پارٹیوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ لاہور اور راولپنڈی کے لیے ترکی جبکہ کراچی کے لیے ایک چینی کمپنی۔ اب تمام تعمیرات چینی کر رہے ہیں، تھر سے کوئلہ بھی وہی نکال رہے ہیں۔ جس میدان میں ہم کچھ کرنے کا ارداہ کر لیں، جیسا کہ ایٹمی طاقت بننا، تو وہاں ہم معجزانہ کارکردگی دکھا سکتے ہیں، لیکن ان سادہ سے معاملات کی انجام دہی یا تو ہمارے بس سے باہر، یا ہماری منشا کے خلاف ہے۔
کراچی کا کوڑے کا بحران اب اتنا ہی سنگین ہو چکا ہے جتنا بیروت کا۔ شہر کا نصف کوڑا ایک ہی چیز پر مشتمل ہے، پلاسٹک کے شاپنگ بیگ۔ اس سے چھٹکارا حاصل کرکے اس کی جگہ کاغذ کا بیگ استعمال کر لیں تو آپ کے نصف مسائل حل ہو جائیں گے، لیکن اس کی زحمت کون کرے؟ اس معاملے میں قوم کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے پلاسٹک بیگ سے آنے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ایسا کون کرے گا؟ فوج، ایئرفورس اور نیوی اس ضمن میں پیش رفت کرتے ہوئے اپنی چھائونیوں اور زیر کنٹرول علاقوں میں پلاسٹک بیگ کا استعمال ممنوع قرار دے سکتے تھے، لیکن نہیں، اُن کے لیے یہ مسئلہ اپنا وجود ہی نہیں رکھتا۔
فوج کی ترجیحات کو دیکھیں، یہ نام نہاد جہادی عناصر کے خلاف جنگ میں پوری طرح مصروف ہے لیکن اس کے باوجود یہ زیادہ سے زیادہ ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹیز بنائے چلی جا رہی ہے۔ اب گوجرانوالہ، کوئٹہ، ملتان اور بہاولپور میں بھی ڈی ایچ اے قائم ہوچکے ہیں۔ ڈی ایچ اے ایک کمرشل پروجیکٹ اور رئیل اسٹیٹ کے پرکشش بزنس میں کامیابی کا عملی اظہار ہے۔ جنرل کیانی کے دور سے کچھ پلاٹ شہدا کے خاندانوں کے لیے مخصوص کیے جاتے ہیں، لیکن یہ بہت کم حصہ ہے۔ ڈی ایچ اے خالصتاً کمرشل منصوبہ ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں یہ صورتِ حال دکھائی نہیں دیتی کہ فوج کی ہائوسنگ سوسائٹیز ہوں جنہیں آئینی تحفظ حاصل ہو۔ یہ اپنے اختیارات رکھنے والی اتھارٹیز ہیں، نہ کہ عام سوسائٹیز۔
رئیل اسٹیٹ بزنس کو جس طرح چلایا اور بڑھایا جا رہا ہے، یہ ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ اس شعبے کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر قوانین موجود ہیں اور نہ ہی اس کا بلا روک ٹوک پھیلائو روکنے کے لیے کوئی حدود طے کی گئی ہیں۔ یہ پاکستان کے چہرے کو مسخ کرنے کے علاوہ قیمتی زرعی زمین کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس وقت لامحدود پھیلائو رکھنے والا اسلام آباد ایک کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے۔ یاد رہے، یہ منصوبے غریب افراد کو رہائش فراہم کرنے کے لئے نہیں، بلکہ اشرافیہ اور درمیانے طبقے کے لیے ہیں۔ اس ضمن میں لاہور کے پھیلائو کی مثال چشم کشا ہے۔ ملک کے دیگر شہروں اور قصبوں کا بھی یہی حال ہے۔ کوئی بھی صنعت میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا، تمام رقم رئیل اسٹیٹ میں لگائی جا رہی ہے کیونکہ اس شعبے سے بھاری منافع حاصل ہوتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ پھیل رہا ہے، اسی طرح سیمنٹ کا شعبہ بھی بھاری نفع کما رہا ہے۔ کار سازی کی صنعت ہوا سے باتیںکر رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے پہلے سے ہی بھری ہوئی سڑکوں پر مزید گاڑیاں ہوں گی۔ میں معاشی علوم سے بہرہ مند نہیں، لیکن کیا کوئی معاشی ماہر مجھے بتا سکتا ہے کہ معیشت کے کون سے دیگر شعبے درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔
دراصل پاکستان کو قیادت کے سنگین بحران کا سامنا ہے، اس میں کوئی دو آرا نہیں۔ جب ذاتی مفاد کا معاملہ ہو تو ہماری حکمران اشرافیہ کو کوئی مات نہیں دے سکتا لیکن اپنی ذات سے باہر نکلتے ہی اُن کی تمام صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ اگر ہمیں قدرے بہتر اور کم خود غرض سیاسی اشرافیہ اور افسر شاہی سے واسطہ پڑتا تو شاید ہماری حالت کچھ بہتر ہوتی۔ اب ان رپورٹس پر کیا بات کی جائے کہ جنرل راحیل شریف، جو بلا مبالغہ ملک کے سب سے کامیاب آرمی چیف تھے، سعودی پرچم تلے نئی ذمہ داری اٹھانے پر آمادہ ہو گئے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ وہ یہ دلیل دیں کہ سعودی تعاون سے بننے والی نام نہاد اسلامی فورس کی قیادت کا مطلب سعودی ریاست کی ملازمت کرنا نہیں، لیکن لوگ الفاظ سے دھوکہ کھانے والے نہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے۔ اور یہ سروس کس چیز کے عوض کی جا رہی ہے؟
شمالی وزیرستان میں جہادی انتہا پسندی، اور لہولہان کراچی میں الطاف حسین کی پُرتشدد آمریت کے خلاف جنگ کرنے پر عام پاکستانیوں نے جنرل راحیل شریف کو محبت اور احترام کا حق دار سمجھا تھا۔ اگر کچھ مزید اعلیٰ مقاصد اُن کے پیشِ نظر ہوتے تو وہ اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد سیاسی کے میدان میں قدم رکھ دیتے۔ مجھے یقین ہے کہ اُن کا ایک ہیرو کی طرح استقبال کیا جاتا۔ لیکن، اگر میں کچھ زیادہ سخت الفاظ استعمال نہیں کر رہا، اُنھوں نے سعودی عرب کی پیش کش قبول کرتے ہوئے اپنی قدر و منزلت کو نقصان پہنچایا ہے۔
عمران خان بہت دیر سے سیاسی اکھاڑے میں تھے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ جیسے اچانک ان کی راہیں ہموار ہوتی جا رہی ہوں۔ اب راحیل شریف عوامی مقبولیت کے منظر سے اوجھل ہو چکے، اب کی تصاویر ٹرکوں کے پیچھے کبھی دکھائی نہیں دیں گی۔ اور شریف برادارن کو پاناما کے ڈرائونے خواب نے اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ اگر فیصلہ واضح اور دوٹوک آیا اور اُن کے خلاف ہوا تو خدا اُن پر رحم کرے۔ اب دیکھیں، نئے آرمی چیف نے کیا کیا؟ اُنھوں نے عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات نے پی ایم ایل (ن) کی صفوں میں تھڑتھلی سی مچا دی۔ میں ایک ایم این اے اور ایم پی اے رہا ہوں۔ اگر ایک ایس ایچ او بھی ہمارے سیاسی حریف سے ملے، چہ جائیکہ آدھی رات کو ملاقات ہو، تو ہم فکرمند اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ شریف برادران کیا سوچ رہے ہوں گے کہ ایک آرمی چیف‘ جنہیں اُنہوں نے اس عہدے کے دیگر طاقتور امیدواروں، جنرل ندیم اور جنرل رمدے ، پر ترجیح دی، نے آج اُن کے سب سے بڑے سیاسی حریف سے ملاقات کی؟ کون جانتا ہے کہ پاناما کا فیصلہ کیا ہو گا؟ لیکن شریف فیملی کے لیے اچھے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ کیا یہ موسمِ گرما اُن کی پریشانی کی حدت مزید بڑھائے گا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *