بدقسمتی سے برطانیہ متحدہ بانی الطاف حسین اور بعض بلوچ رہنماﺅں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کر رہا ہے ، مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ

1

اسلام آباد ۔ مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے برطانیہ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین اور بعض بلوچ رہنماﺅں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کر رہا ہے ۔

”ایکسپریس ٹریبیون “ کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر ) ناصر جنجوعہ نے پاکستان کے دورے پر آئے 7رکنی برطانوی پارلیمانی وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ ”یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ برطانیہ الطاف حسین اور بلوچ رہنماﺅں جیسے افراد کو ریاستی تعلقات پر فوقیت دیتا ہے “۔

سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے وفد کیسامنے خصوصی طور پر ایم کیو ایم کے بانی ، بھارت کیساتھ تعلقات ، مسئلہ کشمیر اور پاکستان کیلئے پانی بند کرنے کی مودی کی دھمکی کا معاملہ اٹھایاگیا۔ جنرل (ر ) ناصر جنجوعہ نے بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ خطے کی ناقص سیکیورٹی صورت حال کس طرح تیزی سے دباﺅ میں آرہی ہے اور عدم توازن سے دوچار ہے ۔”خطے کا عدم توازن پیچیدہ ہو رہا ہے جسے فوری طورپر بحال کرنے اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے ا س لیے برطانوی حکومت کو چاہئیے کہ متواز ن علاقائی اپروچ اختیار کرے “۔ دونوں ممالک کیلئے علاقائی اور عالمی مسائل پر تفصیلی مشاورت کیساتھ ساتھ برطانوی وفد نے دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے امور پر بھی تبادلہ خیا ل کیا ۔

مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان برطانیہ کیساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہے اس لیے ضرورت ہے کہ تعلقات کومستحکم بنانے اور مزید شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے دونوں اقوام میں افہام و تفہیم کو بہتر بنایا جائے ۔
انہوں نے برطانوی مہمانوں کو شدت پسندی ، تحریب کاری ، مسلم دنیا میں تنازعات ، پاکستانی قوم کی قربانیوں اور جذبے کے بارے میں بھی آگاہ کیا ۔ اس کے علاوہ شدت پسندی کے پھیلاﺅ میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی ۔
برطانوی وفد کے سربراہ نے کہا کہ برطانیہ دہشتگردی کیخلاف پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتا ہے ۔ وفد کے ارکان نے دہشت گردی کیخلا ف پاکستانی قوم کے جذبے کی تعریف بھی کی اور قربانیوں پر خراج تحسین پیش کیا :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *