اساتذۃ سے بد تمیزیاں، تربیت میں کمی کہاں؟

naeem ul rehman

استاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ قوم جو کچھ ہے اُسی کی بدولت ہے۔ بچے استاد کی ہی تقلید کرتے ہیں۔ استاد کا ہر معاشرے میں ایک مقام ہوتا ہے جس سے کسی کوانکار نہیں۔ استاد چاہے تو غلام قوم کو آزاد کروا سکتا ہے اور آز اد قوم کو غلام بنانا تو اس کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔
جب استاد اور طالب علم کے درمیان بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو ترقی یافتہ قومیں بھی تنزلی کی طرف محو سفر ہو جاتی ہیں۔ ایسا ہی کوئی منظر میرے وطن میں بھی ہے۔ استاد کا وہ مقام جو اس کا مقام قرون اولیٰ کے دور میں اور جو ماضی میں رہا ہے وہ کھو گیا ہے۔طالب علم اب سب کچھ اپنے آپ کو سمجھتا ہے اور اساتذہ کو نوکر سمجھتا ہے جو اس کے پیسے پہ پلتے ہیں۔ شاید طالب علموں کو یہ غلط فہمی پرائیویٹ اداروں کے نظاموں کی وجہ سے ہوئی ہے،جہاں طالب علم کو استاد سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیوں کہ طالب علم پیسے دیتا اور استاد ان سے پیسے لیتا ہے۔
آج کا طالب علم استاد کے اصل مقام کو بھول چکا ہے۔ اس کو اپنے اسلاف کے طریقے بھول چکے ہیں۔ اسے نہیں یاد کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت کے نزدیک استاد کا کیا مقام تھا۔ وہ ابو حنیفہ ؒ کے اس قول کو جانتا ہی نہیں کہ وہ اپنے استاد کے گھر کی طرف پاؤں کا رخ بھی نہیں کرتے تھے۔ آج کا طالب علم اساتذہ کے لیے کس قسم کے القابات استعمال کرتا ہے اور کس قسم کی گفتگو کرتا ہے یہ ہمارے لیے المیہ ہے۔
میرے نزدیک جو اساتذہ سے بد تمیزی کی وجہ ہے وہ گھر کا ماحول ہے۔ جیسا کسی کے گھر کا ماحول ہوتا ہے ویسا ہی اس کا کردار ہوتا ہے۔ اگر کوئی ڈاکو، چور اور کرپٹ بنتا ہے تو اس سب کا ذمہ دار اس کے اپنے گھر کا ماحول ہوتاہے۔ اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ گھر کا ماحول کیسا ہوتا ہے جو بچوں کو بد تمیزاور بے شرم بنا دیتا ہے؟ تو یہ بھی میں بتائے دیتا ہوں۔ محترم جس گھر میں نماز اور روزہ نہ ہو اس گھر کے بچے ایسے ہی بد تمیز ہوتے ہیں۔ جس گھر میں والدین اپنے بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر فحاشی و عریانی پر مبنی فلمیں دیکھیں تو اس گھر کے بچے کبھی بھی عزت دار نہیں ہوتے۔ جس گھر میں بچوں کے کردار سے زیادہ ان کے لباس کو اہمیت دی جائے تو وہاں اساتذہ اور حتیٰ کے والدین کے نافرمان بچے پیدا ہوتے ہیں۔ جس گھر میں مال حلال نہ آتا ہو اور زکوٰۃ ادا نہ کی جاتی ہو تو وہاں ایسی اولاد جنم لیتی ہے جو اساتذہ سے بد تمیزیاں کرنے والی ہوتی ہے۔ جس گھر میں بچے سے حقوق اللہ کے حوالے سے باز پرس نہ کی جائے تو وہاں حقوق العباد پورے کرنے والے بچے کبھی بھی جنم نہیں لیتے۔ جس گھر میں قرآن کی تلاوت کرنا تو درکنار سننا بھی یاد نہیں رہتا تو وہاں عزت دار، شرم والے اور حیا والے بچے پیدا ہوں میں نہیں مانتا۔ جن گھروں میں کنجروں کو ایز اے آئیڈیل پیش کیا جائے تو وہاں بد تمیز و بد قماش اور کنجر جنم لیتے ہیں،کبھی باحیا انسان پیدا نہیں ہوتے۔ جس گھر میں اسلامی تاریخ کے حوالے سے کبھی بھول کے بھی بات چیت نہ ہوتی ہو تو وہاں سلطان صلاح الدین ایوبی تو پیدا ہونے سے رہے۔ وہاں حضرت علی کے جانشین تو پیدا کبھی بھی نہیں ہوں گے۔
لگتا ہے میں کچھ زیادہ ہی بول گیا ہوں۔ لیکن اس پر میں ہر گز نادم نہیں ہوں۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ جس گھر میں نماز اور قرآن ہو گا اس گھر سے بد تمیز بچوں کا پیدا ہونا ہر گز ممکن نہیں۔
ارشاد ہوا:
ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر
بے شک نماز تنہا کر دیتی ہے ہر فحش اور برے کام سے
اور میرے اللہ سے کس کی بات سچی ہو سکتی ہے؟ نماز کا نہ پڑھنا ہی سب سے بڑا فیکٹر ہے جو بد تمیز اور فحاشی پسند بچوں کا سبب بنتا ہے۔ نماز اگر خود والدین پڑھیں گے تو اولاد بھی نمازی ہو گی۔ جب اولاد نمازی ہو گی تو فرمان بردار ہو گی۔ علم سے محبت کرنے والی ہو گی۔ اساتذہ کا احترام اس کے دل میں موجود ہو گا۔
اگر بچوں کو کارٹونوں کی بجائے سیرت رسول ﷺ پڑھائی جائے تو قسم اُٹھا کہ کہتا ہوں کبھی اولاد نافرمان نہیں ہو گی۔ اولاد والدین اور اساتذہ کا مقام جانتی ہو گی۔ وہ جانتی ہو گی میرے حضور ﷺ نے خود اپنے آپؐ کو معلم کہا ہے۔ اسے پتہ ہو گا کہ استاد بھی ایک باپ ہوتا ہے اور اس باپ کی کیسے قدر کی جانی چاہیے اور کیا اس کا مقام ہے۔
والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں میں حیا پیدا کریں۔ حیا سب سے بیسک چیز ہے۔ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام میں حیا کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اگر تجھ میں حیا نہیں تو جو چاہے مرضی کر
حیا تب ہی ختم ہوتی ہے جب نماز نہیں ہوتی۔ اور نماز تب ہی نہیں ہوتی جب گھر میں کوئی دین سے لگن نہ ہو۔ گھر میں دین سے لگن نہ ہونا والدین کی نا اہلی کا ثبوت ہے۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوئی کے ہر مسئلے کا حل اسلام میں موجود ہے اور اگر گھر میں اسلام نہیں ہے تو سارے مسائل کے ذمہ دار والدین ہی ہیں۔
ایسے بچے جو اساتذہ کے فرمان بردار نہیں ہوتے وہ والدین کے بھی فرمان برادر نہیں ہوتے۔ یہ وہی قوم ہوتی ہے جو والدین کو اولڈ ہاؤسز میں چھوڑتی ہے۔ خدارا اپنے بچوں کو اسلام سے محبت کی ترغیب دلائیں۔ ورنہ کل کو آپ اس کا انجام دیکھ لیں گے۔
آخر پہ ایک تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں:
تم بچوں کو حقوق اللہ ادا کرنے والا بنا دو وہ خود بخود حقو ق العباد ادا کرنے لگیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *